عارضی دنیا – جویریہ سعید




جب کوئی حسین مناظر کی تصاویر شئر کرتا ہے ۔ یا ان کے قصے کہتا ہے تو دیکھنے والوں کے دل میں ملے جلے جذبات پروان چڑھتے ہیں ۔ بلند و بالا برف پوش پہاڑ ، مختلف رنگوں کے پانیوں والے دور تک پھیلے عظیم الشان سمندر، گلیشئرز کے قریب سبز مائل نیلگوں جھیلیں، پھولوں سے ڈھکی وادیاں ، حسین سبزہ زار ، درختوں میں چھپا ٹھنڈے پانی کا چھوٹا سا جھرنا ، جھیل کنارے انگوروں کے باغات کے بیچ خوبصورت سا کاٹج ، دریا کنارے چھوٹا سا مکان ۔۔۔۔

ان مناظر کو دیکھنے سے آنکھوں کو تراوٹ ملتی ہے ، دل خوشی محسوس کرتا ہے ، اللہ تعالی کی صناعی پر عاجزی و محبت کا احساس پیدا ہوتا ہے، زندگی کے جھمیلوں میں گھرے پریشان دل و دماغ میں سکون ، خاموشی اور فطرت سے قربت کے کھوئے ہوئے احساسات سر اٹھانے لگتے ہیں۔ ہمیں یاد آتا ہے کہ ہم بھی سکون، خاموشی، امن اور فطرت سے قربت کے کس قدر خواہاں ہیں ۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک اور جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ حسرت ، جھنجلاہٹ اور چڑچڑا پن ۔ جو دیکھ آیا ہے وہ ہم کو یہ دکھا کر یا بتا کر کیا جتا رہا ہے۔ آپ کتنے خوش قسمت ہیں کہ آپ نے اپنی آنکھوں سے اس حسین منظر کا مشاہدہ کیا۔ اور ہمیں اس کا موقع نہ مل سکا۔ کاش ہم بھی اسے دیکھ آئیں ۔ یہ کس قدر پر سکون اور شاد آباد زندگی گذار رہے ہوں گے ۔ اور ہم کن برے حالوں میں پڑے ہیں۔ کسی حسین منظر کی معیت میں کچھ یا بہت سا وقت گذارنا بلاشبہ اللہ کی ایک نعمت ہے ، جس کا وہ سوال بھی کرے گا ۔

مگر میں ایک بات آپ کو بتانا چاہتی ہوں۔ ایسے مناظر کے براہ راست مشاہدے سے بلاشبہ خوشی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں مگر یقین کریں بے کلی نہیں جاتی۔ سرشاری کی کیفیت میں بھی عجب بے گانگی اور فاصلے کے ساتھ اداسی کا احساس رہتا ہے۔ آبادی سے دور پہاڑوں کے بیچ یا سمندر کنارے درختوں کے جھنڈ میں اس قدر حسن اور سکون سے میرا کیا تعلق ہے؟ یہ منظر زمانوں سے یہاں موجود ہے اور میری حیثیت ایک مسافر کی سی ہے۔ میں اس کو اپنے اندر سمو نہیں سکتی، اپنے ساتھ لے جا نہیں سکتی، چاہ کر بھی اس کا حصہ نہیں بن سکتی۔۔۔ یہاں ایک جھونپڑا ڈال بھی لوں (جو زمانوں سے میری شدید خواہش ہے) تب بھی زندگی بے وفا ہے۔ چند برسوں کے بعد مجھے موت کے ہاتھوں میں چھوڑ کر لاپروائی سے کسی اور سمت نکل جائے گی۔ میں کئی حسین ویرانوں سے انہی ملے جلے جذبات سے گذری ہوں۔ ایک بے پایاں خوشی کے ساتھ اتھاہ اداسی کے احساس میں غرق ……

میرے لیے ایسے کسی منظر کو آنکھوں سے دیکھنا بھی ویسی ہی حسرت اور اداسی کا احساس اجاگر کرتا ہے جیسا کسی کو کسی اور کی کھینچی ہوئی تصویر یا بیاں کی گئی منظر کشی کو پڑھ کر یا سن کر ہوتا ہوگا۔ حسین، قیمتی اور آرام دہ چیزیں بلاشبہ اچھی لگتی ہیں، لیکن ان کی طرف رغبت کا احساس ختم ہوگیا ہے۔ دنیا عارضی ہے۔ اور اس کی خواہش کرنا بڑی بے وقوفی ہے۔ جن کے پاس ہے ، ان کے پاس بھی کب تک ہے۔ اور جن کے پاس نہیں ہے، وہ بھی کب تک محروم ہیں۔۔۔

وعن أَنسٍ : أَنَّ النبيَّ ﷺ قَالَ: اللَّهُمَّ لا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الآخِرَةِ متفقٌ عَلَيْهِ.

اپنا تبصرہ بھیجیں