راول کا پنڈ , راولپنڈی – سمیرا امام




یہ راولپنڈی ریلوے اسٹیشن ہے۔ اس نے جھکا ہوا سر اٹھا کے ریلوے اسٹیشن کی پرانی عمارت کو دیکھا۔ ویسی ہی تو تھی ‘ بالکل ویسی، جب وہ اسی کی دہائی میں اماں حضور کے ساتھ کراچی گئی تھیں تب بھی عمارت ایسی تھی۔ لیکن ایسا لوگوں کا یہ اژدھام تب موجود نہیں تھا۔ کہیں کوئی اکا دکا نظر آتا۔ جس بینچ پہ اماں کے ساتھ بیٹھے وہ ریل گاڑی کے آنے کا انتظار کر رہی تھی اسی بینچ سے کچھ فاصلے پہ ایک جالی دار تین خانوں والا بڑا سا ڈبہ پڑا تھا، جیسے کوئی تین منزلہ عمارت ہوا کرتی ہے۔

تینوں خانوں میں بڑے بڑے پھن والے کالے سانپ پڑے تھے۔پاس ہی چند اشخاص کا عملہ انھیں وقتاً فوقتاً چیک کیا کرتا۔ ڈر اور خوف سے اسکی گھگھی بندھ گئی تھی۔ اس نے اماں سے کہا وہ کراچی چھوٹے ماموں سے ملنے نہیں جائے گی، یہ سانپ بھی کراچی لے جائے جا رہے ہیں۔ اسکی چیخ پکار سن کر اسی عملے کے ایک شخص نے سمجھایا تھا، بیٹی یہ سانپ تو لیبارٹری لے جائے جارہے ہیں جہاں ان پہ تحقیق ہوگی اور ان سے ادویات بنائی جائیں گی لہذا اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ۔ اس شخص کی تسلی اور اماں کے لاڈ نے اس کے ذہن سے سانپوں کے خوف کو محو کر دیا ۔ اس کا جی بہلانے کے واسطے اماں نے ٹین کا بندر اور پھلوں والی جیلی بھی خرید کر دی تھی ۔ اللہ اللہ کیسی مہنگی چیزیں ہوا کرتی تھیں ۔

اور تب جب وہ ریلوے اسٹیشن میں داخل ہو رہے تھے تو باہر جالی دار دروازے کے ساتھ ڈھیروں لال رنگ کے دھاگے بندھے دکھائی دیے ۔ ان ہی دھاگوں کے ساتھ ایک چھوٹی سی الماری نما جگہ میں ایک چراغ روشن تھا جس کے پاس سرسوں کا سنہری چمک والا تیل ایک چھوٹے سے مٹی کے برتن میں پڑا تھا اور پاس ہی دوسرے برتن میں نمک موجود تھا ۔ اماں نے بتایا تھا جمعرات کے دن یہاں عورتیں اپنی منت کا دھاگا باندھتی ہیں اور چراغ کا تیل دے جایا کرتی ہیں لیکن یہ ضعیف الاعتقادی ہے بٹیا، ایسا کبھی مت کرنا اور چھ سالہ بیٹی نے بلا سوچے سمجھے سر ہلا دیا تھا ۔ آج بھی جمعرات ہی کا دن تھا ۔ اس نے دیکھا تھا باہر عورتیں کھڑی تھیں جن کے ہاتھوں میں دھاگے تھے ۔ جانے کون کیا منت مانگتی ہو؟

اور وہ دن بھی جمعرات کا تھا جس دن اسکا بیاہ ہوا تھا ۔ ابھی چند ہی روز پہلے کی تو بات ہے وہ بیاہ کے کراچی چلی گئی ۔ ہوائی جہاز میں بیٹھ کر جب وہ جیٹھ اور ساس کے ہمراہ تین گھنٹوں میں کراچی پہنچی تو میکہ چھوٹ جانے کے غم سے نڈھال نہ تو شہر قائد کی روشنیاں دیکھیں نہ گلی کوچوں کو غور سے دیکھا نہ ہی اماں ابا کے سوا کچھ یاد تھا ۔

لیکن اب جب وہ شادی کے بعد پہلی مرتبہ میکے آئی تھی اور میاں لینے آۓ تو اس نے فرمائش کی ریل گاڑی سے لے چلیں ۔ وہی ریل گاڑی جس میں اسی کی دہائی میں اماں کے ساتھ بیٹھ کر کراچی چھوٹے ماموں کے گھر گئے تھے ۔ اماں عورتوں کے ڈبے میں بیٹھی تھیں اور خدا جانے کیسے نانا حضور بھی اماں کے ساتھ بیٹھے تھے ۔ نانا حضور جو اماں کو لینے آۓ تھے ‘ کی طبیعت کچھ ناساز تھی اور وہ نہایت ضعیف العمر تھے ۔ سارا راستہ اوپر والی برتھ پہ لیٹے رہے ۔ کچھ دیر بعد ذرا دیر کو آنکھ کھول کے نیچے جھانک کے بیٹی اور نواسی کے موجود ہونے کی تسلی کر لیا کرتے اور پھر سو جاتے ۔ ریل گاڑی کی چھک چھک ، آس پاس بیٹھی عورتوں کی باتیں، باہر جھپاکے سے گزرتے مناظر اسکے ننھے ذہن کو مسحور کیے جاتے ۔ اور تب جب ریل گاڑی ایک سرنگ سے گزری اور پل بھر کو اندھیرا چھا گیا تھا تو کیسی گھبرائی تھی وہ ۔۔ اماں کا پلو نہ پکڑا ہوتا تو جان ہی نکل جاتی ۔ پوری رات اسی خوف کے عالم میں وہ سو نہ پائی تھی کہ اگر سوتے میں سیٹ سے نیچے گر گئی تو کیا ہوگا ۔۔۔

کسی سبکی ہوگی سب کے سامنے ۔ اور پھر صبح صبح جب پھیری والا ” گرم انڈے ” کی آواز لگاتا آیا تو اماں نے اسے گرم ابلے ہوئے انڈے لے کے دیے جن کا ذائقہ ہی الگ تھا ۔ وہی یادیں تازہ کرنے کی خاطر مہر سلطانہ میاں کے سنگ ریل گاڑی میں آج کراچی جا رہی تھیں ۔ وہی کراچی ‘ جو اسی کی دہائی میں ہر خاص و عام کے خوابوں کا شہر تھا ۔ جسے روشنیوں کا شہر کہا جاتا ۔ وہ بھی خوش تھی، ایسے بڑے شہر میں رہنا تھا اب اسے ۔ سب سکھی سہیلیاں چھوٹ گئی تھیں ۔ لیکن اماں نے کہا تھا اب میاں کو ہی سب سمجھنا ۔ اسی سے دل کی کہا کرنا ۔ وہی اب تمھاری ہنسی خوشی ہر غم دکھ کا ساتھی ہے ۔ اور ابھی جب راستے میں آتے ہوئے گنے کا رس دیکھ کر اس نے ساتھی سے پیاس کی شکایت کی تو کہنے لگے اب یہاں کا پانی پی کے کیا کرو گی ۔

کراچی جا کے صراحی کا ٹھنڈا میٹھا پانی پی لینا ۔ اور وہ جی ہی جی میں سوچتی رہی یعنی انکی معیت میں چوبیس گھنٹے پیاسا رہنا پڑے گا ۔ کیا تھا اگر ایک گلاس گنے کا رس ہی پلا دیتے ۔ بھلا انکے گھر میں دھری صراحی میں گنے کا رس تو نہیں ہوتا ہوگا نا ۔ اور پھر پورا راستہ وہ ریل گاڑی میں آنے کے فیصلے پہ بڑبڑاتے رہے ۔ وہ جھینپی جھینپی انکا غصہ دیکھ کے ڈر کے مارے سفر کے فسوں کو محسوس ہی نہ کر سکی ۔ حواس بحال ہوئے تو وہ سسرال میں موجود تھی ۔ جہاں ساس امی نے بلائیں لیں اور پانی کا گلاس پکڑاتے ہوئے میٹھے اورشیریں لہجے میں باورچی خانے کی سبھی ذمے داریاں اسے سونپ گئیں ۔ وہ ” دلہن ” کہہ کے پکارتیں تو اسے کیسا بے حجابانہ لگتا یہ طرزِ تخاطب ۔

خواہ مخواہ ہی سمٹی جاتی اور جب میاں سے تذکرہ کیا تو وہ ایسے چراغ پا ہوئے کہ مہر سلطانہ نے جھٹ سے تین روزوں کی منت مان لی بس اللہ جی آج غصہ اتر جائے دوبارہ کبھی انھیں سکھی سہیلی نہ سمجھے گی ۔ اور وہاں وہ گرجتے برستے گویا تھے ۔ کہ دیہات سے شہر آئی لڑکی کو شہری زندگی کے چلن جلد سیکھ لینے چاہیئیں ۔ اور وہ ملک کے دارلخلافہ کے جڑواں شہر کو دیہات سمجھے جانے پہ اداس ہوا کرتی ۔ بھلا راول کا پنڈ کوئی ایسا دیہات تو نہ تھا کہ وہ اسے دیہاتی کہا کرتے ۔ اور پھر وقت گزر گیا ۔ مہر سلطانہ نہ تو دیہاتی رہی نہ ہی کمسن لڑکی ۔ بلکہ شہری میم بن کر جب وہ اکیسویں صدی میں بچوں کے ساتھ راول کے پنڈ بچوں کے نانا نانی سے ملنے بذریعہ ریل گاڑی جاتی ہے تو وہی راولپنڈی کا ریلوے اسٹیشن ہے۔ لیکن لوگوں کا اژدھام ہے اور منظر اجنبی ہوتے دکھائی دیتے ہیں ۔

کراچی اب روشنیوں کی بجاۓ کچرے کا شہر تھا اور بچے راولپنڈی کی سڑکوں سے گزرتے ریلوے کے مکانوں میں لگے پرانے درختوں کے جھنڈ میں پرندوں کے غول کو حیرت سے دیکھتے والدہ سے مختلف سوال کرتے ہیں ۔ بھلا یہ سب درخت ‘ پرندے کراچی میں کیوں نہیں ۔ یہ ویسٹریج میں بنے پرانی طرز کے گھر کیسے فیسی نیٹ کرتے ہیں اماں ۔ بچوں کے اشتیاق نے اسے کہاں سے کہاں پہنچا دیا تھا ۔وقت کا پہیہ چکر کھاتے کھاتے کیسے مناظر بدلتا ہے ۔ جن لوگوں نے ایک صدی کا سفر طے کر کے دوسری صدی میں قدم رکھا تھا وہ عجیب مخمصے میں گرفتار پرانے اور نئے وقتوں کے توازن بحال کرنے کے چکر میں ہلکان ہوئے جاتے تھے ۔

پرانی طرز پہ رہتے تو زمانہ کچل کے آگے بڑھ جاتا نئی طرز پہ چلتے تو اپنے دل مسلے جاتے ۔ یہ راولپنڈی ریلوے اسٹیشن تھا ۔ جو کل بھی ویسا ہی تھا آج بھی ویسا ہی تھا بس وہ لوگ کہیں نہیں رہے تھے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں