نہ جنوں رہا نہ پری رہی – سمیرا امام




سنتے چلے آئے تھے کہ آدم و حوا کی دنیا میں رومان نامی بھی کوئی شے ہوا کرتی ہے ۔ لیکن برا ہو انٹلیکچوئل ازم کا جس نے پڑھی لکھی خواتین کو ایسا گھیرا کہ انکا رومان ناک کی پھننگ پہ ٹکائی گئی عینک اور موٹی موٹی کتابوں سے آگے نہ بڑھ سکا ۔ جب سے خواتین دانشورہو گئیں تب سے زندگی کے روکھے پن کا احساس دن بہ دن سوا ہو جاتا ہے ۔

ہماری توقسمت اس لحاظ سے ھی خراب تھی کہ جن سے رومانوی جذبات وابستہ تھے وہ بھی دانش ور نکل آئے ۔ ہم تو نکاح والے دن ہی سمجھ گئے تھے کہ صاحب نے کبھی ہماری آنکھوں کو غزالیں بالوں کو گھٹائیں اور ناک کو ستواں نہیں کہنا ۔ ( بھئی ناک تو تھی ہی پھینی وہ کہنا چاہتے بھی تو خوفِ خدا آڑے آجاتا ہوگا ) ۔ لیکن انھیں سمجھنے میں دیر ہو گئی کہ بیگم کو سیدھی بات دیر سے اور گھما کے کہی گئی بات جلدی سمجھ آجاتی ہے ۔ اوررومان نامی شے بیگم کے لیے نئی کتابوں کی خوشبو ‘ آٹا گوندھنے کا نہ کہنا اور روٹی تندور سے لا دینا ہے ۔ یہی وہ دو کام ہیں جن سے ہماری جان جاتی ہے ۔ ہماری جان تو پانی کا گلاس مانگ لینے پہ بھی نکلنے لگتی ہے ۔ ہمیں تو تمام عمر چھوٹےبھائی پانی پلاتے رہے یہ کیا کہ دومنٹ بعد پکارپڑرہی ہے ۔

بیگم ! ذراپانی تو پلا دیجیے ۔
یعنی ؟ کیا پانی خود پیا نہیں جا سکتا ؟؟ اور کیا ہی خوب صورت حادثہ ہو کہ وہ اپنے جناتی ہاتھوں میں پانی کا گلاس تھامے اُس جانِ آرزو کی خدمت میں پیش کر رہے ہوں جسےدنیا اب اُنکی زوجہ کےنام سےجانتی ہے ۔ برا ہو ہندی فلموں کا ساری کہانی غیرمحرم رشتے کے گرد گھومتی ہے۔اورجیسے ہی واوہ کا مہورت رکھا جاتا ہے فلم ختم ہو جاتی ہے ۔ یہ جن پاکستانی مردوں نے ہندوستان کی فلمیں دیکھ کے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ شادی کےبعد بیگم فقط پانی پلانے آٹا گوندھنے اور روٹی گول بنائی جائےیاچوکور قسم کی شےبن کررہ جاتی ہے ان سب مرد حضرات کے لیےوعید ہے کہ نرگ میں جلیں گے یہ سب۔ ان ہی کم بخت ہندوؤں کے ساتھ جنہوں نے اس قسم کی پٹیاں پڑھا رکھی ہیں ۔ یہ تو تذکرہ ہوا بےچاری قسم کی عام بیگمات کا جو کسی روز جوش میں آکے جہیز میں لائی گئی سرخی سے ہونٹوں کو اور غازے سے گالوں کوسجا لیتی ہیں تو اپنی ہی نا ہنجار اولادسوال کرنے کھڑی ہوجاتی ہے ۔

امی ! کیاآج آپ کہیں جا رہی ہیں ؟ اور امی بےچاری خجالت سے سرخی رگڑ کے ہلکی کرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ کچھ تو فطری تأثرابھرے ۔ اورحُسن ذاتی لگنے لگے ۔ پھر دل کو تسلی دینے کی خاطر سمجھانے بیٹھتی ہیں کہ میاں کی خاطرسجناسنورنا ثواب کا کام ہے ۔ اور میاں بے چارے یہی سوچتے رہتے ہیں کہ کیا بیگم نے منہ نوچ نوچ کے لال کیا ہے یا آج امی کے گھر جانے کا ارادہ منسوخ ہو گیا ہے ۔ ایسے بھولے بھٹکے کے رومان میں نہ تو میاں کو بروقت کوئی جملہ سوجھتا ہے اور نہ ہی بیگم بخشنے کو تیار ہوتی ہیں ۔ لیکن اس قسم کی پیاری اوراچھی خواتین کے علاوہ ایک اور قسم انٹلکچوئل خواتین کی ہے ۔ جو ایسی تمام خواہشات کو وقت کا ضیاع سمجھتی ہیں ۔ تو ہم بتا رہے تھے کہ ہم اول دن سے یہ جان چکے تھے کہ اول تو ہمارے میاں گھنیری زلفوں کے بیان والے شاعر ہی نہیں۔ وہ تو اس قدر نرگسیت کے مارے ہیں کہ کراچی کی کسی خوبصورت شام کا بیان بھی اس انداز سے فرمائیں گے
اس شام کے فریب میں آنے سے پہلے یہ یادرکھیے گا کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس شام کا حساب لینا ہے ۔

بندہ ڈر کے مارے رومان پہ دو حرف بھیج کے وہیں استغفار کی تسبیح کو خود پہ لازم کر لے گا ۔ وہ الگ بات کہ آپ کے دل میں اسلام کی شمع روشن کر کے وہ اسی حساب لینے والی شام کو دوستوں کے ساتھ گفتگومیں گزاردیں گے۔ جس گھر میں دو شدید قسم کےدانشور رہتے ہوں وہاں رومان پہ ہر وقت نزع کا عالم طاری رہتا ہے . عالمِ شباب سے کتابیں پڑھ پڑھ کے ہم چشمے کوزندگی میں لازم کر بیٹھے تھے ۔ رہی سہی کسر موبائل فون نے پوری کر دی ۔
ایک دن ہمارا چشمہ ٹوٹ گیا ۔ اب ہماری زندگی کا مشکل ترین کام چشمہ بنوانا ہے ۔ لینز فلاں ہوں ۔ فلاں قسم کا اسکرین پروٹیکٹر لگا ہو ۔ فریم ایسا اور ویسا ہو ۔ ہمارےچہرے پہ یوں اور ووں لگتا ہو۔ اسی غم میں غلطاں تھے کہ صاحب فرمانے لگے۔ بیگم ! آپکی آنکھیں کس قدر قیمتی ہیں ۔ اور ہم جیسے غم کی اتھاہ گہرائیوں میں جا ڈوبے ۔ آنسوجھپک جھپک کے سوال کیا ۔ کیا عینکیں بہت مہنگی ہو گئی ہیں ؟ فرمانے لگے ۔ یہاں عینک کا کیا ذکر ۔ ابھی آپ نے کہا نا ہماری آنکھیں قیمتی ہیں ۔ مانا ہم عام چشمہ نہیں پہنتے لیکن اس قدر قیمتی بھی نہیں مانگا کہ آپ یوں حساب کتاب کرنے بیٹھ جائیں ۔

کچھ دیر حیران ہوئے پھر پریشان ہوکے آخر کار سمجھ گئے ۔ ارشاد ہوا غلطی سے تعریف فرمائی تھی آپکے ان محتاجِ چشمہ چشمان کی ۔ لیکن معذرت ایسی غلطی دوبارہ ہرگز نہ ہوگی ۔ اور ہم آج تک سوچتے ہیں کہ یہ کس قسم کی تعریف ہے جس میں قیمت کا ذکر ہو ۔ تعلق تو جناب کے آباء واجداد کا ہندوستان سے ہے لیکن کیا ہندوؤں کے ساتھ رہتے رہتے بنیوں والی خصوصیات بھی فطرت میں در آئیں تھیں ۔ کیا قیمتی کی جگہ خوبصورت اور حسین قسم کے الفاظ استعمال نہیں کیے جا سکتےتھے ؟؟ اب آپ ہی بتائیے ایک اہلِ دانش خاتون کا یہ غم چھوٹا ہے کیا ؟؟

اپنا تبصرہ بھیجیں