یادوں کے دریچوں سے – شفاء صالحہ




آہ 2020ء۔۔۔۔۔۔۔۔یہ سال بھی ہم سے ہمارے کتنے ہی خزانے چھین کر لے گیا۔۔ اس دن طلوع آفتاب کا منظر بہت اداس تھا۔شاید سورج کو پتہ تھا کہ دنیا سے آج ایک بہت محنت کرنے والا اور تکالیف سے بھرپور وجود اس جہان فانی سے کوچ کر چکا ہے۔ ابھی نئے سال کی آمد کو نو دن ہی ہوئے تھے کہ جب والدہ نےرات کو دو بجے روتے ہوئے جگایا، میں ہڑبڑا کے اٹھی اور وجہ پوچھنے پر پتہ چلا کہ ناناجان کی آزمائشوں بھری زندگی ختم ہو چکی ہے اور اب ان کیلئے سکون ہی سکون ہے۔

ناناجان جو مسلسل تیرہ سالوں سے فالج جیسی بیماری کا سامنا کر رہے تھے،جو پوری طرح دوسروں کے محتاج تھے،کیا وہ اپنی اس محتاجی والی زندگی سے تنگ نہیں ہونگے؟کیا انہیں اللہ سے شکوے نہیں ہونگے؟لیکن مجال ہے جو ہم نے کبھی انکے منہ سے ناشکری کا ایک لفظ بھی سنا ہو!! ہر وقت زبان سے کلمہ شکر ادا کرتے رہتے قرآن کی تفاسیر پڑھتے رہتے۔۔جب ہم ان کے ہاں جاتے تو صبح فجر کے بعد پہلے ہم انکی تفسیر کلاس لیتے( جسے گھر میں موجود تمام افراد نے لازمی لینا ہوتا) پھر بعد میں ہمیں ناشتہ ملتا۔ مجودہ حالات کے بارے میں انہیں ہم سے زیادہ معلومات ہوتی تھیں،ہماری پڑھائی میں خاص دلچسپی لیتے تھے، اور رزلٹ آنے پر شاید پورا والٹ ہی ہم بہن بھائیوں پر خالی کر دیتے ۔ جو انسان جتنا نیک ہوتا ہے اسکی آزمائش بھی اتنی ہی سخت ہوتی ہے۔نانا جان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔اسی فالج کے دوران انکی ٹانگ ٹوٹ گئی،جسکی وجہ سے وہ بلکل بیڈ سے لگ گئے۔جو تھوڑا بہت واکر سے چل کر گلی کی نکڑ تک ہو آتے تھے اب یہ بھی نہیں ہوتا تھا۔

اب صرف کمرے سے واش روم اور واش روم سے کمرے تک وہ محدود ہو کر رہ گئے تھے۔ یہی نہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابھی ایک اور آزمائش باقی تھی۔۔اب جبکہ وہ کمرے میں ہی رہتے تھے اب انہیں گردوں کا مسئلہ ہوا اور یورین بیگ ہر وقت انکے ساتھ رہنےلگا۔ قرآن اور تفاسیر اب بلکل چھوٹ چکی تھیں،نماز بھی بمشکل ادا کر پاتے تھے وہ بھی تیمم کر کے ۔ آہ !! کتنے سخت جان ہوتے ہیں یہ مرد بھی،کتنی ہی سخت آندھی آ جائے،ایک مضبوط پیڑ کی طرح انکی جڑیں تک نہیں ہلتی،ہاں البتہ ظاہری طور پر موسم اپنے کچھ اثرات چھوڑ جاتا ہے۔کچھ یہی حال ناناجان کا بھی تھا۔ ناناجان پیشے کے لحاظ سے ریلوے گارڈ تھے ۔اسی لیے انکی دوستیاں بہت تھیں۔بیماری اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ہر دوست سے بھرپور رابطہ تھا۔ انکی اولین ترجیح پڑھائی اور اسکے بعد جماعت ،جمعیت تھی۔اس وقت پڑھائی کا رجحان نا ہونے کے برابر تھا اور صرف ناناجان ہی اپنے بہن بھائیوں میں تعلیم یافتہ تھے۔۔شاید اکلوتے بیٹے تھے اسی لئے۔۔بہر حال معاشرے کی روایات کو ٹھوکر مارتے ہوئے نہ صرف مامؤں کو بلکہ انکی تمام بہنوں کو بھی اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا۔

جماعت اور جمعیت کے بھرپور سپورٹر تھے۔اگرچہ بیماری کی وجہ سے پروگرامز میں نہیں جا پاتے تھے لیکن گھر آئے مہمان کی بھرپور تواضع کرتے۔انکے وفات کے تین دن بعد جماعت کے ہی پانچ افراد انکی تعزیت کو گئے۔جن میں عظیم بلوچ صاحب اور ہمارے شہر کے امیر جماعت عرفان لاکھو صاحب بھی شامل تھے۔جماعت جمعیت سے منسلک شاید ہی کوئی ایسا فرد ہو جو عظیم بلوچ صاحب کو نہ جانتا ہو۔ عظیم بلوچ صاحب سے شاید انکی بہت بنتی تھی اور شاید گہری دوستی بھی تھی۔۔اسی لیے وہ ناناجان کے بغیر صرف تین دن ہی رہ سکے۔۔وہ اور انکے دو ساتھی سفر سے واپسی پر روڈ حادثے میں شہید ہوگئے۔ بلاشبہ وہ ایک سیاہ ترین دن تھا۔جب شہداد پور شہر میں بیک وقت تین شہداء کے جنازے داخل ہوئے۔۔ہر طرف سناٹا ہی سناٹا تھا جیسے ہر چیز انکے چلے جانے پر خاموشی سے آنسو بہا رہی ہو۔روشنی کے باوجود ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہو۔۔جیسے ایک دم سارے چراغ کسی نے پھونک مار کر بجھا دیے ہوں۔

ایک دم سے تین خاندان یتیم ہو گئے تھے اور اب ان تین یتیم خاندانوں کو تین باہمت بیواؤں نے سنبھالنا تھا۔۔جو بلکل بھی آسان کام نہیں تھا۔۔انکے آنسو دیکھے نہیں جاتے تھے،چپ کروانے کیلئے،حوصلہ اور تسلی دینے کیلئے بھی بڑا دل چاہے ہوتا ہے ۔جو اس وقت کم از کم کسی کے پاس نہیں تھا۔۔سب کی آنکھوں سے ایک ہی رفتار سے دریاء بہہ رہے تھے . اس دن پورے شہر میں بس ایک ہی اعلان ہوتا رہا۔ شہداء شہداد پور کی نماز جنازہ بعد نماز عشاء سراج الحق صاحب کی امامت میں پریس کلب پر ادا کی جائے گی سارا شہر اس رات اس ایک روڈ پر امڈ آیا۔ہر کسی کی آنکھ نم تھی ،ہر فرد یہی سمجھ رہا تھا کہ یہ شہداء بس اس کے ہی بہترین دوست تھے، اسکے ہی سب سے قریب تھے۔ہر شخص لپک لپک کر جنازے کو کندھا دینے کا خواہشمند تھا اور بیشک یہ جھوٹ نہیں تھا ۔وہ تینوں واقعی ہر دلعزیز تھے۔ اس دن سارا شہر اپنے تین خیرخواہ،تین بہترین دوست اور تین بہترین رہنما کھو چکا تھا۔اور اس رات اتنے بڑے مجموعے میں اس شہر کا کوئی امیر دکھائی نہیں دیتا تھا جو انہیں ایک سمت میں لیکر چلتا،جو انہیں راستہ دکھاتا، جو انہیں نظم وضبط کی تلقین کرتا ۔

لیکن حقیقت بہت تلخ اور کڑوی تھی کہ تینوں رہنماء بیک وقت اپنے شہر کی عوام کو بے یارو مدد گار چھوڑ کر جا چکے تھے ۔بلاشبہ یہ تینوں افراد شہداد پور کا فخر تھے، ہیں،اور رہیں گے . اس طرح ناناجان کی وفات پر اس دنیا نے علم کے چار قیمتی ترین خزانے گنوا دیئے ۔ جن میں ناناجان ، عظیم بلوچ صاحب،ہمارے شہر کے امیر جماعت عرفان لاکھو صاحب، اور انکے ایک اور ساتھی غلام رسول صاحب شامل ہیں۔بلاشبہ یہ تینوں ہی علم کے خزانے تھے اور قابلِ فخر ہیں ۔جن میں سے ایک کو 9 جنوری کو سپردِ خاک کیا گیا اور باقی تین کو 13 جنوری کو دفنایا گیا ۔کیونکہ خزانوں کو چھپا کر ہی رکھا جاتا ہےاور چھپانے کی بہترین تکنیک یہی ہے کہ انہیں زمین کی آغوش میں سلا دیا جائے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں