ایک گچھا چنبیلی کا – شاذیہ ظفر




چنبیلی کی یہ بہت چھوٹی سی بیل ہم نے گزشتہ برس نرسری سے خریدی اور گھر لا کر ایک کیاری میں لگا دی ۔۔۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس میں کافی شاخیں نکلیں پتے آئے بڑی اور ھری بھری ہوگئی ۔۔۔ لیکن شدید انتظار کے بعد بھی اس میں کلیوں اور پھولوں کی آمد کے کوئی آثار نہیں تھے ۔۔۔تھوڑا دھیان دیا اور باغبانی کے تجربے کو آزماتے ہوئے بغور جانچ پڑتال کی ۔۔

وجہ تلاش کی اور سوچا کہ اگر اس بیل پر پھول کھلتے دیکھنا ہیں تو اچھی بھلی بڑھتی ھوئی بیل کو اس جگہ سے منتقل کرنے کا رسک تو لینا ہی پڑے گا ۔ ہم نے مالی بابا سے کہہ دیا کہ اب چھ ماہ ہوچکے ہیں انتظار کرتے یہ جگہ اور ماحول اس بیل کے لیے موافق نہیں ہے ۔ آپ اس کو احتیاط سے دوسری جگہ منتقل کر دیں ۔لیکن مالی بابا نے حسب معمول ہمارے تجربے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے مقابلے کی ٹھان لی ۔۔۔

” تھوڑا انتظار کریں باجی ۔۔اچھی چل پڑی ہے۔۔ ھری بھری ہے۔۔پھول بھی بس آ ہی جائیں گے ۔۔اب اسکو یہاں سے ہٹانا نہیں ہے۔۔”

پھر وقتا فوقتاً جتنی بار ہم اس بیل کی منتقلی کی بات کرتے اتنی ہی بار وہ اپنے تئیں ماہرانہ رائے دے کر ہمیں خاموش کروا دیتے ۔۔ چار پانچ ماہ انکی میں نہ مانو والی رٹ میں ہی گزر گئے۔۔۔ بالآخر گزشتہ ماہ ہم نے اپنے صوابدیدی اختیارات بزورِ کھرپا استعمال کرتے ھوئے اس بیل کو نئی جگہ پہ منتقل کر ہی دیا ۔۔۔ اب کی بار بہت دیکھ بھال کے درست جگہ کا انتخاب کیا ۔۔ ماحول راس آگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس بیل میں بہت سی نئی نئی ٹہنیوں میں کلیاں آنے لگیں ۔ آج ایک گچھے میں کئی پھول کھلے ہیں ۔۔اور اطراف میں پھیلی چنبیلی کی بھینی خوشبو بہت خاموشی سے اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلا رہی ہے …….. جو بیل سال بھر سے صرف اگ رہی تھی ۔ اپنے من پسند ماحول میں آ کر ایک ہی ماہ میں اپنے پھولوں کی بدولت کھلکھلانے لگی ہے۔ کبھی کبھی کتنا فائدہ مند ہوتا ہے ۔

رسک لینا ، بروقت درست فیصلے کرنا اور مزاج سے مطابقت رکھتے ماحول کو پا لینا ۔۔۔کہ جسکی بدولت ھماری صلاحیتیں نکھر کے سامنے آ سکیں ۔ زمانے کے سرد و گرم ۔۔ موسم کی سختی ۔۔ مصائب کی آنچ اور مشکلات کی دھوپ میں تپ کر ہی تو کامیابی کے پھول کھلتے ھیں جنکی مہک ساری تھکان دور کر دیتی ہے .

اپنا تبصرہ بھیجیں