رکتی ہے میری طبع تو ہوتی ہے رواں اور – سمیرا امام




ہم نے پوچھا ، یہ محبت ہوتی کیا ہے ؟ تو ہم سے کہا گیا یہ تو آپکو ہی پتا ہوگا ۔ یہ جو محبت کے راگ الاپے جاتے ہیں اور اسی محبت کے نام پہ کردار اور اقدار کی دھجیاں بکھیر دی جاتی ہیں ۔ کیا اسے محبت کہتے ہیں ؟؟ یا پھر وہ جو کسی حسین صورت کو دیکھ کے ریجھ جانا اور اسے محبت کا نام دےدینا ہی درست عمل ہے ۔

کسی کے ظاہر پہ مر مٹنا اور اسے پانے کی خاطر جنونی ہوجانا محبت ہے ؟؟ یا وہ جو افسانوں کی ہیروئن کو کسی چچا کے بیٹے پھپھی کے بھتیجے سے ہو جاتی ہے وہ محبت ہے ؟؟ کیا وہ محبت ہے جس کے لیے اولاد والدین کے سامنے سینہ سپر ہو جاتی ہے ؟؟ اس دنیا نے محبت کے نام پہ کیسے کیسے پاکھنڈ مچا رکھے ہیں ۔ اور وہ ہنسی خوشی رہنے لگے والی کہانی اب بھی ذہن کے پردے پہ لہرائے تو کوئی شہزادی کسی شہزادے کے پہلو میں تفاخر سے مسکراتی ہنسی اور خوشی کی علامت کے طور پہ دکھائی دیتی ہے اور ہم سمجھتے ہیں محبت کا مفہوم مکمل ہو گیا ۔ محبت اس جذبے کا نام ہے جسکے شعلے بھانبڑ بن کر نہ جلتے ہوں ۔ بلکہ دھیمی آنچ پہ وفا ‘ اخلاص اور ایثار سے گندھی ہوئی ہو ۔

ایسی محبت جو تیز آگ کی صورت جلتی ہے سب جلا کے راکھ کر دیتی ہے ۔ اس میدان میں قدم رکھنے والے یہ جان لیں کہ یہ صبر اور ضبط کی بھٹی میں جل کر کندن ہوجانے والوں کے لیے ہے ۔ وگرنہ بھٹی سے راکھ کے ڈھیر کے سوا کچھ نہیں نکلتا ۔ میں نے اس بچی کو دیکھا جو اپنے شوہر کے لیے بے قرار ہمہ وقت اسکی جدائی میں آنسو بہاتی ہے ۔ اور سوچا جو محبت رسوا کر دے اس سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے ۔ تو کیا پھر آنسو نہ بہائے جائیں ؟؟ آنسوؤں پہ بھلا کسے اختیار ہے لیکن انھیں ہر جگہ بہا بہا کر محبت کا تماشا نہ بنایا جائے ۔ دنیا کی ہرشے سے زیادہ اہم آپکا وقار اور کردار ہونا چاہیے ۔ کوئی قیمتی شے اگر کسی کمی کمین کے ہاتھ لگ جائے تو وہ اسے رول کے رکھ دیتا ہے ۔ صاحبِ علم اگرجاہلوں کے نرغے میں پھنس جاۓ تو اسکا علم دہائیاں دینے لگتا ہے ۔ اور محبت اگر کم ظرفوں کو ہو جائے تو سرِبازار رسواہونے لگتی ہے ۔

محبتیں ایثار سے پروان چڑھتی ہیں ۔ غرفِ شکایت کو زبان پہ لانے سے پہلے ہی دل کے کسی کونے میں دفن کر دیا جائے ۔ یہی احترام ہے ۔ محبوب سے شکوے شکایات کا رشتہ اس رشتے کے حُسن کو ماند کر دیتا ہے ۔ دوری ہے تو بھی شکر کہ اللہ نے زندگی تو عطا کر رکھی ہے کسی روز ملاقات کا امکان تو موجود ہے ۔ دوری دائمی ہوگئی ۔ دنیا سے ہی رخصت ہو گئے تب بھی یقین کامل ہے ایک روز جنت میں اللہ ملا دیں گے ۔ کوئی آزمائش ہے تب بھی شکر کہ اس سے بڑی کوئی دوسری آزمائش نہیں ۔ محبت میں واویلے کی گنجائش نہیں ۔ اپنی ذات کو ترجیح دینے کی گنجائش نہیں ۔ خود کو مٹا کے فنا کر کے اگر کوئی جذبہ حاصل ہوتا ہے تو وہی محبت ہے ۔ جومحبتیں کڑی جد و جہد کے بعد دل میں گھر کرتی ہیں وہی پھول کھلانے کا بھی باعث بنتی ہیں ۔

اور ہاں جتنی سمجھ مجھے آئی وہ فقط اتنی ہے کہ پھول اور کانٹے کھلنے سے زیادہ اہم دل کو طمانیت میسر آجانا ہے ۔ قلب کی بے قراری اور بے چینی کا رخصت ہو جانا ہے ۔ لیکن دل اگر دائم ایک ہی کیفیت میں رہے تو محبت کی چاشنی ماند پڑنے لگتی ہے ۔ لہذا ………. رکتی ہے میری طبع تو ہوتی ہے رواں اور

اپنا تبصرہ بھیجیں