اردو زباں ہماری – سمیرا غزل




اردو کی محبت مجھے ورثے میں ملی ہے،بچپن ہی سے گھٹی میں ڈالی گئ ہے اور شعور کی منزلیں طے کرتے ہوئے اس کی اہمیت کا احساس بڑھتا ہی گیا۔

اردو ہماری مادری زبان ہے، دیگر علاقائ زبانوں کے لوگوں کو آپس میں جوڑنے والی زبان! ایسی زبان جس کی محبت میں ملک کے ہر صوبے کے لوگوں کو گرفتار پایا۔اس کی شیرینی اور حلاوت کو کوئ بھی خوش ذوق محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مگر بدقسمتی سے غلامانہ ذہنیت کے پیش نظر پورے بر صغیر میں انگریزی زبان غالب کرنے کی کوشش کی گئ اور وطن عزیز میں بھی اپنی مادری زبان کی محبت کو پس پشت ڈال کر انگریزی کا پرچار کیا گیا۔جس کے نتیجے میں ہمیں ذہنی طور پر پسماندہ لوگ بڑی جگہوں پر اور ذہین لوگ اپنی صلاحیت کے معیار اور مرتبے سے کم پر کام کرتے نظر آئے جس کے نتیجے میں ہم نے دیکھا کہ ہمارا ملک مستقل زبوں حالی اور بدحالی کا شکار ہے کہ یہاں ذہانت کا معیار اردو اور انگریزی کے تقابل کو بنالیا گیا۔ لیکن اس بات سے میری مراد ہر گز یہ نہیں ہے کہ انگریزی نہ سیکھی جائے یا انگریزی سے کوئ دشمنی پال لی جائے بلکہ ہر وہ زبان جو وقت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے قابل بنائے ہمیں ضرور سیکھنی چاہیے مگر اپنی مادری زبان سے سرمو انحراف کرنا ایسا ہی ہے کہ گویا اپنی گردن پر خود چھری پھیر لی جائے۔ہم جس زبان میں خواب نہ دیکھ سکتے ہوں، جس میں سوچ نہ سکتے ہوں،اس میں اپنی صلاحیتیں کیسے منوا سکتے ہیں یا اس کی رسی تھام کر کیسے ترقی کی جانب گامزن ہو سکتے ہیں۔

ایک صاحب تھے ماوزے تنگ سنا ہے کسی لطیفے پر بھی اس وقت تک نہ ہنستے تھے، جب تک وہ ان کی زبان میں ترجمہ نہ کردیا جائے۔ یونیورسٹی میں کوریا سے ایک استاد آئے تھے جنھوں نے اپنی ہی زبان میں لیکچر دیا،بعد میں انگلش مترجم نے معانی و مفہوم سے آگاہ کیا،مجھے حیرت ہوئ کہ اردو مترجم کیوں نہ ہوا۔آج کل بچوں کو دیکھتی ہوں تو بہت افسوس ہوتا ہے کہ گھر کے رہے ہیں نہ گھاٹ کے۔ان کو کہو کہ اڑتالیس لکھو تو کہتے ہیں کہ انگلش میں بتائیں اور وائے ناکامی کہ جب کہیں کوئ ذرا سا مشکل لفظ اردو کا بول دیں تو سٹپٹائے جاتے ہیں کہ یہ کیا کہہ دیا سمجھ نہ آیا۔ایسے میں اردو کی محبت جوش مارتی ہے،دل تڑپتا ہے اور مچلتا ہے کہ اردو زبان کے فروغ کے لیے یہ ناچیز بھی کچھ کام کر سکے،اس کی صحیح ترویج میں معاون بن سکے،یا کسی تعلیمی ادارے ہی میں اس مقصد پر کام کرسکے۔ میں نے چھوٹی سی عمر میں اپنی پھپھو کو بہت خط لکھے، ڈائری لکھنے کا بھی شوق رہا کتابیں پڑھنے کا بھی۔اور یہ شوق ابو اور بہن بھائیوں سے مجھ میں آیا۔ویسے اس وقت اس طرح کی سرگرمیاں سب ہی کرتے تھے۔یہی سرگرمیاں زبان کو ستھرا بناتی تھیں۔

مگر بڑی تیزی کے ساتھ وقت نے گردش کی اور اس کا پہیہ “پی۔ٹی۔وی” کے ڈرامہ سیریل میں دکھائے جانے والے پہیے سے بھی زیادہ تیز رہا۔بہت جلد اقدار بدل گئیں،شوق بدل گئے کتاب کی جگہ موبائل نے لے لی اور یوں رہی سہی کسر بھی پوری ہوگئ۔ نہیں نہیں!موبائل کوئ بری چیز نہیں ہے،اچھی چیز ہے ہر ایجاد ہی زبردست ہوتی ہے اگر استعمال درست کیا جائے۔رائج الوقت جدید اشیا کا انکار کرنا در حقیقت پیچھے رہ جانا ہے۔لیکن ہمارا المیہ ہے کہ ہماری اکثریت فائدہ اٹھانے کے بجائے الٹا استعمال کرتی ہے۔گوگل پر ایک کلک پر آپ کیا دیکھنا چاہتے ہیں مکمل آپ کے ہاتھ میں ہے۔خیر تو میں بات کر رہی تھی اردو زبان کے حوالے سے،میں نے اس کی محبت میں نو عمری ہی میں اپنی استطاعت کے مطابق سفر کیا۔جہاں جہاں ممکن ہوا کوئ تحریری آرٹ سیکھ سکوں یا تخلیقی صلاحیت میں اضافہ کرسکوں ،میں نے اس کے لیے حتی الامکان کوشش کی۔

اسی سلسلے کی کڑی ایمز انسٹیٹیوٹ میں تخلیقی لکھائ پر مبنی کورس کرنا بھی ہے، اسی سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے بہت سی ورکشاپس اٹینڈ کیں۔ایمز ہی میں ڈالڈا کا ایک پروجیکٹ کیا۔ اسلامک ریسرچ اکیڈمی میں وزن پلس کے زیر اہتمام قلیل المدتی صحافتی کورس کیا،رسالہ ساتھی کی طرف سے کرائ جانے والی ورکشاپس میں بھی شرکت کی،میری جمعیت نے بھی معاونت کی،ساتھ ہی مطالعے پر توجہ جاری رکھی ،اور سیکھنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ درحقیقیت ایک زبان خود ایک پورا علم ہے جس سے آپ ایک ثقافت ایک تہذیب ایک مذہب اورایک خطے کے اسرار رموز سیکھتے ہیں۔یہ ذہانت کی وہ سیڑھی ہے،جو انسان کو معراج عطا کرتی ہے۔مگر بدقسمتی سے آج بڑے بڑے تعلیمی اداروں میں بھی اردو زبان کے ماہر نہیں ملتے اور یہ ایک المیہ ہے۔انسان مادری زبان ہی کی بدولت بڑے بڑے معرکے سر کرسکتا ہے،مادری زبان ہمیں بہتر انداز میں مذہب کے قریب کرتی اور جوڑتی ہے۔ ہمیں یہاں لا کر اس لیے ہی بلاک کیا گیا ہے کہ ہم ترقی کی رفتار میں پیچھے رہیں،ہماری ذہانت کا گراف کنفیوژن کا شکار ہو کر ایک دن اپنی موت آپ مرجائے۔میں اردو زبان کے درست استعمال اور اس پر تحقیق کو اپنا مشن بنا کر بحیثیت ایک طالبہ علم کے کچھ ایسا کرنا چاہتی ہوں کہ خود بھی سیکھ سکوں اور نئ نسل کو بھی زبان کی لذت و محبت سے آشنا کر سکوں۔

یہ منصوبہ زیرغور ہے کہ کس طرح اردو زبان کے فروغ کو اپنا پیشہ ،جذبہ ،اور مقصد بنا سکوں ۔اس ضمن میں آپ لوگوں کا مشورہ درکار ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں