رابطے کی ڈور – شاذیہ ظفر




ہم تو مٹی سے اگائیں گے محبت کے گلاب تم
اگر توڑنے جاتے ھو ستارے جاؤ۔۔!!

کیسی عجیب بات ہے ناں۔۔ ستاروں پہ کمند ڈالنے کے بجائے مٹی میں گلاب اگانے کی نہ صرف خواھش کرنا۔۔ بلکہ اسے عملی جامہ پہنانے میں خوش اور مگن بھی رھنا۔۔۔۔کبھی آپ نے غور کیا ھے کہ یہ جو پھول پودے اگانے والے ہیں ۔۔ بہت سی ناکامیوں کے بعد چار سبزیاں اور چند گل بوٹے اگا کر خوشی سے پھولے نہیں سماتے اس کے پیچھے کیا جذبہ کار فرما ہے ۔۔۔

آخر ہے کیا یہ باغبانی۔۔۔۔!؟! چند خوبصورت جملوں کا ھیر پھیر نہیں ہے باغبانی ۔۔ بلکہ باغبانی تو رابطے کی وہ خوبصورت ڈور ہے جو عبد اور معبود کے درمیان تعلق کو مستحکم کرتی ھے ایسی مصروفیت اور ایسا مشغلہ ہے جو خالق اور مخلوق کے درمیان ایک مسلسل ربط قائم رکھتا ہے

تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا
برابر ہے دنیا کو دیکھا نہ دیکھا

میر درد کا یہ شعر جب نصاب میں پڑھا تھا تو یہ سمجھتے ہوئے کہ درد کا کلام عشق حقیقی پر مشتمل ہے بس یونہی سرسری انداز میں تشریح کر لی تھی۔۔کہ بھئی ہمیں دنیا میں آنے کے مقصد کو نہیں بھولنا۔۔ یہ درخت۔۔ یہ پہاڑ۔۔ یہ سمندر ۔۔ یہ دریا خالق قدرت کے مظاھر ہیں۔۔۔انھیں دیکھ کر یہ دھیان رکھنا چاھیئے کہ اسے بنانے والی ایک ذات ہے جو ھم سب کی مالک و مختار ہے۔۔۔وہ ہمارا رب ہے اور ہم اسکے بندے ھیں۔۔ ہر شے میں اسی کی کاریگری ہے۔۔۔اسی قسم کے بہت سے رٹے رٹائے جملے لکھ کے اپنے حساب تشریح کا حق ادا کر دیا تھا۔۔۔۔مگر اس وقت یہ اندازہ ہی کب تھا کہ تشریح کے چند جملے لکھنے میں اور انکو محسوس کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔۔۔ کیونکہ تب رب کو جاننے کا سفر شروع ھی کب ھوا تھا۔۔۔

شاید لاشعور کی یہ جستجو ۔۔یہ کیا ، کیوں ، اور کیسے کو جاننے کی کھوج ۔۔ بچپن کا وہ تجسس جب صبح بیج بو کے سر شام بڑی بیتابی سے اس پر سے مٹی ہٹا کے دیکھا کرنا کہ اندر کیسے پودا بن رہا ہے۔۔۔ کون ہے جو بیج کو پھاڑ کے پتے برآمد کر دیتا ہے ۔۔۔ تلاش کا یہ جذبہ ۔۔ جاننے کی یہ لگن ہی تو تھی جس نے باغبانی کے شوق کو بڑھوا دیا۔۔۔بلکہ بڑھوا کیا دیا ھمارا تو یہ ماننا ہے کہ باغبانی خالق کا بیش قیمت تحفہ ہے وہ جسے خود سے قریب کرنا چاھتا ہے اس میں یہ شوق ودیعت کر دیتا ہے ۔۔۔ شعوری طور پر جب اس شوق کو اپنانے کی ابتداء ہوئی اور مٹھی میں دبے چند چھوٹے چھوٹے بیج ہم نے جب پہلی بار مٹی میں دبائے تو اس سے بڑے اشتیاق سے اور بڑی آس سے یہی تو کہا تھا۔۔۔” ہم بس اتنا ھی کر سکتے تھے۔۔۔ اب آگے جو آپکی مرضی۔۔”

جب سے اب تک ہر بار یہی تو کہتے آئے ہیں اور ہر بار جب جب زمین میں پہلی دراڑ پڑتی ہے۔۔۔جب جب کوئی بیج پھوٹتا ہے ۔۔جب جب کوئی ہری کونپل نکلتی ہے ۔۔ جب جب کمزور پودا توانا ھوتا ھے۔۔پھول دیتا ہے۔۔۔پھل لگتے ہیں۔۔تب تب یہی احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنا جلوہ دکھا رہا ھے ۔۔ خود سے ملوا رہا ہے۔۔ اپنے ھونے کا ۔۔اور اپنے قادر مطلق ھونے کا یقین دلا رھا ھے ۔۔اسکی یہ ساری نشانیاں کیسا حیران کرتی ھیں کہ ھر بار اس کی قدرت کاملہ پر ایمان پختہ ھوتا جاتا ھے۔۔ کبھی بڑی چاہ سے لگائے بیج نہیں اگتے۔۔ہم بار بار اپنی غلطی ڈھونڈتے ہیں۔۔ بیج کی خرابی ۔۔ موسم کا فرق ۔۔ سب پر اداس ہوتے ہیں، جھنجھلاتے ہیں۔۔گھبراتے ہیں ۔۔ پر محنت کرتے جاتے ہیں۔۔ پھر تھک ہار کر۔۔ہاتھ جھاڑ کر اس سے یہی کہتے ہیں اچھا ٹھیک ھے۔۔ ہم نے اپنی پوری کوشش کر لی ۔۔۔نہیں منظور تو جیسے آپکی مرضی۔۔

تب مایوسی کے اندھیروں میں بھی یوں ہی لگتا ھے جیسے اسکی رحمت اور شفقت تسلی دے رکی ہے ۔۔ کہ جو سبق تمھیں سکھانا تھا وہ تم سیکھ رہی ہو۔۔۔تمھارا کام نتیجے کی پروا کیے بنا پورے دل سے اور مستقل مزاجی سے کوشش کرنے کی حد تک ہی تو تھا۔۔باقی ہم جانیں اور ہمارا کام۔۔۔ تمہیں بس یہ تابعداری نہیں چھوڑنی۔

~ سر بسر یار کی مرضی پہ فدا ھوجانا
کیا حسین کام ھے راضی بہ رضا ھوجانا

کبھی کبھی بہت کچھ چاہ کر بھی نہیں ملتا اور کبھی بن مانگے عطا ہو جاتا ہے۔۔۔۔ مٹی میں دبے بیج اچانک عرصے بعد بنا کسی امکان کے پھوٹ پڑتے ہیں۔۔ تب ہم خوشی سے مسکراتے ہوئے یہی کہتے ہیں کہ ۔۔۔۔ واہ بھئی جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ہم تو کوشش کر کر کے ہار چکے تھے لیکن جان گئے ہیں آپ کے یہاں ہر کام کا وقت مقرر ھے ایک پتا بھی آپکی مرضی کے بنا نہیں ہل سکتا ۔۔۔ کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ کوئی سبزی بڑی بے دلی سے یہ سوچ کر لگائی یہ کہ جانے یہ بنا آب و ہوا سازگار ہے بھی یا نہیں۔۔ تجربہ کر کے دیکھتے ھیں۔۔۔اور توقع کے برعکس تجربہ بہت کامیاب رہا۔۔ ڈھیروں سبزی اگ گئی۔۔کہ سنبھالے نہ گئی۔۔ تب ہم دل ہی دل میں خوش ہوتے ہوئے کہتے ہیں مان گئے آپ کو۔۔جو اور جتنا آپ نے نصیب میں رکھا ھے وہ مل کے رھے گا۔۔نہ نصیب سے کم ۔۔ نہ نصیب سے ذیادہ۔۔۔

خیر اور برکت کے معنی بھی تو اسی باغبانی کی بدولت رب کریم نے سمجھائے ہیں۔۔ سب حیران ہوتے ہیں کہ اتنی سی جگہ میں اتنا کچھ کیسے لگا لیتی ھو۔۔ کیا جواب ہو اس بات کا سوائے اس کے کہ ہم تو بس اس سے فرمائش ہی کرتے ہیں۔۔دل ہی دل میں یہ کہتے ہوئے کہ ہمیں ہاتھ میں لے کر دیکھنا ہے چنے کا پھول کیسا ھوتا ھے ۔۔ ہمیں ڈالنا ہے گھر کا بھٹہ اپنے کارن سوپ میں۔۔۔ ہمیں گنے کا کھیت چاھیئے۔۔ ہمیں کینو کا ذائقہ چکھنا ھے۔۔ ہمیں کیلے کے تازہ پتوں کا کرکرا پن چھو کر محسوس کرنا ھے۔۔ ہمیں بروکلی کا ہرا بھرا پھول دیکھنا ھے۔۔۔ہمیں پرت در پرت اگے بند گوبھی کو بڑھتے دیکھنے کا مشاھدہ کرنا ھے۔۔۔ ہمیں لال یاقوتی چیری ٹماٹروں کے گچھے اپنی ہتھیلی پہ دھرنا ھیں۔۔۔ چمکیلے جامنی بینگن ، سرخ مرچیں ، پیلے لیموں ، سفید مولیاں ، اودے کاسنی شلجم ۔۔۔کھلتے جھومتے۔۔ خوشبو بکھیرتے رنگا رنگ پھول ۔۔

آپ کی قدرت کی یہ سب نشانیاں ۔۔قوس قزح کے سارے رنگ دیکھنا ہیں۔۔۔آپ جانتے ہیں ۔۔اور آپ ہی تو بس جانتے ہیں کہ کہاں ہے ہماری رسائی ان سب کھیتوں اور کھلیانوں تک۔۔ان حسین باغوں تک ۔۔۔ لیکن ہماری رسائی آپ تک تو ہے ناں۔۔۔ نعمتوں کے لیے کون روتا ھے جب نعمتیں عطا کرنے والے خالق کی رحمت مل جائے۔۔۔ اور آپ کے لیے کیا دشوار ہےے ان سب خواہشات کو یہیں اسی چھوٹی سی جگہ میں پورا کرنا۔۔ رب کریم بڑا بے نیاز ہے۔۔۔اسکی بے پایاں نوازشات اور رحمت کے صدقے اس نے ہر بار یہ پکار سنی ہے۔۔ ہر بار اپنی رحمت کی برسات کی ہے۔۔۔ ہر بار اور ہر رنگ میں نوازا ہے۔۔ کبھی دے کر۔۔ اور کبھی نہ دے کر ۔۔کیسے بتائیں کہ کیا کچھ ہے باغبانی! شکرگذاری کا جذبہ سکھاتی ھے باغبانی۔۔ ایمان کو پختہ بناتی ہے باغبانی۔۔۔۔کسی بھی مہربان کے کہے چند خوبصورت جملوں سے کہاں بیان ہوتی ہے یہ باغبانی ۔۔۔

یہ تو دل سے نکلی اس صدا کی مانند ہے جو لفظوں کی محتاج ہی کب ہوتی ہے۔۔۔ یہ تو رات کے پچھلے پہر سناٹے کو چیرتی صبح کی اذانوں کی پکار سی ہے جو دل پہ دستک دیتی ہوئی محسوس ہوتی ہے ۔۔وہ دستک جس کے جواب بھی آتے ہیں۔۔۔ خالقِ عظیم اور اسکی ادنی مخلوق کے درمیان خاموش گفتگو کا ربط ہے باغبانی۔۔۔!!!

اپنا تبصرہ بھیجیں