بات کچھ کی تھی،معانی اور پہنائے گئے – ابونثر




لو صاحبو! نیا سال شروع ہو گیا۔ سال فارسی زبان کا لفظ ہے۔ اُردو زبان میں سال کے لیے ہندی کا لفظ برس بھی استعمال کیا جاتا ہے۔عرب اِسے ’’عام‘‘ کہتے ہیں اور اس کے آتے ہی دعا دیتے ہیں ’’کل عام و انتم بخیر‘‘۔یعنی:۔

’’ہر سال اسی طرح آتا رہے، درآں حالے (اس حال میں) کہ تم خیریت سے رہو‘‘۔
(تا کہ ہمیں بھی خیریت سے رہنے کا موقع ملے،درآں حالے کہ تم کوئی شر، کوئی فساد نہ کھڑا کر دو۔)

جدید لغات میں لکھا ہے کہ: ’’سورج کے گرد زمین کی ایک پوری گردش کے برابر مدت کو سال کہتے ہیں‘‘۔ شمسی مہینوں کے حساب سے یہ مدت ۳۶۵ دن کی ہوتی ہے اور قمری مہینوں کے حساب سے ۳۵۴ دن یا ۳۵۵ دن بنتی ہے، کیوں کہ قمری مہینہ کبھی ۲۹ دن کا ہوتا ہے اور کبھی تیس دن کا۔ سال قمری ہو یا شمسی بہر حال بارہ مہینوں کا ہوتا ہے۔ان بارہ مہینوں کے لیے اردو میں کبھی سال استعمال کیا جاتا ہے، کبھی برس۔ (بر س کی ’’ب‘‘ اور ’’ر‘‘ دونوں پر زبر ہے ، جب کہ ’’س‘‘ ساکن ہے۔)دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندی کے اس لفظ برس کا تعلق برسات سے ہے۔ ایک موسمِ برسات سے دوسرے موسمِ برسات تک کے عرصے کو ہندی میں برس کہا جاتا ہے۔برسات سنسکرت کے لفظ ’’ورسات‘‘ کی بدلی ہوئی شکل ہے۔چناں چہ ’’برس‘‘ کے وہ معنی بھی شہر کراچی میں ہمیں برس کے برس سمجھ میں آجاتے ہیں،جو اس مصرعے میں ہیں کہ ’’اے ابرِ کرم آج اتنا برس، اتنا برس کہ وہ جا نہ سکیں‘‘۔ اِس دُعا کاجو نتیجہ اگلے برس نکلا اُسے شفیقؔ جونپوری نے یوں بیان کیا ہے:۔

برسات کے مزے کچھ اے ہم نفس نہ آئے
ساون گزر گیا وہ اب کے برس نہ آئے

اگر چہ سال کی جمع کے طور پرفارسی کا طریقہ ’’سال ہا‘‘ بھی رائج ہے، مثلاً ’’سالہا سال‘‘ لیکن اردو میں لوگ ’’سالوں‘‘ کا لفظ بھی بکثرت لکھتے ہیں جس سے ’’برادرانِ نسبتی‘‘مراد لے لیے جانے کا اندیشہ رہتا ہے۔ ہندوانہ تہذیب کے زیر اثربے چارے سالے اورسُسرے گالی ہی بن کر معاشرے میں زندہ رہ گئے ہیں۔ اس کا پس منظر بہت دلچسپ ہے، مگر قصہ طولانی ہے، پھر کبھی سہی۔
بر س کی جمع برسوں درست ہے، جو ہندی قاعدے کے مطابق ہے۔ ’’برس ہا برس‘‘ لکھنا غلط ہے ، کیوں کہ جمع بنانے کے لیے ’’ہا‘‘ کا استعمال صرف فارسی الفاظ کے ساتھ روا ہے۔شعر یا نثر میں جہاں سال کی جمع کے طور پر ’’سالوں‘‘ استعمال کرناپڑے، وہاں ذرا سوچ سمجھ کر استعمال کرنا چاہیے۔ کیوں کہ اس لفظ کے دوسرے معنوں کے پیشِ نظر مضحکہ خیز معنی بھی برآمدہوسکتے ہیں۔ وصی شاہ کا یہ شعر دیکھیے:۔

اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میں
دھوپ اُتری ہوئی ہے بالوں میں

شعر پڑھ کرہمیں یوں محسوس ہوا جیسے شاعر اپنی سسرال سے کوئی وفد لے کراس کے جلو میں اپنی سابقہ محبوبہ کے گھر جا پہنچا ہے۔یہی حال نثر کا ہے۔ ایک نام ور افسانہ نگار خاتون اپنے ایک افسانے میں ہیرو کی ہیئت بیان کرتے ہوئے لکھتی ہیں:۔

’’ شیرونے پانچ سال پہلے شہر میں شادی کر لی تھی۔شادی کے بعدوہ اب گاؤں آیا تھا۔ زیبو اسے دیکھ کربھونچکی رہ گئی۔پانچ سالوں نے تو اُس کا حلیہ ہی بگاڑ دیاتھا‘‘۔ (شادی کے بعد حلیہ تو بگڑ ہی جاتا ہے، مگر اس بگاڑ کے ذمے داروں کا تعین کرنا مصنفہ کاکمال ہے۔) شعر ہو یا نثر، لفظوں کا چناؤ کرتے ہوئے یہ دیکھ لینا چاہیے کہ کسی لفظ کے محل استعمال یا اُس کے تلفظ سے کچھ دوسرے معانی لیے جانے کا امکان تو نہیں۔ایسا نہ ہو کہ بقول خالد اقبال یاسرؔ: ’’بات کچھ کی تھی، معانی اور پہنائے گئے‘‘۔بعض اوقات کسی بہت اچھے لفظ سے بھی بُرے معنی نکل آتے ہیں۔ایک کتاب ہے ’’مشّاطۂ سخن‘‘۔ اس میں شاعروں کی معاصرانہ چشمک کے واقعات شامل ہیں۔ میر انیس اور مرزا دبیرّ کی معاصرانہ چشمک مشہور ہے۔اسی چشمک کا ایک واقعہ ڈاکٹر فرمان فتح پوری نے بیان کیا ہے۔آپ کی دلچسپی کے لیے ڈاکٹر فرمان فتح پوری کے الفاظ میںہم یہ قصہ نقل کرتے ہیں۔ (قوسین میں توضیحات ہماری طرف سے ہیں)۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں:۔

’’مشاطۂ سخن‘‘ میں معاصرانہ چشمک کی بحثیں ہیں۔ یہ سوداؔ کے بعد کی کتاب ہے۔ جس میں مختلف شعرا کے اشعار کی سیکڑوں مثالیں دی ہیں اور اغلاط پر گرفت کی ہے۔ میرانیس ؔجیسا بڑا شاعر، اس نے تعریف کرتے کرتے یہ مصرع کہہ دیا:۔
گنجِ نبی کے گوہر یکتا حسین ہیں
(گنج کا مطلب ہے خزانہ یا ذخیرہ۔گوہریعنی موتی کی مناسبت سے یہاں گنج کا لفظ استعمال کرنا غلط نہ تھا۔)
جتنے دبیریے بیٹھے تھے، انہوں نے ہنگامہ مچا دیا:’’ توبہ توبہ…استغفار…یہ کیا کہہ دیا؟‘‘
انیسؔ نے فوراً مصرع بدلا:۔
بحرِ نبی کے گوہر یکتا حسین ہیں
(بحر سمندر کو کہتے ہیں اور موتی سمندر ہی سے نکلتاہے، لہٰذا گوہر کی مناسبت سے بحر کااستعمال بھی غلط نہ تھا۔)

اب وہ شور اٹھا کہ الحفیظ والا مان’’ گنجے کے بعد بہرے۔ توبہ توبہ۔ انیس تو دوزخی ہو گئے …یہ کیا کہہ دیا؟‘‘
میرانیسؔ نے فوراً پینترا بدلا اور مصرع یوں دہرایا:۔
کانِ نبی کے گوہر یکتا حسین ہیں
(کان سے ہیرے نکلتے ہیں۔ ہیرے موتی کے الفاظ ایک ساتھ استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔)
اب تو دبیریوں نے چیخ پکار شروع کر دی: ’’اب کانے بھی کہہ دیا۔ انیس تو لعنتی، دوزخی ہو گئے ہیں‘‘۔
انیسؔ نے پھر مصرع پڑھا:۔
کنزِ نبی کے گوہر یکتا حسین ہیں
(کنز عربی کا لفظ ہے اور اس کا مطلب ہے دفینہ یا زمین میں دفن کیا ہوا خزانہ۔اس لفظ کے استعمال سے ’’ذم‘‘کا کوئی پہلو نہ نکلا۔ یوں انیسؔ کی جان چھوٹی۔)

الفاظ کا انتخاب کرتے ہوئے یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کوئی لفظ معنوی اعتبار سے یہاں استعمال کرنا درست بھی ہے یا نہیں۔ مثلاً ’’خوب صورت‘‘ کا لفظ ہر اُس شے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کی کوئی صورت ہو۔کوئی شخص، کوئی منظر، کوئی عمارت یا کوئی باغ تو خوب صورت ہو سکتا ہے۔ مگر کوئی شعر ، کوئی خیال، کوئی فقرہ یا کوئی مضمون خوب صورت نہیں ہو سکتا ۔اچھا ہو سکتا ہے، عمدہ ہو سکتاہے، اعلیٰ ہو سکتا ہے، بلند ہو سکتا ہے اور دل کش ہو سکتا ہے ۔ کسی کتاب کو خوب صورت کہا جائے توکتاب کی صرف ظاہری صورت مراد لی جائے گی۔جدت کے شوق میں بھی الفاظ کوبے سوچے سمجھے برتنے کی ایک ہوا چل پڑی ہے۔ اس ہوا میں بہت سے لوگ اُڑے ، بہت سے اب بھی اُڑ رہے ہیں۔ مشفقی و محبی جناب امجد اسلام امجدؔ اب توخیر اس قسم کی شاعری نہیں کرتے، مگر ایک زمانے میں وہ بھی کہہ چکے ہیں:۔

رنگ میں ڈوبا ہوا ہے قریۂ چشم خیال
بام و در سے پھوٹتی ہے خوش نما چہروں کی گونج
جاتے جاتے آج امجدؔ پاؤں پتھر ہو گئے
ہاتھ پر میرے گری جب نرگسی آنکھوں کی گونج

پہلے شعر میں گونج ’’پھوٹ‘‘ رہی ہے، جب کہ دوسرے شعر میں ’’گر‘‘ رہی ہے(وہ بھی ہاتھ پر)۔جب کہ گونج کا تعلق خوش نما چہروں سے ہے نہ نرگسی آنکھوں سے۔ یہ تو وہ آواز ہے جو گنبد،خالی مکان یا پہاڑی علاقوں میں دیر تک چکراتی پھرتی ہے۔ اسے ’’صدائے بازگشت‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔گونج وہ آوازہے جو کہیں سے ٹکرا کر واپس آتی ہے اور دیر تک مرتعش رہتی ہے۔علامتی طور پر کچھ آوازیں ذہن میں بھی گونجتی ہیں اور کبھی کبھی کانوں میں بھی گونج جاتی ہیں جسے کان بجنا کہتے ہیں۔ خیر، جہاں بھی گونجیں صرف آوازیں ہی گونجا کرتی ہیں۔ مگرکیا عجب کہ شاعروں کو دیکھ کر مارے ڈر کے چہرے بھی گونجنے لگتے ہوں اورآنکھیں بھی گونجنے لگتی ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں