محض ایک وجود یا علامت؟ – ہمایوں مجاہد تارڑ




سیاہ لباس غم اور ماتم کی علامت ہےـ اگرچہ کالا کپڑا بس ایک کپڑا ہے، اور کالا رنگ بس ایک رنگ۔’دریا’ باہر کی مادّی دنیا یعنی فزیکل ورلڈ میں بس ایک دریا ہے، ایک شے یعنی object ـ جبکہ انسان کے تجربہ و شعور اوراحساس کی دنیا میں یہ سفر، بہاؤ، نشوونما اور بالیدگی کی نمائندگی کرتا ہے، یعنی غیر مادّی تصوّرات کی علامت ہے۔ اسی طرح، ‘طلوعِ آفتاب’ اُمّید ، نئے مواقع اور نئے جنم کی علامت ٹھہرا۔ ایک ‘تہہ خانہ’ قید یا اسیری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ‘شاہین’ بلند پروازی، تحرّک، خود کفالتی، اور حکمتِ عملی کی علامت۔ ایک ‘قلعہ’ طاقت کی علامت۔ ‘روشنی’ بظاہر بس لائٹ ہے، جبکہ احساسی تجربہ میں یہ پاکیزگی، امّید، اور تقدّس کی علامت، جبکہ ‘اندھیرا’ مایوسی، احساسِ گناہ، فریب دہی، اور مذمّت کی علامت ۔۔۔۔۔

علامتیں یعنی symbols کیا ہیں؟
یہ ہماری زندگی میں باہر کے فزیکل ورلڈ سے متعلق ہمارے نان فزیکل احساسات کو جوڑنے میں پُل کا کردار ادا کرتی ہیں۔ ۔گویا علامتیں خارجی دنیا میں ہوئے تجربہ کو ہمارے باطنی تجربہ کیساتھ connect کردیتی ہیں۔ کوئی 15 برس گذرے، کیمبرج یونیورسٹی نے او لیول انگلش کے امتحانی پرچے میں ایک ٹاپک یہ بھیجا تھا: Who would you turn to, for help in a difficult situation, and why? یعنی مشکل وقت میں آپ مدد کے لئے کس کی طرف رجوع کریں گے، اور کیوں؟

ناچیز نے سٹوڈینٹس کو بتایا کہ آپ ایک عدد شخصیت کو متعارف کرا کر اس کی دو تین خوبیاں مختصراً ڈسکرائب کردیں، بالخصوص دوسروں کے لیے مددگار ہونے والی خوبی۔ تب دو یا تین واقعات کی تفصیل دیں جو evidence یا illustration بن جائے گی۔پری رائٹنگ فیز (مرحلہ) میں مضمون کے متن اور عبارت کو مؤثر بنانے کے لئے وہی روٹین کی کچھ ٹِپس، پھر ٹاپک وائز کچھ خصوصی نکات اور متعلقہ الفاظ یعنی relevant vocabulary کا ذخیرہ وغیرہ کیا گیا۔ تاہم، اس بات پر تاکیدی زور کہ آپ اپنی اپنی زندگی میں جھانک کر پوری سچّائی کیساتھ وہ بندہ تلاش کریں، گھر میں، سکول میں، رشتہ داروں میں کہ جس کے ساتھ آپ اپنی پریشانی شیئر کرنا چاہیں گے۔

آپ یہ سُن کر حیران ہوں گے، ایک بچّے نے مضبوط لب و لہجہ میں، خوب جما کر اپنے ‘وین ڈرائیور انکل’ کو یاد فرمایا۔ نہ کوئی دوست، نہ استاد، نہ والدین، نہ کزنز، نہ کوئی محلّے دار۔۔۔ بلکہ وین ڈرائیور انکل۔ اب why کے لئے وجہ ملاحظہ فرمائیں۔ بچے نے کچھ اس طرح لکھا تھا:
…because he always keeps smiling, and never ever loses his temper against our delays and the kind of fuss we make
پھر ایک دو عدد سچے واقعات لکھ کر اُس نے مہر ثبت کر دی کہ کیسے، ایک دو مرتبہ مشکل صورتحال پیش آگئی مثلاً ٹریفک جام ہو گیا، یا گاڑی کا ٹائر فلیٹ ہو گیا وغیرہ تو ڈرائیور انکل نہ صرف پریشان نہیں ہوئے بلکہ اپنے شاندار رویّے سے انہوں نے دوسروں کے لئے ماحول کو خوشگوار بنائے رکھا۔ نیز، بعض شرارتی اور غصیلے بچوں سے نبٹنے کا مشفقانہ و دانش مندانہ انداز ۔۔۔

کہنا کیا ہے؟
مبارک ہے ایسی ایک زندگی، ایک ایسا وجود جو بظاہر تو بس ایک وجود ہےـ گوشت پوست کا بناـ مگر ساتھ میں وہ کسی دوسرے شخص کے جیون میں ڈھارس بنا بیٹھا ہو۔ اُس کے لئے امّید، خوشی، راحت، امن، طاقت اور مدد وغیرہ کی علامت بھی۔ کیا آپ کی زندگی میں ایسا کوئی کردار ہے جس کے لئے آنکھیں چھلک پڑیں؟ دیکھنا ہو گا، ہم میں سے کون کس کے جیون کا ‘وَین ڈرائیور’ ہے۔ بس ذرا مجبوری کا ساتھ ہے یا اس سے بڑھ کر کچھ اضافی معنویت بھی رکھتا ہے؟ تو ‘وین ڈرائیور انکل’ گویا ایک علامت ٹھہری۔۔۔۔ مدد، تحفّظ، نرمی، شفقت کی علامت!

اب آپ سوچیں، یہ کِس قدر خطرناک بات ہے۔ یعنی جس بچے نے یہ ریفلیکٹِو مضمون لکھا تھا، آپ اُس کے ہاتھ میں کسی روز ‘آسکر ایوارڈ’ دے کر فراخدلی سے کہہ دیں: ‘دے دو جسے دینا ہے،’ تو وہ کیا کرے گا؟ نہ کوئی دوست، نہ اس کی ماں، نہ باپ ۔۔۔ بلکہ وَین ڈرائیور۔ کیوں؟ اسی ‘کیوں’ کا تعاقب ہمیں یہ urge دے سکتا ہے کہ ہم بھی وہ ڈیوائس اپنے اندر کہیں سے فِکس کرالیں جو بعض لوگوں میں built-in یا پیدائشی طور پر آلریڈی لگی ہوتی ہے۔۔۔ خلافِ مزاج اور خلافِ توقع صُورتِ حال پر بلاسٹ نہیں کرتے۔ معاملات کو بیشتر نرمی اور دانائی سے نمٹاتے ہیں ۔۔۔ ایسے لوگ سراپا رحمت ہوتے ہیں۔ خیر، ایسی سب علامت نما ہستیوں کو راقم کے دل کا سلام!

اپنا تبصرہ بھیجیں