Home » نانی کا گھر – نوشین صدیقی
ادب

نانی کا گھر – نوشین صدیقی

میرے بچپن کے دن کتنے اچھے تھے دن
آج بیٹھے بٹھائے کیا یاد آگئے
میرا بچپن مجھے یوں لوٹا دے کوئی۔۔۔۔

کانوں میں گونجتی اس آواز نے آج کئی سال پہلے کی یاد دلادی۔ جب گرمیوں کی چھٹیوں کا بے چینی سے انتظار رہتا تھا۔ اس وقت چھٹیاں عموما جون کی پہلی تاریخ سے 31جولائی تک ہوا کرتی تھیں اور پہلی اگست سے اسکول کھلتے تھے ۔31مئی اسکول کا آخری دن ہوتا تھا اور اس دن چھٹیوں کا کام سپرد کیا جاتا ہے جس میں اردو اور انگریزی کے 50 تا 100صفحات لازمی لکھائی کے ملتے تھے جس کے پیچھے جو وجہ تھی وہ اب سمجھ آتی ہے کہ بچہ جتنا لکھے اتنی لکھائی اچھی ہوگی اور ساتھ لکھتے لکھتے پڑھنے میں روانی بھی آئے گی۔ ہم عموما گرمیوں کی چھٹیاں اپنی نانی کے گھر گزارتے تھے کیونکہ وہ شہر سے باہر رہتی تھیں۔۔چھٹیوں کا اعلان ہوتے ہی امی کا اعلان یہ ہوتا تھا کہ جتنی جلدی کام ختم ہوگا اتنی ہی جلدی ہم جائیں گے۔ بس تو پھر کیا تھا ۔۔۔۔ تن ،من ،دھن سے ہوم ورک شروع ہوجاتا تھا تقریبا ہفتہ سے دس دن لگتے تھے کام ختم کرتے کیونکہ کام بہت ملتا تھا۔ظاہر ہے دو ماہ کی چھٹیاں ہوتیں تھیں۔

ہم بھائی بہن کام لے کر بیٹھتے تھے اور ساتھ امی سلائی مشین جس میں بچوں کے نئے کپڑے سئیے جاتے تھے۔ اس وقت نئے کپڑے عید بقر عید یا کسی شادی پر ہی بنتے تھے ۔ تب جون جولائی میں عید یا بقرعید اکثر ہوتی تھی۔ اسی طرح تیاریاں ہوجاتی تھیں۔۔۔۔اس زمانے میں بس سروس بہت عام نہیں تھی ۔ہم عموما ٹرین سے جایا کرتے تھے ۔ یہ یاد ہے کہ صبح کی کوئی ٹرین تھی جس میں ہم نیند میں بیٹھتے تھے اور آنکھ کھلتی تھی تو نواب شاہ(جو اب بینظر آباد ہے) آجاتا تھا۔ یہاں سے ابو بٹھاتے تھے اور وہاں کوئی نہ کوئی ماموں لینے آجاتے تھے۔ گھر کے دروازے پر ایک پردہ تھا جہاں سے چھپ کر دیکھنے کی اپنی خوشی ہوتی تھی کہ کون کون نظر آرہا ہے اور ہمارے جھانکنے سے پہلے سامنے کچن کی کھڑکی سے کوئی ہمیں پہلے پکار لیتا ہے۔ نوابشاہ ایک تاریخی شہر ہے اس وقت بالکل ترقی یافتہ نہیں تھا ۔ ایک چھوٹا شہر ہے اب بھی مگر وہاں جاکر رہنے کی خوشی کسی پیرس سے کم نہیں تھی کیونکہ وہاں محبت تھی۔چند ملنے والے تھے جہاں کبھی کبھی چلے جاتے تھے۔

کبھی ماموں موٹر سائیکل پر گھما دیتے تھے یا کبھی ٹانگے کی سیر ۔۔۔۔ٹانگے کی سیر تو میرے لئے جیسے رولر کوسٹر تھی ۔۔۔۔یہاں یہ بتانے کا مقصد صرف یہ کہ خوشیاں پیسے اور بڑی چیزوں کی محتاج نہیں ہوتیں۔ ہم نیند میں ہوتے تھے تو ایک گرجدار آواز آتی تھی ناشتہ کرلو پھر سوجانا جی یہ ہماری نانی تھیں۔۔۔بہت ہی بارعب اور خود دار خاتون جو آج کی کسی پی ایچ ڈی خاتون سے کم نہیں ۔۔۔زمانے کا علم تھا ۔اور بلا کی خود اعتمادی جو آج کی عورت میں بھی نہیں دکھتی۔۔۔قرآن و نماز کی پابند اور آخر زندگی تک اپنے ہاتھوں سے اپنے کام کرنے والی ابھی دو سال پہلے اپنی ابدی زندگی میں لوٹیں(بے شک ہم اللہ ہی کہ ہیں اور اسی کی طرف جانا ہے)۔ اس وقت ہمارے دو کزنز جو بڑے ماموں کے بیٹے تھے وہاں ہوتے تھے اور دو ہم ۔۔۔۔ہمارا ملکر کھیلنا ،سخت گرمی میں فریج سے آئس کیوب نکال کر کھانا اور ڈر سے بغیر چپل تپتے صحن میں بھاگنا۔۔۔۔صحن میں بھاگتے ہوئے پاؤں کا جلنا اور یہ بڑبڑانا کہ چوری کی تو اللہ نے پاؤں جلائے۔ اپنے سے چھوٹے تینوں کو بار بار کہنا کہ اللہ نے سزا دی اب نہیں کھائیں گے۔ اسی طرح بھاگتے دوڑتے شام ہونے لگتی تھی۔

شام کا ایک الگ منظر تھا ۔پانی کی مشین چلائی جاتی تھی وہاں عموما کھارا پانی ہوتا تھا تو شام میں میٹھا پانی بھرا جاتا تھا ،نہانے دھونے کا کام ہو ،یا مٹکے میں پانی بھرنا سب اسی وقت ہوتا تھا ۔ساتھ ہی بڑے سے صحن میں پانی ڈالا جاتا تھا تاکہ صحن ٹھنڈا ہوجائے ۔ وہ ابھی بھی یاد ہے کہ جب صحن میں پانی ڈالا جاتا تھا تو تپش کی وجہ سے باقاعدہ فرش سے دھواں شو کی آواز کے ساتھ اٹھتا تھا جو کسی ایڈوینچر سے کم نہیں تھا۔ برآمدے کے پردے ہٹائے جاتے تھے تاکہ گھر ٹھنڈا ہو اور ساتھ ساتھ چارپائیاں ڈال دی جاتیں تھی ۔ ان ہی چارپائیوں پر گرمی کی راتوں میں سویا جاتا تھا۔۔۔ شام میں بچوں و بڑوں کے لئے سکنجبین بنائی جاتی تھی جس کا ایک مخصوص اسٹیل کا برتن تھا یا کبھی خالہ پیسے دے کر آئس لولی کھانے کا کہتی تھیں اس وقت دو روپے کی آتی تھی جو وہاں صرف احمد بیکری پر ملتی تھی۔ ہم چاروں کو سیڑھیوں پر بٹھادیا جاتا تھا اور وہاں آئس لولی انجوائے کرتے تھے وہ آئس لولی کسی Baskin Robbins سے کم نہیں تھی۔

رات کا کھانا بھی ذیادہ تر صحن میں بچھی چارپائیوں پر ہی کھاتے تھے اور اس کے بعد اسٹیل کی بڑی سی بالٹی میں تازہ برف کے ساتھ بھیگے آم افف کسی ریڈ ویلویٹ کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ بستر تو شام ہی بچھا دیئے جاتے تھے اور تقریبا دوچارپائیوں پر ایک پنکھا سیٹ کیا جاتا تھا ۔۔۔۔ سونے کی تیاریاں مکمل اور ٹھنڈی چاندنی راتوں میں سونے کا مزہ کسی اسپلٹ اے سی سے کم نہیں تھا ۔ ویسے وہاں ACاور کولر کی سہولتیں موجود تھیں جو دن کے اوقات میں استعمال کی جاتی تھیں مگر رات کو باہر ہی سویا جاتا تھا۔ صبح کی وہی چہل پہل صحن میں سونے سے سویرے ہی آنکھ کھل جاتی تھی اور وہ ناشتوں کی گھما گھمی ۔۔۔۔جو منہ سے نکلا پورا ہوجاتا ۔ گھر کے ساتھ ایک جرنل اسٹور اور ساتھ راشن کی دکان تھی۔ وہاں ماہانہ حساب تھا اور ہم معصوم یہ سمجھتے تھے کہ وہاں سب فری ملتا ہے

اکثر کراچی واپسی پر اپنے اسکول و محلے کی سہیلیوں میں یہ شو بھی ماری جاتی تھی کہ نواب شاہ میں تو سب کچھ فری ملتا ہے۔ وہاں سبز دھنیا اور ہری مرچ سبزی کے ساتھ فری تھی اور اب لاہور میں دیکھا کہ دھنیا و مرچ ساتھ دیتے ہیں البتہ کراچی میں آج تک ایسا کوئی رواج نہیں۔ وہاں کی فردوس بیکری کے کریم پف بڑے ذائقہ دار ہوتے تھے آج بھی اس کریم کا مزہ یاد آ جاتا ہے اتنی ہلکی و لذیذ جو کسی فائیو اسٹار کے کریم رولز کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ شام کی چائے پر بلب میں رکھے ہوئے ٹائی کھارے مزہ دوبالا کر دیتے تھے ۔ تب فرینچ فرائیز،نگٹس،یا برگر پیٹیز نہیں کھائے جاتے تھے ۔ تازہ کھارے اور چائے یا کبھی گھر کی بنی چاٹ ،دہی بڑے ہوجاتے تھے۔ نعمت خانہ کیا ہوتا ہے پہلی مرتبہ وہاں دیکھا ۔۔۔۔نام کتنا پیارا اس میں پانی کے مٹکے اور بچا ہوا کھانا رکھا جاتا تھا کھانے پینے کی چیزیں فریج میں رکھنے کا رواج عام نہیں تھا جبکہ فریج موجود تھا۔

نعمت خانہ کے نیچے ڈھابلی بنائی جاتی تھی جس میں گھر کی صفائی ستھرائی کا سامان چھپا ہوا سلیقے سے رکھا ہوتا تھا۔ ساتھ ایک کمرہ جو اسٹور کہلاتا تھا ۔ وہاں بکسے ،اٹیچیاں موجود تھے جن میں بستر ،چادریں ،سردی ،گرمی کا سامان رکھا جاتا تھا ۔ اس کے علاؤہ اسٹور میں اضافی راشن کی بھی جگہ تھی ،استری کا انتظام بھی وہیں تھا ،صفائی تو اتنی تھی اور بڑا بھی تھا کہ شادی بیاہ کے موقعوں پر کسی مہمان کو بھی ٹہرایا جاسکتا تھا۔ لوگ اکثر پوچھتے تھے کہ وہاں تو گھر میں ہی چھٹیاں گزرتی ہیں دل کیسے لگتا ہے ۔ تو دل تو پیار ، محبت ، چاہ ، اور خیال سے لگتا ہے ،توجہ سے لگتا ہے ورنہ تو دنیا کی بڑی سے بڑی نعمت کے باوجود بھی خوشی نہیں ملتی۔ جیسے جیسے واپسی کے دن قریب آتے تھے دل کو کچھ ہونے لگتا تھا مگر ایک نہ ایک دن جانا تو ہوتا ہے اسی طرح جیسے دنیا عارضی ہے۔ وہ میری زندگی کا ڈریم ہاؤس تھا۔وہاں کے بازار اور شوگر مل کو دیکھنے کی بھی کشش آئیفل ٹاور ،نیاگرا فال سے کم نہ تھی۔۔

اسی طرح دو ماہ پلک جھپکتے گزر جاتے تھے اور واپسی بھی خوب لوازمات کے ساتھ ہوتی تھی جس میں پسندیدہ تحائف اور کھانے کی اشیأ ساتھ دی جاتی تھیں اس کے علاؤہ پیاری خالہ پورے سال ایک ڈبے میں سکے جمع کرتی تھی جو سال میں بھر جاتا تھا وہ بھی ساتھ دیا جاتا تھا جس کی خوشی خرچ کرنے سے ذیادہ بجانے کی ہوتی تھی۔۔لکھنے کو تو بہت کچھ ہے ۔۔۔۔۔۔بس وہ قیمتی یادیں سمیٹ لیں چند الفاظ کے ذریعے جو اس محبت کا جواب تو نہیں دے سکتیں مگر شاید یاد رکھی جاسکتی ہیں۔۔۔۔

میرے بچھڑوں کو مجھ سے ملا دے کوئی
میرا بچپن کسی مول لا دے کوئی

کتنی بے لوث تھی اپنی وہ دوستی
کتنی معصوم تھی وہ ہنسی، وہ خوشی

جھومتے گاتے، ھنستے ہنساتے
اک دوجے پہ جان لٹاتے

کاش پھر وہ زمانے، دکھا دے کوئی
میرا بچپن کسی مول لا دے کوئی

وہ گڑیوں کی شادی، وہ بچپن کی ریل
یونہی سب مل کے اک گھر بنانے کا کھیل

کیسے سہانے دن تھے پرانے
اک اک کھیل میں سو افسانے

سب کے سب وہ فسانے سنا دے کوئی
میرا بچپن کسی مول لا دے کوئی

Add Comment

Click here to post a comment

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。