Home » تمغہ – ساجدہ پروین
ادب

تمغہ – ساجدہ پروین

نہ میں شاعر،نہ ادیب
میں صنفِ نازک ہوں
میں عورت ہوں !
اور ہاں میں ایک بیٹی ہوں

اوڑھنی میں لپٹی ہوئی
زرد زرد سی
کل سے خوف زدہ
اماں ابا کی اپنی جانب
اٹھتی ،تھکی تھکی سی
نظروں میں اپنے خواب کھوجتی
حسرتوں کا لبادہ اوڑھے
میں ایک بیٹی ہوں
میں ایک بہن بھی تو ہوں
بھائیوں کے فخر سے تنی ہوئی
دل ہی دل میں دعائیں مانگتی ہوئی
سہاروں میں گھری لرزتی ہوئی
اور گڈوں سے بھی ڈرتی ہوئی
پر میں تو ایک بیوی ہوں

چھلنی کرتی نظروں سے تن لرزیدہ بچاتی
نشتر جیسی باتوں کے وار سہتی
مسکراتی ہوئی
وفاؤں کی دہلیز پہ
دامن میں وفاؤں کے پھول لئے
ایفائے عہد کی منتظر
محبت کی پناہ ڈھونڈتی ہوئی
میں ایک بیوی ہوں
اور ہاں سنو تو
میں ایک ماں ہوں

جنت سے بھی اوپر
تقدس کی دہلیز پر
ممتا کی چھاؤں سے
تن کو لٹاتی ہوئی
رت جگے کی لالی
آنکھوں میں سمیٹے
مسکراتی ہوئی
اپنے لال کو بانہوں پہ جھلاتی
بلائیں لیتی ماتھا چومتی ہوئی
تن من سب نچھاور
نہ صلے کی تمنا، نہ کچھ اور چاہوں
میرا فخر فقط میرا لال
میں شاعر نہ ادیب
میں صنفِ نازک ہوں

میں عورت ہوں
رنگ حیات میرے دم سے ہے
ذرا سوچو تو
کیا میرے لئے بھی کوئی
تمغہء حسن_کارکردگی ہے ؟

Add Comment

Click here to post a comment