Home » روزہ،پکوڑا اور مار – لطیف النساء
ادب

روزہ،پکوڑا اور مار – لطیف النساء

عجیب سی بات ہے روزے کا سن کر ہی انسان کو خوشی سی محسوس ہوتی ہے اور رمضان کا بندہ منتظر رہتا ہے . بلکہ یوں سمجھیں دن دن گنتا ہے۔ شکر الحمد للہ ۔ کبھی میں سوچتی ہوں کہ میرے آج کے روزے اور بچپن کے رکھے گئے روزے میں کیا فرق ہے؟ نظروں میں بچپن کی حماقتوں کی فلم چل رہی ہوتی ہے .

اتفاقاً ہمارے ایک بھائی صاحب آگئے. ہم نے ان سے پوچھا بتائیے آپ کے رمضان کیسے گزرتے ہیں؟؟ انہوں نے کہا بہت اچھے اور وہ ماشاء اللہ نمازی اور مخلص بندے ہیں. پھر ہم نے پوچھا کیا، آپکو احمد بھائی اپنا پہلا روزہ یادہ ہے۔ پہلے تو مسکرائے پھر کہا روزے کا پورا دن تو یاد نہیں مگر کوئی روزہ کھولنے سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے کی صورتِ حال میں کبھی نہ بھولوں گا! پھر تو ہم بضد ہوگئے کہ بتائیں کیا ہوا تھا؟ کہنے لگے معلوم نہیں کیا ہوا تھا۔ رات کو ہمیں اٹھایا گیا ….. گھر میں کافی مہمان تایا، چچی، پھوپھو سب ہی لوگ تو تھے۔ ہاتھ منہ دھلوا کر وضو تک کروایا گیا پھر سب نے ہی کھانا کھایا۔ ہم بھی کچھ کھا کر یاد نہیں ابو کے ساتھ شاید نماز کی ان کے ساتھ ساتھ ادائیگی کی جو کچھ زبانی یاد تھا پڑھتے گئے. سجدے کرتے گئے پھر سو گئے۔ پوچھا اس وقت آپ کتنے سال کے تھے؟ کہا کہ 8 یا9 سال کے ہونگے۔ صبح اٹھ کر اسکول چلے گئے آکر پھر سو گئے کسی نے کچھ نہ کہا جب شام کو اٹھے تو بڑی بھوک پیاس کا احساس ہوا۔ گھر میں کافی سارے لوگ تھے اور باورچی خانے میں ڈھیروں پکوڑے بن چکے تھے۔ صبح سے سمجھایا جا رہا تھا کہ کچھ کھانا پینا نہیں ہے۔

مگر نہ جانے کیسے ایک پکوڑا ہاتھ لگ گیا اور گیلری میں لے جا کر ہم نے مزے مزے لے کر کھانا شروع کیا اس منظر کو ہماری بڑی آپا نے اچھی طرح دیکھ لیا اور پکڑ کر لے گئیں۔ ایک دو ہاتھ بھی مارے پھر جو ابو سے امی سے پٹائی ہوئی تو سمجھو چودہ طبق روشن ہوگئے نہ پیاس رہی نہ بھوک کا احساس، نہ مہمانوں کی لاج بس جو یاد رہا وہ “روزہ، پکوڑا اور مار”اچھا تو پھر کیا ہوا؟ مجھے یاد نہیں سارے ہی مہمان گھر میں رہ گئے دوسری رات پھر جگایاگیا اور سحری کرواکر روزہ رکھوایا گیا۔ پابند کردیا کہ کہیں نہیں جا ؤ گے اسکول کے علاوہ اسکول میں بھی سب کو بتایا کہ آج بھی میرا روزہ ہے۔ گھر آکر سب نے مجھ پر نگاہ رکھی تھی۔ گیلری میں تک جانے کی اجازت نہیں تھی۔ بڑی آپا نرمی سے ملتیں، گلے لگاتیں اور وقفے وقفے سے بتاتیں کہ ابھی بس تھوڑا سا وقت ہے ابھی روزہ کھلنے والا ہے اور واقعی نہ جانے کیسے وقت پورا ہوگیا، دعا پڑھوائی گئی روزہ انتہائی ایمانداری سے رکھا، دعا پڑھ کر روزہ کھولا تو مزہ آگیا خوشی بھی ہوئی باقی تو یاد نہیں مگر میری آپا مجھے لیکر سامنے روٹی والے کے پاس تندوری روٹی لینے چلی گئیں۔

ہار جو پھولوں کا مہمانوں میں سے کسی نے پہنایا تھا وہ گلے میں اعزازی طور پر لٹکا رہا آپا نے اسے اتارنے نہیں دیا۔ ہار پہن کر خوشی خوشی جب روٹی والے کے پاس گئے تو اس نے پوچھا کیا بچے نے روزہ رکھا تھا؟ کہا جی ہاں۔ تو تندور والے نے دس روپے بھی دیئے، روٹی بھی جس کی اتنی خوشی مجھے ہوئی کہ آج تک یاد ہے گھر میں آکر بھی سب کو دکھا یا اور پھر وہ پیسے کہاں گئے یاد نہیں۔ مگر دس روپے ملنے کی بے پناہ خوشی اب تک نہال کیے دیتی ہے۔ پھر اس کے بعد آپ نے کتنے روزے رکھے؟ بتا یا کہ شاید ایک 27 رمضان کا بڑا روزہ رکھوایا تھا اور آخری روزہ رکھوایا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ دو تین برسوں میں جمعہ جمعہ رکھتے۔ پورے روزے رکھنے لگے اور اب تک ماشاء اللہ رکھتے ہیں اور اب واقعی سمجھ آتا کہ روزہ صرف صرف کھانے پینے سے پرہیز کا نام نہیں بلکہ واقعی روزہ ڈھال ہے برائیوں، بے ایمانیوں اور دیگر نفسی خواہشات سے بچے رہنے کا اور واقعی بھوک پیاس کا احساس ہمیں دوسروں کی بھوک پیاس کا احساس دلا تا ہے اور واقعی ہمیں ایسے لوگوں کی مدد کرنے کا دل چاہتا ہے جو ہمیں غریب مسکین لگتے ہیں، کمزور لگتے ہیں یا وہ بیمار ہوتے ہیں۔

میں نے پوچھا اور کیا محسوس کیا؟ مطلب اب کیسا لگتا ہے روزہ رکھکر؟ کہا آہستہ آہستہ یہ احساس پختہ ہو گیا کہ یہ وہ عبادت ہے جو ہم پر فرض ہے اور اس کا اجر اللہ ہی دے گا۔ جب ہم پورا دن اپنی پسندیدہ کھانے پینے کی بیشمار اشیاء سے پرہیز کرسکتے ہیں۔ اللہ کے حکم کو مانتے ہوئے تو پھر تو ہم ہر طرح کی برائیوں اور گناہ سے بچ سکتے ہیں۔ اس طرح دوسروں کا احساس جگا کر ہم ہر دم اچھے کام کرسکتے ہیں بلکہ ضبط پابندی کنٹرول، اوقات نماز اور ان کی ادائیگی اور ان مناظر میں ایک عجیب سی خوشی کا احساس ہمیں بڑا ہلکا پھلکا اور مسرور رکھتا ہے جو عام دنوں سے ہٹ کر ہوتا ہے اور جب روزہ کھولتے ہیں تو الگ خوشی ہوتی ہے مزہ آتا ہے۔ پھراگلے دنوں میں تو ہمارے ابانے کہا تھا کہ روزانہ کے چار آنے ملیں گے اگر روزہ رکھیں تو۔ پھر تو ہم سب کی کوشش ہوتی تھی کہ سارے روزے رکھیں اور ہم رکھتے تھے اور عید کے دن ساڑھے سات روپے ملتے تھے جو اتنے زیادہ ہوتے تھے ایک طرح کی عیدی بھی تھی اتنی زیادہ عیدی جو روزے رکھنے پر ملی ختم ہی نہیں ہوتی تھی۔

ڈھیروں چیزیں خریدنے کے باوجود!! پھر خود ہی کہنے لگے کہ روزے چار آنے کی وجہ سے نہیں رکھنے چاہئیں نہ ہی یہ لالچ ہونا چاہئے بلکہ آج میں سب کو بتاتا ہوں کہ روزے خالصتاً اللہ کیلئے رکھنا چاہئے عبادت سمجھ کر اور اس بات کے یقین کے ساتھ کہ اس کا اجر ہمیں اللہ ہی دے۔ انشاء اللہ برائیوں سے بچتے رہنا ہی روزے کی روح ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment