کوثر کی ڈائری …… "ہوبیز" – بنتِ حسام الدین




ہماری ایک بہت قریبی جاننے والی ہیں۔ ان کو بچپن سے بہت سارے مشغلوں کا شوق تھا۔ یعنی ان کی بہت ساری ہوبیز تھیں۔ریڈنگ، رائٹنگ، ڈرائنگ، کلرنگ، پینٹنگ، فلاور میکنگ، میوزک، ٹی وی، پتے سکھانا، کارڈز بنانا، سلائی، کڑھائی، کریشیہ، نٹنگ، سٹف ٹوائز بنانا، پیپر ڈالز اور گڑیوں سے کھیلنا، اسکریپ بکس بنانا کچن سیٹ، ٹی سیٹ، گلاس سیٹ، باغ بانی اور بہت کچھ۔ ان چیزوں کے ساتھ بہت مگن خوش وخرم رہتی تھیں۔
وقت آگے بڑھتا رہا، نرسری، کے جی، اسکول، کالج، یونیورسٹی۔ سب کے ساتھ ہوبیز بھی گاہے بگاہے ساتھ ساتھ رہیں۔ پھر شادی ہو گئی۔ بچے ہو گئے۔ ساری ہوبیز بھی وقفے وقفے سے رہیں۔ گھر میں رہ کر خود ہی چیزیں بنانے کا شوق، ضرورت کی، سجاوٹ کی، گفٹ کے لئے ، ان کے ساتھ ساتھ رہا۔ وقت گزرتا رہا۔ پھر وہ بدل گئیں۔ دینی رنگ چڑھ گیا۔ مدرسہ جانا شروع کیا۔ بچے، گھر مدرسہ، مصروفیت کا دائرہ بڑھ گیا۔ اور ساری ہوبیز پسِ پشت چلی گئیں۔ لیکن پھر بھی کسی نہ کسی وقت وہ ان ہی ہوبیز کا ہاتھ پکڑے ہی رہتیں کبھی نہ چھوڑتیں۔
بہت عرصے بعد ایک دن ان سے ملاقات ہوئی تو پوچھا کہ آپ کی تو اتنی ہوبیز تھیں کیا ابھی تک ان سے دل بہلایا جارہا ہے؟ یا سب چھٹ گئیں؟ یہ سن کر وہ ہنس پڑیں۔ انھوں نے محبت سے ہمارا ہاتھ پکڑ لیا اور بولیں، پیاری بہن ، اللّٰه سبحانہ تعالیٰ کا بڑا بڑا فضل اور احسان کہ اس نے مجھے اتنے اتنے خوبصورت مشغلوں سے نوازا اور ہمیشہ ان سے جوڑے رکھا۔ اب اس نے کرم کیا ہوبیز وہی ہیں بس میرا مٹیریئل بدل دیا ہے اللّٰه پاک نے۔ ہم حیرانی سے بول اٹھے، کا مطلب؟
انھوں نے ہماری طرف پیار سے دیکھا اور بولیں، جب بچے چھوٹے ہوتے ہیں تو ان کو ایسا مٹیریل دیا جاتا ہے جس کے خراب ہونے سے کوئی نقصان نہ ہو، یعنی بیکار ختم ہو جانے والا مٹیریئل۔ پھر اور بڑے ہوتے ہیں تو اس سے بہتر چیزیں لیتے ہیں، مثال کے طور پر پہلے چھوٹے کاغذ پرزوں پر پنسل کلر کرتے ہیں، پھر مارکرز اور بڑی ڈرائنگ بکس پر، پھر واٹر کلرز اور بہتر پیپرز پھر آخر کو آئل پینٹس اور کینوس پر آجاتے ہیں۔ ہے کہ نہیں؟ انھوں سوالیہ انداز میں ہمیں دیکھا۔ ہم نے اثبات میں سر ہلایا، بالکل ٹھیک۔ پھر وہ بولیں جتنا بہتر مٹیریئل ہوتا جاتا ہے خراب ہونے پر اتنا ہی زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اس بات کو دیھان میں رکھیے۔ پھر وہ دوبارہ گویا ہوئیں کہ یہ سارے مٹیریئلز ختم ہو جانے والے ہیں، فانی ہیں۔ اللّٰه پاک نے مجھے ہمیشہ رہ جانے والا اور دائمی پینٹ باکس اور برش عنایت فرما دیا۔ اور جو تصویریں ہیں، وہ بھی اللّٰه پاک نے بنا دیں ہیں ۔ انھی میں رنگ بھرنا ہے۔ ہماری حیرانی دوچند ہو گئی۔ کیسا اور کون سا پینٹ باکس اور برش؟؟ اور کون سی تصویریں ؟؟
میری پیاری بہن قرآنِ کریم اللّٰه پاک کا دیا ہوا دائمی پینٹ باکس ہے خوبصورت اخلاق کا جس میں اللّٰه پاک کے سب سے خوبصورت کلرز ہیں۔
الله پاک نے اپنے قرآن کے اعلی اخلاق سے سب سے بہترین نمونہ ہمارے سامنے رکھ دیا کہ انھی کے ذریعے سے اور انھی کا جیسا ہمارے بنائے ہوئے بندوں پر رنگ بھرو اخلاق کے ۔ تو رسول اللّٰه ‎ﷺ‎‬ كی ذاتِ عالی کی رہنمائی اور سنتیں ( اور صحابہ کرام رض اور دوسرے تمام نیک صالحین لوگ) ہمارا برش ہیں اور نمونہ ہیں کہ کون سا کلر کہاں کرنا ہے۔ وہ پھر بولیں ، تو پیاری بہن ہم بالغ ہونے کے بعد زندگی کے ایسے دائرہ کار میں آگئے ہیں کہ یہی پینٹ باکس اور برش ہماری سب سے اہم اور قیمتی چیز بن گئی ہیں۔ اور اگر ہم نے خراب پینٹ باکس اور برش(نفس و شیطان اور خراب کمپنی ) اپنے آپ پر اور اللّٰه کے بندوں پر آزمائے تو ایسا نقصان ہونا ہے جو دائمی ہوگا۔ تو سب سے پہلے ہمیں اپنے آپ کو پینٹ کرنا ہے۔ خوبصورتی سے اپنے آپ کو سنوارنا ہے۔ الله پاک سورہ اعلیٰ میں فرماتے ہیں ۔۔
قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ﴿١٤﴾بے شک بھلا ہو اس کا جو سنورا ……اور سورہ شمس میں فرماتے ہیں ۔۔ قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا ﴿٩﴾بے شک وہ کامیاب ہوا جس نے اپنی روح کو سنوار لیا……..پھر تھوڑی دیر خاموش رہ کر بولیں ، اب ہم اپنے بچوں میں تو خود اللّٰه پاک کے خوبصورت رنگ سنتوں کے ذریعے بھرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ان کے اخلاق سنوارنے کی کوشش کر سکتے ہیں ۔ اور اس کا پہلا اصول یہی ہے کہ پہلے خود اپنے آپ کو رنگیں ،پھر بچے خود بخود یہ رنگ پکڑ لیں گے اور پھر جب وہ بڑے ہو جائیں تو ان کو خود ہی یہ کام کرنا ہے لیکن گائیڈ کرنے والے تو ماں باپ ہی ہیں نا۔ تو بچے ہمارا سب سے قیمتی کینوس ہیں اگر ان کے اخلاقی رنگوں میں خرابی کر دی تو بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اور دوسروں کو ان رنگوں اور برش کا بتانا بھی ہمارا کام بنا دیا کہ سب کو خود ہی اپنے آپ کو سنوارنا ہے۔ لیکن کوئی ان کو بتائے تو کہ رنگ اور برش اور نمونہ اور خاکہ کہاں سے ملیں گے ، جن میں اللّٰه پاک کی پسند کی پینٹنگ کی جائے۔ اور باقی سب شوق بھی ریئلیٹی کی طرف آگئے گڑیاں گڈے اور پیپر ڈولز سب ریئل شوہر اور بچوں اور سب رشتہ داروں میں بدل گئے۔ گھریلو کھلونے اصلی گھر داری میں بدل گئے۔ بچپن میں کزنز اور سہیلیوں کے ساتھ گھر گھر کھیلنا حقیقت میں بدل گیا۔ سب کا ہی بدل جاتا ہے مگر ہم مسلمانوں کی اصل یہ ہے کہ ہر چیز میں اللّٰه کا رنگ ڈال دیں۔
تو میری پیاری بہن ہوبیز سب وہی ہیں بس مٹیریئل بدل گیا۔ پڑھنے کی ہوبی کو دینی مٹیریئل مل گیا۔ لکھنے کا شوق بھی اسی طرف چلا گیا۔ میوزک ٹی وی کی جگہ قرآن اور تلاوت نے لے لی۔ تصویروں کی ایلبمز بنانے کا شوق بھی الله پاک نے بدل دیا۔ قرآن اور حدیث میں الله پاک اور رسول اللہ نے نہ نظر آنے والی آخرت کی جو تصویر کھینچی ہے وہ آیتیں اور احادیث اور دعائیں ڈھونڈ کر ایلبمز اور ڈائریز اور پیپر میں خوبصورتی سے سجانے کی کوشش کرتی ہوں ۔ اور پھر دیکھتی پڑھتی ہوں تو آخرت کی خوبصورتیاں نظر آتی ہیں جن کی طرف جانے کا دل چاہتا ہے اور بدصورتیاں بھی دکھتی ہیں جن سے ہیبت آتی ہے اور دل ڈرتا ہے اور بچنے کی کوشش ہوتی ہے۔ کچھ بھی تو نہیں بدلا۔
اور اس میں میرا کوئی کمال نہیں یہ اللّٰه پاک کی عطا ہے ۔ صرف کرنا اتنا ہے کہ حق کی باتوں کو پسند کر لیا جائے۔
وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَىٰ ﴿٦﴾……اورنیک بات کو سچ جانا
 فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَىٰ ﴿٧﴾…….تو ہم اس کے لیے جنت کی راہیں آسان کر دیں گے
وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَىٰ ﴿٩﴾……اور نیک بات کو جھٹلایا
فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَىٰ ﴿١٠﴾……..تو ہم اس کے لیے جہنم کی راہیں آسان کر دیں گے۔(سورہ اللیل)۔
بس نیک باتوں اور اعمال کو حاصل کرنے کے لیے اللّٰه سے دعائیں مانگی جائیں۔ باطل سے اور شیطان کے بہکاوے سے دور بھاگا جائے۔ ورنہ باطل کے ساتھ بہنے کا خدشہ ہے۔ دعا…….اَللّٰھُمَّ فَكَمَا رَزَقْتَنِىْ مِمَّا اُحِبُّ فَاجْعَلْهُ قُوَّةً لِّىْ فِيْماَ تُحِبُّ اَللّٰھُمَّ وَمَا زَوَيْتَ عَنِّىْ مِمَّا اُحِبُّ فَاجْعَلْهٗ فَرَاغًا لِّىْ فِيْمَا تُحِبُّ……
اے الله جس طرح آپ نے مجھے وہ دیا ہے جو مجھے پسند ہے تو اسے میرا مددگار بھی بنا دیجیے اس کام میں جو آپ کو پسند ہے، اے الله اور جو میری پسندیدہ چیزیں، آپ نے مجھ سے دور کی ہیں، تو ان کا دور ہونا میرے لیے ان چیزوں کے لیے فرصت کا ذریعہ بنا دیجیے جو آپ کو پسند ہیں۔ آمین۔
اللہ پاک ہم سب کو حق بات پسند کرنے کی توفیق عطا فرمائیں اور حق بات کو جھٹلانے سے بچا لیں ۔آمین۔ الله پاک ہم سب کو اپنے رنگ میں رنگنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین۔ صِبْغَةَ اللَّـهِ ۖ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّـهِ صِبْغَةً ۖ وَنَحْنُ لَهُ عَابِدُونَ ﴿١٣٨﴾ ہم نے قبول کر لیا الله کا رنگ، اللہ کے رنگ سے اور کس کا رنگ بہتر ہے اور ہم تو اسی کی بندگی کرتے ہیں ۔سورہ بقرہ۔ وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب

اپنا تبصرہ بھیجیں