خط سیریز: "زندگی" سسکتی روح (2) – بنتِ حسام الدین




میری پیارى سب زندگيوں …… السلام علیکم ورحمة الله⁦ وبركاته
پیاری پیاری زندگیوں ۔۔۔۔۔ !مدرسہ میں ہم نے روح کے بارے میں یہ جانا كه ہماری زندگی دو چیزوں کا مجموعہ ہے، روح اور جسم . جس طرح ہم اپنے جسم کی دیکھ بھال کرتے ہیں، اس طرح اپنی روح كا نہیں کرتے.
جسم مٹی سے بنا ہے ۔ جسم کی تمام ضروریات مٹی سے پوری ہوتی ہیں۔ کھانے پینے، لباس سے لے کر رہنے سہنے اور زیباںٔش و آراںٔش ہر چیز ہمیں مٹی سے حاصل ہوتی ہے. روح آسمان سے اتری ہے اور اس کی ضروریات بھی آسمان سے اتری ہیں جو کہ اللّٰه کا ذکر، قرآن اور حدیث ہیں ۔ گھر میں تو ہم جسم کی پرورش کرتے ہیں . یہ مدرسہ ہے جہاں روح کی پرورش ہوتی ہے. ہم تو خود بچپن سے اپنی روح کو مارتے چلے آرہے ہیں۔ بچپن، لڑکپن، جوانی، بڑھاپا۔مار مار کر اسے کمزور بیمار اور سسکتا ہوا کر دیا۔ آپ دیکھیں ہم سب میں ایک اضطراب اورہلچل اور گھٹن ہے ۔ سکون و اطمیٔنان نہیں ہے. اس کی وجہ روح کی بیچینی ہے. روح کو پتا ہے کہ اب قیامت قریب ہے ۔اللّٰه کے آگے اسے ہی کھڑا ہونا ہے اور اسکی کویٔ تیاری نہیں ۔ وہ سوال و جواب جو اس سے قبر اور حشر میں ہونگے ان کی اس کی کویٔ تیاری نہیں.ہماری روح ہمارے ہی جسم کے اندر حالت اضطراب میں پھڑپھڑا رہی ہے۔ اے کاش کہ ہم اپنی روح کی بیچینی سمجھتے اور اس کو وہ دیتے جس کی اسے ضرورت ہے.
ہمیں اپنی روح کا اس وقت پتا چلتا جب وہ موت کے وقت ہمارے حلق میں پھنستی ہے۔ اور اس وقت ہم اس کے لیے کچھ نہیں کر سکتے۔ روح کی ضرورت مدرسہ پوری کرتا ہے یا اللّٰه والے لوگ اور ان کی صحبت یا دینی کتابیں…….پیاری بہنوں، سوچو، ہم جسم کی ضرورت کے لیے کتنے پاپڑ بیلتے ہیں۔ ہر وقت کچن میں لگے رہتے ہیں باقی چیزوں کے لیے بازاروں کے چکر لگاتے رہتے ہیں۔ اور روح….. اس بچاری کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں کہ هم اس کے لیے کچھ رتّی بھر بهى کریں۔۔۔۔۔ کہ ہم کم از کم نماز دعا اور قرآن اور اپنے اخلاق کو خوبصورت بنا لیں۔ الله پاک سورہ اعلیٰ میں فرماتے ہیں ۔۔
قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ﴿١٤﴾ بے شک بھلا ہو اس کا جو سنورا ……..اور سورہ شمس میں فرماتے ہیں، قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا ﴿٩﴾ بے شک وہ کامیاب ہوا جس نے اپنی روح کو سنوار لیا۔ اور اتنا وقت اس میں لگائیں جتنا کچن میں اور بازاروں میں لگاتے ہیں۔ اور دین کی بات سیکھنے کہیں جانا تو دور کی بات ہے۔ جبکہ اللّٰه کی نظر ہمارى روح پر ہوتی ہے، جسم پر نہیں. سوال روح کی پرورش کا ہو گا۔ جسم کی نہیں۔ الله تعالى هم سب كو اپنی روح كى ضرورت پورا كرنے والا بنا دے. آمين
دعا…..اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْتَجِیْرُكَ مِنْ جَمِيْعِ كُلِّ شَىْءٍ خَلَقْتَ وَاحْتَرِسُ بِكَ مِنْهُنَّ وَاجْعَلْ لِىْ عِنْدَكَ وَلِيْجَةً وَّاجْعَلْ لِىْ عِنْدَكَ وَ حُسْنَ مَاٰبٍ وَّاجْعَلْنِىْ مِمَّنْ يَّخَافُ مَقَامَكَوَ وَعِيْدِكَ وَ يَرْجُوْا لِقَآءَكَ وَاجْعَلْنِىْ مِمَّنْ يَتُوْبُ اِلَيْكَ تَوْبَةً نَصُوْحًا وَاَسْئَلُكَ عَمَلًا مُتَقَبَّلًا وَعِلْمًا نَجِيْحًا وَسَعْيًا مَشْكُوْرًا وَ تِجَارَةً لَّبُوْرَ.
اے الله میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں …ان تمام چیزوں سے جو آپ نے پیدا کی ہیں…اور آپ کی حفاظت میں آتا ہوں ان سے…اور کر دیجیے اپنے یہاں میرا آنا جانا..اور کر دیجیے اپنے یہاں میرا قرب اور نیک رجوع…اور کر دیجیے مجھے ان لوگوں میں سے جو آپ کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے ہی… اور آپ کی وعید سے ڈرتے ہیں …اور آپ سے ملنے کی تمنا رکھتے ہیں…اور کر دیجیے مجھے ان لوگوں میں سے جو توبہ کرتے ہیں آپ کی طرف…خالص سچی توبہ…
اور میں مانگتا ہوں آپ سے مقبول عمل..اور نجات دلانے والا علم اور بہترین کوشش اور تجارت جس میں گھاٹا نہ ہو۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں