گُم شدہ امیر خسرو(پہلی قسط) – انتظار حسین




امیر خسرو اپنے زمانے میں ایک امیر خسرو تھے- ھمارے زمانے تک آتے آتے ایک سے کئی بن گئے ……. جامع اور سالم شخصیتوں کے سامنے مشکل یہی تو ہوتی ہے کہ تصور میں ان کا اکٹھا سمانا مشکل ہوتا ہے- اُدھر آدمی بہت پھیلا ہوا تھا – اِدھر روز بروز نظر کمزور اور تصور محدود ھوتا جا رہا تھا….. تو مختلف گروھوں نے بڑے امیر خسرو میں سے اپنے تصور کے حساب سے اپنی اپنی پسند کے امیر خسرو تراش لیے-
صوفی امیر خسرو، موسیقار امیر خسرو، فارسی شاعر امیر خسرو- مگر ایسے کئی خسرو تراشے جانے کے بعد بھی بہت سا خسرو بچ رہا- طہارت پسند مسلمانوں نے اس بچے ھوئے کو شخصیت کا فالتو حصّہ جانا اور گم کردیا- مگر خلقت کے حافظے نے طہارت پسندوں کے ساتھ دشمنی کی- ان کے بیچ سے گم ہو جانے والا خسرو خلقت کے درمیان موجود پایا گیا- بہت سا کلام غتربود ہوچکا تھا- مگر خلقت نے تھوڑے ہی کو بہت سمجھا اور حافظے میں محفوظ کرلیا- محققوں نے گم شدہ کلام کو ڈھونڈنے کی بجائے یہ سوال کھڑا کر دیا کہ یہ کلام خسرو کا ہے بھی یا نہیں- جواب بالعموم یہ تھا کہ نہیں ہے- مگر میری دقت یہ ھے کہ میں خلقت کے حافظے کو محقق کی تحقیق سے بڑی سچائی جانتا ہوں- خلقت کا حافظه جھوٹ نہیں بولتا- اضافہ اور رنگ آمیزی البتہ کر دیتا ہے- اسے اجتماعی حافظے کا تحقیقی عمل کہہ لیجیے-
اس عمل میں شکلیں مسخ نہیں ہوتیں، نکھر آتی ہیں- اور جاننا چاہیے کہ شاعر دو قسم کے ہوتے ہیں- ایک شاعر وہ ہوتا ہے جو اپنے تخلیقی جوہر کے زور پر تن تنہا شاعری کرتا ہے – دوسرا شاعر وہ ہوتا ہے جو اجتماعی حافظے کو شریک بنا کر تخلیق کرتا ہے- امیر خسرو کی ذات میں یہ دو شاعر اکٹھے ہوگئے تھے- عجمی امیر خسرو اپنے تخلیقی جوہر کے زور پر تن تنہا شاعری کر رہا تھا اور دلّی کے دربار سے شیراز تک مار کر رہا تھا اور برِصغیر کی وسعتوں اور پہنائیوں میں سرایت کررہا تھا – مگر میں نے غلط کہا، امیر خسرو دو نہیں تھے……. ایک تھا جو دو سطحوں پر کار فرما تھا- “غرۃ الکمال ” کے دیباچے کے ایک بیان کا سہارا لے کر یہ کہا گیا کہ امیر خسرو نے تو خود ھی اپنے دوہوں، گیتوں کو غیر اہم گردانا اور اپنے کلام میں شامل نہیں کیا- یوں ہی سہی …..پھر کیا ہوا – غالب نے بھی تو کہہ دیا تھا کہ میرے اردو کلام کو دفع کرو اور میری فارسی کو دیکھو –
دوستوں، مداحوں اور ادب کے قاریوں نے کیا ان کا کہا مان لیا – چلیے مان لیا کہ امیر خسرو اپنی شاعری کو وقیع سمجھتے تھے اور اردو کلام کا معاملہ لے دے کے یہ تھا کہ بی جموں نے فرمائش کی تو ہنسی ونسی میں ان کے لیے کچھ کہہ دیا، جھولنے والیاں پیچھے پڑیں تو ان کے لیے لکھ دیا- کسی بھٹیاری نے باتیں ملائیں تو چلتے چلتے اس کے لیے کچھ لکھ کر دے دیا – مگر اس رویّے کے ساتھ کتنا کہا جاسکتا تھا – سو دو سو نہ سہی، ہزار دو ہزار شعر سہی – مگر یہی محقق حضرات یہ کہتے ہیں یہ کلام چار پانچ لاکھ اشعار میں پھیلا ہوا تھا اور اس کے فارسی کلام سے زیادہ تھا – وہ کیا شاعر تھا ……. جس نے غیر سنجیدہ اور غیر وقیع شاعری اس فراوانی سے کی کہ وہ سنجیدہ اور وقیع شاعری سے بڑھ گئی – مگر یہ دوہا کیا کہتا ہے :
گوری سووے سیج پر مکھ پہ ڈارو کیس
چل خسرو گھر آپنے سانجھ بھئی چوندیس

اپنا تبصرہ بھیجیں