عربی زبان اور ہم – عمارہ حسن




تقریبا پچھلے دو ماہ سے ہمارا ملک کورونا وائرس نامی وباء کا شکار ہے. تمام تعلیمی اور ہر قسم کی سرگرمیاں بند ہیں. ہم بھی سوچوں کے تانے بانے بنتے رہتے ہیں. انسان کی فطرت ہے کہ وہ یکسانیت سے تنگ آ جاتا ہے. شاید یہی وجہ ہے کہ ہمیں بھی یونیورسٹی شفیق اساتذہ کرام اور عربی ڈیپارٹمنٹ شدت سے یاد آ رہا ہے.
دنیا میں بہت سی زبانیں ہیں اور ہر زبان کے اپنے اصول و قوائد ہیں. لیکن جو حلاوت اور مٹھاس عربی زبان میں ہے وہ دنیا کی کسی اور زبان میں نہیں ہے.عربی اور اردو حروف تہجی کم و بیش ایک جیسے ہیں بس ان کا نطق مختلف ہے یعنی عربی حروف تہجی کو حلق، زبان اور منہ کے خاص حصوں سے ادا کیا جاتا ہے اس ہی لیے بچوں کو بچپن ہی سے اچھے قاری حضرات سے قرآن پڑھوانا چاہیے ہے تاکہ وہ صحیح تجوید کے ساتھ قرآن پڑھنا سیکھیں.عربی زبان سے ہماری واقفیت زیادہ پرانی نہیں لیکن عربی سے جو ہم نے دوستی کی ہے اس کو نبھانے کی خواہش ہے بھلا وہ دوستی ہی کیا جو نبھائی نہ جا سکے.عربی زبان میں ایک عجب سی چاشنی ہے. بہت سے لوگ عربی گرامر سے گھبراتے ہیں جبکہ عربی گرامر ہی تو اس زبان کی خوبصورتی کو دوبالا کرتی ہے. جن لوگوں کو حساب کا مضمون (mathematics) پسند ھے انھیں عربی زبان ضرور پسند آئے گی لیکن چونکہ یہ ہمارا ذاتی خیال ہے تو ہو سکتا ہے کہ یہ خام خیال ہی ہو.
کچھ عرصہ پہلے اسلام آباد کے ایک نجی ادارے سے عربی سیکھنے کا آغاز کیا . خوش قسمتی سے الله نے ایک بہترین دوست سے نوازا اور ہم نے خوب مزے سے عربی پڑھی.چونکہ ہمارا بیک گراؤنڈ عربی کا نہیں تھا تو قدم قدم پر رک کر سوال کرنا اور چھوٹے چھوٹے نکتوں کو سمجھ کر ازبر کرنا گویا ہمارا اولین فریضہ تھا.جیسا کہ ہمیں ابھی بھی یاد ہے کہ ایک جملہ “في أي شارع بيتكم” پڑھ کر ہم چونک اٹھے تھے .” في “عربی گرامر کی رو سے” حرف جار “ہے اور اس کو ہم نے ہمیشہ جملے کے درمیان میں ہی دیکھا تھا پھر بھلا یہ جملے کے شروع میں کیا کر رہا تھا؟ظاہر ہے ہمارا بوکھلا جانا فطری تھا. کہیں نہ کہیں تو گڑبڑ تھی جو ہمیں سمجھ نہ آتی تھی. ہم کبھی وہ جملہ پڑھتے اور کبھی اپنی دوست کی طرف دیکھتے پھر بعد میں کہیں جا کر عقدہ کھلا کہ یہ “خبر مقدم شبه جملة ” ہے. اس ہی لیے یہ عمومی طرز پر نہیں لکھا گیا.
کتاب پڑھتے پڑھتے ہر مختلف جملے کو پڑھ کر ٹھٹھکنا اس پر گول دائرہ بنانا اور ساتھ میں دو تین ستارے بنا کر گویا مزید نمایاں کرنا بھی اپنا معمول تھا. ایک دفعہ أستاذة نے مضمون لکھنے کے لیے دیا تھا ہماری دوست دو صفحوں کا مضمون لکھ کر لے کر آئیں جس پر استاذہ نے ان کو “ممتاز” سے نوازا. ممتاز عربی میں Excellent كو کہتے ہیں …….. بس یہ سننا تھا کہ ہم ان کے سر ہو گئے کہ مجھے بھی ممتاز چاہیے . بیچاری ہماری دوست ہنستی رہیں اور کھسیا کر ہمیں دیکھتی ہی رہ گئیں. طوفانوں سے کشتی گزارنے کے شوق نے مزید ایک قدم آگے بڑھانے کا خیال پیدا کیا. اب ہماری منزل یونیورسٹی تھی …..مگر….سب سے بڑی تشویش تھی کہ عربی زبان میں محاضرة (لیکچر) کیسے سمجھیں گے؟بہرحال جب اوکھلی میں سر دیا تو موسلوں کا کیا ڈر کے مصداق ہم نے خود ہی خود اپنے شانے پر تھپکی دیتے ہوئے تمام الٹے سیدھے خیالات کو چھووووووو منتر پڑھ کر بھگایا اور یونیورسٹی میں قدم رکھا.
شومئی قسمت ہماری ملاقات ایک سینئر سے ہو گئی ،سلام دعا کے بعد انہوں نے کہا کہ آپ اپنا ٹائم ٹیبل “ماجستیر” میں دیکھ لیں. جی اچھا کہ کر ہم نے سر ہلایا مگر پھر گھبرا کر پلٹے اور ہکلاتے ہوئے کہا ..ما…ما…ما ؟کہاں دیکھنا ہے ٹائم ٹیبل؟مشکل سے لفظ کا تلفظ ہی نہیں سمجھ آ رہا تھا ادائیگی تو دور کی بات ہے.ہمارے چہرے پر برستی ہوئی حماقت دیکھ کر وہ خود بھی کھسیا گئیں اور ہمیں لے کر نوٹس بورڈ کے پاس گئیں اور اشارہ کیا “ماجستیر” میں دیکھیں. ماجستیر عربی میں ایم -اے کو کہتے ہیں.ایک ہفتے تک تقریبا تمام اساتذہ کا نطق سمجھنے کے ہم قابل ہو گئے تھے ماسوائے ایک مضمون کے اور وہ مضمون تھا تفسیر کا کیونکہ ابھی تک اس کی ایک کلاس بھی نہ ہوئی تھی.متعلقہ مضمون کے نیچے درج نام پڑھ کر کمرہ جماعت میں چہ مہ گوئیاں سی سنائی دیتی تھیں. نام “اسماعیل عمارہ ” لکھا تھا. کچھ لڑکیوں کا کہنا تھا دراصل یہ نام “عمارہ اسماعیل ” ہے اور نوٹس بورڈ پر غلط لکھا ہوا ہے. مگر ہفتے بعد استاذ محترم کو کمرہ جماعت میں داخل ہوتے دیکھ کر پتا چلا کہ ہمارے سمجھنے میں غلطی ہو گئی نوٹس بورڈ پر ٹھیک نام لکھا تھا. استاذ محترم کا تعلق الجزائر سے ہے اور وہ رواں عربی بولتے
سر نے پہلی کلاس میں کچھ پڑھایا تھا مگر کیا پڑھایا یہ ہمیں سمجھ نہ آ سکا . کان پوری طرح کھول کر سمجھنے کی پوری کوشش کی لیکن کان کھلنے کے ساتھ آنکھیں بھی پوری طرح کھل گئیں….. (جاری ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں