عربی زبان اور ہم (آخری حصّہ) – عمارہ حسن




ہمارا ارادہ تو ذرا مزید سسپنس میں رکھنے کا تھا (آخر ہم بچپن سے اشتیاق احمد کے قارئين میں سے رہے ہیں ) مگر کچھ وجوہات کی بنا پرتحریر کا آخری حصہ آپ سب کی دلچسپی کی نظر….
گھبرا کر ہم نے چاروں طرف نظریں دوڑائیں تو کچھ شوخ سی لڑکیوں نے شرارتی سی مسکراہٹ کے ساتھ تسلی دی کہ ”فکر نہ کرو ہم سب ایک ہی کشتی کے مسافر ہیں ”. شروع میں ہم سر سے جتنا ڈرتے تھے آخر میں ہم نے اتنا ہی زیادہ سر سے علم سیکھا۔ دوران کلاس اتنی خاموشی چھائی رہتی کے سوئی گرنے تک کی آواز سنائی دے سکتی تھی ۔ عربی تفاسیر بغیر اعراب کے ہوتی ہیں اور سر وہ طالبات ہی سے پڑھواتے…… بس پھر جہاں غلطی ہو جاتی تو بچوں کی خیر نہ ہوتی اتنی زبردست ڈانٹ پڑتی کہ ہر کوئی اپنی جگہ ہل کر رہ جاتا ۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ سر نے ہمیں بہت محنت سے پڑھایا. پہلے پہل ہم ڈرتے تھے مگر آخر تک ہم ان کے طریقہ کار کو سمجھتے گئے. ہماری ایک استاذۃ کو طالبات کے نام نہ یاد ہوتے تھے،کسی ساتھی نے کہا:یااستاذۃ، سر کو تو سب کے نام یادہوتے ہیں تو استاذۃ نے کہا: او۔۔۔ سروں کو اور یادہی کیا رہتا ہے۔ ان کی بات پر کلاس نے ایک فلک شگاف قہقہ لگایا۔
عربی پڑھانے والے تمام اساتذہ کا ایک منفرد اور مخلصانہ سا انداز دیکھنے کو ملا ہے.ہمیں شروع میں ہی ہماری اساتذہ نے سمجھایا تھا کہ آپ نے علم سیکھ کر دوسروں تک پہنچانا ہے اس کو چھپانا نہیں ہے۔ اپنی ساتھیوں کو سمجھانا ہے۔کسی کے نمبر زیادہ آتے ہیں تو آنے دیں بس آپ نے مدد کرنی ہے دوسروں کی . پھر آنے والے وقت میں ہماری کلاس نے یہ ثابت کر کے دکھایا کہ ہم نے واقعی ایک دوسرے کو علم سکھانا ہے.ہمیں جب کسی مضمون میں کوئی مشکل پیش آئی ہم منہ اٹھائے ساتھیوں کے پاس جا پہنچتے اور وہ سمجھانے میں کبھی بخل سے کام نہ لیتیں. ایک دوسری استاذہ اخلاق و کردار کو مضبوط بنانے پر ہمیشہ زور دیتی ہیں کہ اس ہی سے انسان پہچانا جاتا ہے. وہ طالبات کی واضح غلطیوں کو بھی نظر انداز کر کے جھڑکے بغیر اصلاح کرتیں۔مخلص اساتذہ کرام اور دوستیں بھی اللہ کی کتنی بڑی نعمت ہیں۔ یہ اچھے ہوں تو آپ کی رہنمائی سیدھی راہ کی طرف کرتے ہیں اور ان میں کھوٹ ہو تو یہی راہ سے بھٹکانے کا با عث بن جاتے ہیں.
ایک عرصہ ٹیکنالوجی سے وابستہ رہنے کی وجہ سے سکرین ہی پر پڑھنا پڑتا رہا،چاہے لیکچر ہو یا اسائنمنٹ۔لیکن عربی زبان نے دوبارہ کتابیں ہاتھ میں تھما دیں۔کتاب ہاتھ میں لے کر پڑھنے کا کیا مزہ ہے یہ کوئی ہم سے پوچھے۔شاید یہی وجہ ہے کہ ایک عرصہ بعد جب ہم نے قلم سے کاغذ پر لکھنا شروع کیا اور وہ بھی انگریزی نہیں بلکہ عربی زبان تو ہم کسی کے کہے بغیر ہی دھڑا دھڑ خود ہی سے گھر سے کام کر کے لے آتے۔اتنے صفحے کالے کیے،اتنے صفحے کالے کیے کہ کیا کسی نے کیے ہوں گے، بعد میں دوستوں کے ٹوکنے پر پتا چلا کہ ہم ضرورت سے کچھ زیادہ ہی لکھ لاتے ہیں.
عربی زبان قرآن کی زبان ہے۔ہم لوگ انجینرنگ،میڈیکل،بزنس اور کس کس شعبے کی ڈگریاں لیے پھرتے ہیں مگر ایک قرآن کی زبان سمجھنے کے لیے اتنی بے رخی کا رویہ؟عربی ایک وسیع زبان ہے جس کو سمجھنے کے لیے شاید بہت عرصہ لگ سکتا ہو مگر ہم قرآن کی زبان سمجھنے کے لیے چھوٹے چھوٹے قدم تو اٹھا ہی سکتے ہیں.ہمارے اساتذہ نے ہمیشہ ہمیں دعاؤں سے نوازا. اگر ہم کچھ غلط بھی بتاتے تو استاذ اسماعیل عمارہ کا جواب ہوتا:”بارک اللہ فیک ” (اللہ آپ کے علم میں برکت عطا فرمائے). جزاک اللہ خیر.ہمیشہ دعائیہ کلمات سے ہماری حوصلہ افزائی کی.اور حقیقت یہ ہے کہ ہمیں تمام تر تحفوں میں سے بہترین تحفہ دعاؤں ہی کا پسند آتا ہے. میری تمام ہی قارئین سے درخواست سے کہ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں!!!

اپنا تبصرہ بھیجیں