یہ وبا اور میرا کردار – بنت شیروانی




کافی عرصہ بعد افراح کا آج گھر سے باہر نکلنا ہوا تھا . معاملہ کچھ یوں تھا کہ اس کی گھر میں پہننے والی چپل ٹوٹ گئ تھی اور اسے یہ خریدنا تھی ….. اس نے قریب کے بازار جانا چاہا تو وہاں کئی دکانوں کو بند پایا . پھر تھوڑا آگے کے بازار جاتے وقت اس نے دکانوں پر نظر ڈالنی شروع کی تو کئی کپڑوں ، جوتوں، میک اپ کے سامان ، عبایوں، بٹوؤں ، پردے اور چادروں اور اس جیسی نہ جانے کتنی دکانیں بند ملیں …. پھر وہ فکر مند ہوگئی
اُسے تو اسکولوں کے بند ہونے کا یاد تھا کہ اسکولوں کے مالکان کیسے اساتذہ کو تنخواہیں دیں گے؟؟ وہ تو ہوٹلوں اور سیر و تفریح سے وابستہ لوگوں کے بارے میں پریشانتھی کہ وہ کہاں سے اپنے گھر والوں کی ضروریات پوری کر رہے ہوں گے…… اسے تو یہ صرف اسکولوں ، کالجوں کی گاڑیاں چلانے والے یاد تھے کہ وہ کہاں سے کھا رہے ہوں گے ، وہ تو ٹریول ایجنسی سے وابستہ افراد کے بارے میں فکرمند ہوتی تھی کہ اُن کے گھروں کے چولھے کیسے جل رہے ہوں گے…..؟وہ تو ٹیکسی چلانے والے افراد کا سوچتی تھی کہ اُن کے کنبے کتنی مشکلات کا شکار ہوں گے ؟ وہ تو حج اور عمرہ سے متعلقہ افراد کے بارے میں فکر مند تھی ….. کہ کیا ہورہا ہوگا اُن کے گھروں می……؟ اُسے خیراتی ادارے بھی یاد آجاتے تھے کہ اب اُن کو رقم دینے والے افراد میں کمی ہوئ ہوگی تو وہ کیسے دوسروں کے پیٹ میں نوالہ ڈالنے میں اپنا کردار ادا کریں گے ؟؟
وہ تو بہت سے ملکوں کی بند عدالتوں سےپریشان تھی کہ وکیلوں اور ججوں کا کیا حال ہورہا ہوگا……. ؟ وہ تو انسانیت کے مسیحاؤں ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے لۓ بھی فکرمند تھی جو کہ اپنی جانوں کوہتیلی پر رکھ کر انسانیت کی خدمت میں اپنا تن من دھن ایک کر رہے ہیں لیکن یہ وبا ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی …… اور اسے اس وقت یہ وبا ” اجتماعی وبا “ محسوس ہوئی کہ جس میں ہر فرد ہی پریشان ہے، روز انہ کی بنیاد پر بہت سے جاننے والوں کی اس وبا میں مبتلا ہونے کی خبر آرہی ہے۰اسے لگا کہ اموات بھی بڑھتی جارہی ہیں۰لیکن پھر اسے ہوا کہ اس سے نپٹنے کے لۓ بھی تو کچھ ہو ……..ہاں باہر نکلتے ہوۓ ماسک پہننا یہ ساری طبی احتیاطی تدابیر تو ضرور لیکن اپنا جائزہ بھی ضروری ہے ۰ اور اپنے اندر مثبت تبدیلی لانے کی بھی ضرورت ہے کہ اگر میں ساس ہوں تو بہو کے اوپر مستقل نکتہ چینی کرنے سے باز رہنے کا ارادہ کر لوں،اگر میں بیوی ہوں تو شوہر کی ناشکری سے بچنے کا ارادہ کر لوں ،اگر میں بیٹا ہوں تو زندہ ماں باپ کو گیم اور واٹس اپ سے ہی زیادہ اہمیت دینے لگ جاؤں ،اگر میں بہو ہوں تو ساس سسر کے آگے زبان درازی نہ کرنے کا عہد کر لوں،اگر میں بیٹی ہوں تو ماں باپ کی عزت رکھنے کا سوچوں،اگر میں شوہر ہوں تو اپنی ماں اور بیوی کے درمیان میانہ روی رکھنے کا ارادہ کر لوں.
اور اگر میں جج ہوں تو انصاف پر مبنی فیصلے کرنے کا ٹھان لوں،اگر میں سبزی یا پھل والا ہوں تو ناپ تول میں کمی نہ کرنے کا اپنے آپ سے وعدہ کروں ،اگر میں بجلی کے دفتر میں ملازم ہوں تو زیادہ بل نہ بھیجنے میں اپنا کردار ادا کروں ،اگر میں رکشہ اور ٹیکسی چلانے والا ہوں تو میٹر تیز نہ کروں ،اگر میں سرکاری ملازم ہوں تو سرکار کے پیسے کو اپنا پیسہ سمجھوں. کام نہ کرکے یا بےایمانی سے حرام نہ کماؤں۰اگر میں اسکول مالک ہوں تو اساتذہ کو ان کی محنت کے مطابق معاوضہ دوں،اگر میں کمپیوٹر، ایل ۔ سی۔ ڈی ، موبائل ، کپڑے دھونے والی مشین ، یا لفٹ کو صحیح کرنے والاہوں ، پلمبر، کار پینٹر ہوں تو ایمانداری سے کام کروں۰میں اگر استاد ہوں یا ڈاکٹر ہوں تو اپنے مقدس پیشوں سے مخلص رہوں . میں اس وبا کے ختم کرنے میں رب سے معافی مانگنے کے لۓ ،اس کی طرف پلٹنے کے لۓ مخلوط محفلوں کا انتظام نہ کرنے کا ارادہ کر لوں،میں شادی بیاہ کی تقریبات میں لاؤڈ اسپیکروں پر گانے نہ لگانے کا عہد باندھ لوں۰۰۰۰۰۰۰
میں اس وبا میں کسی طریقہ سے تو اپنے پیدا کرنے والے کی طرف پلٹوں،کوئ تو گناہ چھوڑنے کا ارادہ کروں،کوئ ایک نیکی کرنے کا تو مضمم ارادہ کروں ، کچھ تو مثبت تبدیلی لاؤں کہ یہ وبا ختم ہوجاۓ۰پریشان انسان سکون میں آجائیں کہ کیا معلوم ہم میں سے ہر فرد کی یہ ایک ایک نیکیاں اور ایک ایک گناہ کو چھوڑنا اس وبا کو ختم کر دے۰

اپنا تبصرہ بھیجیں