امید پر دنیا قائم ہے – بنت شیروانی




ماھین اور سعود بہت اداس تھے۰صبح ناشتہ کرنے کے لۓ بھی تیار نہ تھے۰سوکر اٹھنے کے بعد ہاتھ دھو کر خاموشی سے اپنے کھلونے سمیٹنے لگ گۓ تھے. وریشہ دونوں بچوں کی ماں نے بچوں کی یہ کیفیت دیکھی تو سوچنے لگیں کہ آکر کیا ہوا میرے بچوں کو جو آج اتنے اداس ہیں؟؟؟؟
شاید طوطے کے بیمار ہونے پر اتنے افسردہ ہیں…… پھر انھیں خیال آیا لیکن طوطے کی طبیعت پہلے سے تو اب کافی بہتر ہے۰اچھا شاید بلی کو پالنے کی اجازت کے نہ مِلنے نے انھیں افسردہ کر دیا ہے۰لیکن بلی کو نہ پالنے کی وجہ تو سمجھا دی گئ تھی کہ بلی کے بالوں (fur) سے سانس کی بیماریاں ہوجاتی ہیں، اسلۓ نہیں پال رہے ۰اور بات تو بچوں کو سمجھ بھی آگئ تھی۰تو پھر یہ بچوں کے اداس ہونے کی کیا وجہ ہے؟؟ شاید بچے لاک ڈاؤن کے وقت سے باہر نہیں گۓ ہیں اور آج ان کا باہر جانے کا دل چاہ رہا ہے۰اور شاید آج انھیں باہر جانے کی ہڑک اٹھ رہی ہے۰اسلۓ دونوں کی یہ کیفیت ہے . انھی سوچوں میں گُم وریشہ نے بچوں سے کہا کہ جو پہلے ناشتہ کرے گا اسے ایک چھوٹا سا گفٹ ملے گا،
یہ سننا تھا کہ سعود نے کہا “کیا آپ نائ انکل کی دکان کھلوا کر میرے بال کٹوا سکتی ہیں”؟میرے بس بال کٹ جاءیں یہی گفٹ چاھۓ”۰اور ساتھ ہی ماھین کہنے لگی کہ آپ کیا بیوٹی پارلر چاند رات پر کھلواسکتی ہیں؟؟ بیوٹی پارلر کا لفظ سُن کر تو وریشہ چکرا کر ہی رہ گئ اور حیرت سے ماہین کا منہ دیکھنے لگی کہ ماہین نے اپنی امی کی حیرانی کو بھانپتے ہوۓ کہا :امی مجھے ڈیزائن والی مہندی لگوانی ہے اس دفعہ۰ہر بار گول داءرہ والی مہندی لگوا کر میں اکتا گئ ہوں۰میری تو ساری سہیلیاں ہی بیوٹی پارلر سے ہی مہندی لگواتی ہیں ، وریشہ نے جب یہ ساری بات سُنی سر ہلاتے ہوۓ کہا ” اچھا تو یہ بات ہے” ، وریشہ نے دونوں بچوں کے مسائل کا حل نکالتے ہوۓ کہا کہ سعود میں تمھارے بال “بال کاٹنے والی مشین”سے کاٹ دوں گی اور جویریہ تمھارے ہاتھوں پر اس بار گول دائرے مہندی کے نہیں بنیں گے بلکہ انٹرنیٹ پر سے مہندی کے ڈیزائین دیکھ کر بنا دوں گی۰ یہ سب سُن کر بچے کچھ مطمئن تو ہوۓ لیکن کہنے لگے.
امی اس عید پر تو کچھ مزہ بھی نہیں آۓ گا کہ کوئ نہ آ سکتا ہے نہ ہم کہیں جا سکیں گے اور یہ بات کہتے کہتے دونوں بچے بلکل ہی اداس ہوگۓ تھے۰کہ کیا فائدہ ایسی عید کا جس پر ہم عید کی نماز تک نہ پڑھنے جا سکیں . وریشہ نے بچوں کا دماغ ان چھوٹی چھوٹی پریشانیوں اور فکروں سے ہٹانے کے لۓ کہا چلو آؤ بچوں آج کمرے کی چیزوں کی ترتیب بدلتے ہیں . یہ سُن کر تو بچے کہنے لگے امی “کیا کمرے کی چیزوں کی ترتیب بدلنے سے نائ کی دکان اور بیوٹی پارلر کھل جاۓ گا”؟؟؟؟کیا ہم عید کی نماز پڑھنے جا سکیں گے؟؟؟کیا چیزوں کی ترتیب بدلنے پر ہماری اس نئ ترتیب کو دیکھنے کے لۓ ہمارے دوست ہمارے گھر آجائیں گے؟ اب تو بچوں کی امی مسکراءیں اور کہنے لگیں “نہیں بیٹا یہ سب تو نہیں ہوگا ، لیکن ایک بات جو میں تمھیں سمجھا چاہ رہی ہوں وہ شاید سمجھ آجاۓ . اس پر سعود نے منہ بنایا اور کہنے لگا امی آپ ویسے ہی بتا دیں۰یہ چیزوں کی ترتیب نہیں بدلتے۰
ارے بیٹا آؤ نا !…… بڑے پیار سے وریشہ نے بچوں کو بُلایا اور اب اُس نے سائیڈ ٹیبل ہٹانا شروع کی تو بچے خود ہی آگۓ . سب سے پہلے سائیڈ ٹیبل کی جگہیں بدلی گئیں الماری میں کپڑوں کا خانہ ٹھیک کیا گیا۰چھوٹے کپڑے الگ کر دۓ گۓ۰جبکہ پھٹے ،ٹوٹے بٹن اور اُدھرے کپڑوں کو بھی الگ کر دیا گیا۰ کتابیں ترتیب سے رکھی گءیں تو پرانی کاپیاں ایک ڈبے میں کر کے رکھ دی گئیں …… میٹرس ہٹا کر اس کے نیچے سے صفائی کی گئ۰جس پر سعود کو اپنے پرانے بلاکس اور جویریہ کو اپنا کئی ماہ پرانہ “ہیر بینڈ “بھی مل گیا۰ اب بچے کافی خوش لگ رہے تھے۰ اس کے بعد باری آئی تھی الماری کو ہٹانے کی کہ بیڈ کی جگہ الماری رکھ دی جاۓ گی اور الماری کی جگہ بیڈ کو۰بچوں کا مشورہ سُن کر اس وقت تو وریشہ نے کچھ نہ کہا تھا کہ ان دونوں کو کیسے ہٹایا جاۓ گا؟ لیکن جب بچے الماری کو اپنی جگہ سے ہٹانے لگے اور باوجود کوشش کرنے کے وہ اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہ ہلی تو وریشہ نے کہا بچوں اس الماری کی مثال عید کی وہ خوشیاں ہیں جو ہمارے اختیار میں نہیں ۰
جو ہم حاصل نہیں کر سکتے۰لیکن سائیڈ ٹیبل کی جگہ بدلنے سے اس جگہ کی بھی صفائی ہوگئی اور اب وہ جگہ نئی لگ رہی ہے۰اس خوشی کو حاصل کرنے والی وہ خوشیاں ہیں جو کہ ہمارے اختیار میں ہیں ۰ہم اس “عید پر جن خوشیوں کو حاصل کر سکیں اس پر تو شکر ادا کریں نا”!! بیڈ کو ہٹانے والی آدھی خوشیاں ہیں کہ کیا ہوا جو بیڈ نہ ہلا سکے ۰میٹرس ہٹا کر تو آدھی خوشی مل سکتی ہے کہ نہیں …… اور اگر اس وقت ہمارے پاس ساءیڈ ٹیبل بھی نہ ہوتی تو پھر ہم کیا کر لیتے۰ پھر تو اس خوشی کو بھی حاصل نہیں کر سکتے تھے نا!!!!!! اب یہ سب سُن کر جویریہ کہنے لگی امی تو کیا عید پر بھی ہم ہم کمرے کے چیزوں کی ترتیب بدل کر خوشیاں حاصل کریں گے۰یہ سننا تھا کہ سعود خوب ہنسا اوردانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ بلا ارے امی کا کہنے کا مطلب ہے کہ “شیر خرمہ”کھا کر بھی خوشی حاصل کی جاسکتی ہے۰ اس بات کو سوچتے ہوۓ کہ اگر اس سے بھی بُرے حالات ہوتے۰تو پھر کیا ہوتا ؟؟؟اس بات کو ذہن میں لانے سے بھی خوش ہو سکتے ہیں۰کہ خدانخواستہ اگر ہمارا کوئی اپنا ہسپتال میں داخل ہوتا۰ تو پھر ہم کیا کر لیتے؟؟ تو کوئی غبارہ ہی پھلا کر،یا کوئی چاکلیٹ کھا کر بھی خوش ہو سکتے ہیں۰
اب وریشہ نے سعود کی کمر کو تھپتھپایا۰اور کہا شاباش۰ لیکن جویریہ نے تھوڑے فکر مند لہجے میں کہا ،”می حالات تو ٹھیک ہو جائیں گے نا ؟؟ یہ کرونا ختم ہو جاۓ گا نا ؟؟ یہ سُن کر تو وریشہ کہنے لگی ہاں بیٹا “اچھی امید رکھنا” ہی تو ہمیں زندہ رکھتا ہے۰اور بلکل اس امید پر قائم رہنا ہے۰یہ سُن کر جویریہ اپنی امی کو دیکھ کر مسکرا دی…….

اپنا تبصرہ بھیجیں