امید کی کرن – ناعمہ قاضی




اللہ تعالیٰ نے انسان کو دو طرح کی سوچوں سے نوازا ہے مثبت سوچ اور منفی سوچ ۔ مثبت سوچ انسان کو طاقتور مضبوط اور باہمت بناتی ہے جبکہ منفی سوچ انسان کہ ذہنوں میں خناس بھر دیتی ہے ….. اسے کہیں کا رہنے نہیں دیتی ۔ منفی سوچ انسان کو لوگوں سے بلکہ رب سے بھی دور کر دیتی ہے۔
جبکہ مثبت سوچ انسان کو اللہ سے قریب کردیتی ہے اگر ہم مشکلات سے نا گھبرائیں اور مثبت سوچ کا استعمال کریں تو ایک دن ہم تمام مشکلات سے آزاد ہو جائیں گے ۔ اور اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہر تنگی کے ساتھ آسانیاں ہیں……. میں اک ایسی لڑکی کی کہانی سناتی ہوں جو منفی سوچوں میں گری ہوئی تھی اسکی والدہ نے اسے مثبت سوچوں کی طرف دھکیلا اور آج وہ ایک بہادر لڑکی میں شمار ہوتی ہے …… جس نے اپنی بیماری کو اپنی کمزوری نہیں سمجھا بلکہ اسکو اپنی طاقت بنالیا اور آج وہ ایک باہمت ڈاکٹر ہے۔۔۔ مئی مہینے کی ایک حبس زدہ شام تھی . جسم میں ایک درد کی لہر اٹھی اور وہ اسے خود سے بیگانہ کر گئی ، کہا جاتا ہے نا کہ وقت کسی کا نہیں وہ اپنی رفتار سے بہتا ہے اور ہر ایک کا ایک وقت متعین ہے ، بس وہ وقت آچکا تھا…… اتنی جلدی دنیا چھوڑ جانے کا غم تو کوئی نہیں تھا مگر ابھی نیکیوں کے پلڑے کو مزید بھاری کرنے کی خواہش تھی . شاید اسی لئے رب نے سن لی .
جان لیوا بخار کے بعد بھی وہ زندہ سلامت بچ گئی اور کچھ عرصہ بعد سہارے سے چلنا شروع ہو گئی ، اسکی چال میں ہلکی سی لنگڑاہٹ آگئی اور یہ لنگڑاہٹ اسے ندر سے پاش پاش کر دیتی تھی ……. شاید وہ اندر سے ایک ضدی ، ہٹ دھرم اور اپنی منوانے والی لڑکی تھی اور اسے لگتا تھا یہ لنگڑاہٹ تو اب اسکی ماننے سے رہی . سعدیہ اندر سے بہت ٹوٹ گئی تھی اور رب سے شکوے شکایات کرنے لگی، سارا زور اس پر ہوتا میری چال کیوں بدلی، اللہ جب تو قادر تھا مجھے ویسے بنا سکتا تھا میرے ساتھ یہ ناانصافی کیوں ؟؟ روز شکوے شکایات مایوسی اس پر سوار ہوگی تھی۔۔۔ ایک دن اماں نے تنگ آ کر کہا ،
“پتر!! ہم لوگ اپنی ساری زندگی سیاہ چیزوں کی طرف توجہ دیتے ہیں ، ہمیں زندگی میں ملنے والی نعمتیں اتنی ہوتی ہیں کہ اگر ہم ان کی طرف توجہ کریں تو یہ سیاہ نقطے، داغ دھبے ذہن سے محو ہو جائیں اور ہم اچھا سوچیں …… اب تم خود کو ہی دیکھو، اللہ نے تمھیں موت کے منہ سے نکالا، تمھاری بیماری کے دنوں میں پورے خاندان کو تم پر ٹوٹ کر پیار آیا، باہر ممالک سے رشتہ دار آئے، ہر ایک نے اپنی حیثیت کے مطابق تمھاری خدمت بھی کی اور پیار بھی دیا، یہ ان سب لوگوں کا پیار اور خدمتیں اللہ کی نعمت ہیں اور یہ لنگڑاہٹ ایک سیاہ دھبہ ہے، تم سیاہ دھبے کی طرف نگاہ مرکوز کرتی ہو مگر اللہ نے ان دنوں تم پر جو اپنی آسائشات کا منہ کھول دیا تھا اس سے نظریں چراتی ہو۔۔۔
بیٹا! جیسے استاد نے طالبعلموں کو ایک سفید صفحہ کے بیچ ایک کالا نقظہ بنا کر دیا اور سب سے کہا آپ لوگوں کا آج کا امتحان یہ ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں اس حساب سے لکھیں …… سب نے سفید صفحہ کو چھوڑ کر اس کالے نقطے پر نظر رکھ کر اپنے اپنے فہم کے حساب سے ناقابل فہم امتحان دینے لگ گئے۔ وقت ختم ہونے کے بعد استاد نے کہا آپ سب لوگوں نے پورا سفید صفحہ سے صرف نظر کیا اور ایک چھوٹے سے نقطے پر نظر مرکوز رکھی ….. یہی ہم اصل زندگی میں کرتے ہیں ، ہمارے پاس خوش رہنے کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں مگر اکثر ہم سیاہ نقطہ یا وہ چھوٹی سی جو پریشانی ہوتی ہے اسی کو لیکر روتے رہتے ہیں . زندگی میں نعمتوں کی اتنی فراوانی ہے کہ یہ سیاہ دھبے ان کے سامنے بہت معمولی ہیں مگر بس مسئلہ یہ ہے کہ یہی سیاہ نکتے، دھبے ہمارے دماغوں پر سوار ہوتے ہیں اور ہر وقت دماغ کو پراگندہ رکھتے ہیں تو نعمتیں بھول جاتے ہیں . جیسے تمھیں لنگڑاہٹ یاد رہی اور نعمتیں بھول گئی۔۔
اس دن اماں کی باتیں دماغ میں اسے سمجھ آنے لگیںں، پھر چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو اس نے تلاشنا شروع کیا اور خوش رہنے کی عادت بنا لی، زندگی میں بہت تبدیلی آئی، اور پھر اچانک اللہ نے چال بھی تبدیل کردی بالکل اصلی حالت پر سعدیہ لوٹ آئی
شاید اسکے رب نے اسے سبق دینا تھا ۔ سعدیہ اب ایک لیڈی ڈاکٹر ہے جب اسکے باس کوئی مریض آتا ہے جو مایوس ہوتا ہے وہ اسکو اپنی مثال دیکر اور اماں کی باتیں سے سمجھاتی ہے ۔۔۔
اب سب کیلئے بھی یہی پیغام ہے زندگی میں خوشیوں کو تلاشیں، فضول اور لایعنی تفکرات کو ہٹائیں تو زندگی جنت جیسی ہو گی۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں