کرونا اوراحتیاط – بنت شیروانی




گھر کے دروازے کی بیل بجی تو بچے حیران تھے کہ اس لاک ڈاؤن میں اور پھیلی وبا کے وقت کون آگیا ؟؟؟ بھاگے بھاگے دروازے پر گۓ تو سامنے رافعہ آنٹی کھڑی تھیں . بچوں کے دروازے کھولنے کی دیر تھی کہ جلدی سے وہ گھر میں آگئیں …… بچے کہتے رہ گۓ کہ دادا ابو برآمدے میں بیٹھے اخبار پڑھ رہے ہیں ……..
پہلے انھیں تو کمرے میں بھیج دیں لیکن رافعہ آنٹی نے ایک نہ سنی اور جلدی جلدی گھر کے اندرونی حصہ میں یہ کہتی آگئیں لو بھلا تمھارے دادا ابو تو اتنے بوڑھے…… اب ان سے کیا پردہ !! اور یہ کہتی بچوں کے دادا ابو سے سلام دعا کرتی کمرے میں ماریہ کے پاس پہنچ گئیں . ماریہ جو اس وقت کپڑے تہ کرنے میں مصروف تھی رافعہ کو دیکھتے ہی اپنا دوپٹہ ٹھیک کرتے کھڑی ہوئی اور کہنے لگی . خیریت تو ہے رافعہ ؟…… سناؤ کیا حال ہیں ؟ کیسے آنا ہوا . رافعہ نے گہری سانس لی اور صوفے پر بیٹھتے ہوۓ کہنے لگی۰اس لاک ڈاؤن میں کیسے آنا ہوگا ؟؟؟تم تو خود سمجھ سکتی ہو۰ بس اس کرونا نے مار ڈالا ہے۰پہلے تو ساس کی ہر وقت کی کاموں کو کرنے کے لۓ آواز کانوں میں گونجتی تھی کہ رافعہ یہ کرونا ، یہ بھی کرونا اور یہ بھی کر لونا۰ اور اب تو یہ کرونا ہی جان کو آگیا ہے۰
میرا تو یہ حال لگتا ہے کہ اس کرونا سے ہی جان نکل جاۓ گی …….. یا پھر کچھ ہو یا نہ ہو نفسیاتی مریض نہ بن جاؤں میں۰ایک ڈر خوف کی کیفیت میں رہتی ہوں میں اب ہر وقت۰نہ پوچھو بہن موت کا خوف رہنے لگا ہے ۰اب تو ہر وقت یہ لگتا ہے کہ اب مری کہ تب ۰یا پھر کبھی محسوس ہوتا ہے کہ سانس لینے میں دقت ہورہی ہے۰ اب ماریہ نے ذرا رافعہ کو چپ کرایا کہ اچھا ذرا لمحہ بھر کو رکو بھی۰ یہ کیا اول فُول بولے جارہی ہو۰نفسیاتی مریض ……..! ویسے سچ پوچھو تو کہوں ۰مجھے لگ تو کہیں سے نہیں رہا کہ تمھیں اس کرونا سے ڈر لگ رہا ہے۰ماسک تک تو تم پہن کر آئیں نہیں۰ڈر تھا اس بیماری سے تو آنے کی کیا ضرورت تھی؟ فون پر ہی بتا دیا ہوتا کہ ڈر لگ رہا ہے ۰ اب تو رافعہ نے ٹیڑھی نظروں سے ماریہ کو دیکھا اور کہنے لگی اچھا تو تم بھی ہمیں اب ایسے کہو گی؟؟ اب تو ماریہ قریب آئی رافعہ کے اور پھر ٹہر گئ چاہتی تھی کہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے ۰لیکن اپنے جذبات پر قابو پایا اور کہنے لگی۰
رافعہ اس کرونا نے بھی بغیر آکسیجن کے سلنڈر کے سانس لینے کی اہمیت سے واقف کرایا ہے۰ورنہ پیدائش سے لے کر اب تک نہ جانے کتنے یہ سلنڈر ہم لے چکے ہیں۰لیکن ہمیں اندازہ ہی نہ تھا۰کہ یہ بغیر سلنڈر کے سانس لینا کتنی بڑی نعمت ہے۰اب کرونا کے مریضوں کو دیکھ کر اس ہر لمحہ لیتے آکسیجن کا اندازہ ہوتا ہے کہ یہ بھی نعمت ہے ۰وہ بھی اتنی بڑی کہ بغیر پیسے دۓ ہم اسے لۓ جارہے ہیں۰اس کھلی ناک کا اندازہ ہوا ورنہ تو صرف اس ناک پر لگنے والے بلیک ہیڈز اور سفید ہیڈز ہی یاد رہتے تھے۰ رافعہ جو ماریہ کی باتیں بہت غور سے سُن رہی تھی کہنے لگی ہاں کہتی تو صحیح ہو۰ اب ماریہ رافعہ کے تھوڑا سا مزید قریب ہوئ اور اس کے چہرے کو دیکھتے ہوۓ کہنے لگی کہ اس کرونا سے ڈر لگ رہا ہے تو بنی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کا مفہوم یاد کرو جس میں کہا تھا تمھیں لگے کہ قیامت بلکل آگئ ہے اور تمھارے ہاتھ میں کھجور کی گھٹلی ہو تو اسے دبا دو۰ اور رافعہ تمھیں یہ بات معلوم ہے نا کہ کھجور کا درخت آنے میں تقریبا دس سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے۰
لیکن ہمیں کہا یہ گیا کہ اپنے حصہ کا کام کر لو۰ اور یہ کرونا کس کے حکم کے تابع ہے؟؟؟ رافعہ جو ماریہ کی باتوں کو غور سے سُن رہی تھی ۰ کہنے لگی جس نے اسے بنایا ہے اسی کے ۰ اب ماریہ رافعہ کے تھوڑا قریب آئ اور کہنے لگی تو وہ بنانے والا کیسا ہے؟؟ ہے تو اچھا۰ رافعہ صرف اچھا نہیں بہت اچھا ،بہت محبت کرنے والا،ہمارا ہر لمحہ خیال کرنے والا،ہماری ہر ضرورت کو پورا کرنے والا ۰
رافعہ جب وہ پیدا کرنے والا ایسا ہے ،جب ہم یہ کرونا بھی اس کے حکم کے تابع ہے تو پلٹ آئیں نا اس کی طرف۰ کہ دیں کہ اے کرونا کے مالک اور میرے بھی مالک آپ کُن کہ دیں اور اس کرونا کو ختم کر دیں۰ کر لو ارادہ اس کی طرف پلٹنے کا کہ وہ تو ہمارا ہے اور ہم اسی کے ناتوں بندے ہیں ……..
لیکن ماریہ …… لیکن کیا ؟ رافعہ دیکھو ابھی اس سلنڈر کے بغیر سانس لے رہی ہو نا یہ بھی اسی کی رحمت ہے نا؟؟ ہاں ہے تو سہی۰ جب اسی کی رحمتیں ہیں اور جب لگ بھی رہا ہے ڈر تو تمام احتیاطیں اپنانے کے ساتھ تھوڑی سی بہتری کی طرف بھی آجاؤ ۰ کہ کیا معلوم یہ بہتری لانا ہی اس سلنڈر سے بھی بچا لے اور یہ وبا ختم ہو ۰اور پھر ڈر ،خوف کی فضا بھی کم ہو۰ اب رافعہ ماریہ کی طرف دیکھ کر مسکرائی اور کہنے لگی ۰ہاں تم دعا کرو کہ میں کچھ سُدھر جاؤں.
یہ سُن کر ماریہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئ کہنے لگی اس کے لۓ دعا سے زیادہ تمھارا ارادہ درکار ہے ÷اپنے پیدا کرنے والے کی طرف پلٹنے کا ارداہ .. اب تو رافعہ مسکرادی اور کہنے لگی ہاں دوست خالی ارادہ نہیں “پکا ارادہ”

اپنا تبصرہ بھیجیں