قوت مدافعت – بنت شیروانی




عرفان صاحب کو آج دفتر والوں کی طرف سے ایک لیٹر ملا تھا . جس میں لکھا تھا کہ اگلے چھ مہینوں کی تنخواہ چالیس فیصد کٹوتی سے ملے گی……. اور ساتھ ہی یہ کہ دیا گیا تھا کہ کوئی اور نوکری بھی ڈھونڈ لیں کہ بگڑتی صورت حال کے باعث کمپنی کا زیادہ افراد کو رکھنا ناممکن ہے . اس لیٹر کو عرفان صاحب نے گھر پہنچنے سے پہلے ہی اپنی بیگم کو واٹس اپ کر دیا تھا کہ ان کی بیگم ربیعہ ان کا بگڑا موڈ دیکھ کر زیادہ سوال جواب نہ کرےاور آگے کی پلاننگ کرے۰
عرفان صاحب کے گھر پہنچنے کے بعد ربیعہ نے اپنے مجازی خدا سے تو کچھ نہ کہا لیکن وہ پریشان کافی ہوگئی تھی لہذا اس نے اپنی پریشانیوں کا کوئی حل نکالنے اور اپنا دل ہلکا کرنے کے لۓ اپنی دوست راشدہ کے پاس جانے کا ارادہ کیا…… اور دو دن بعد ربیعہ بچوں کو اسکول روانہ کرنے کے بعد راشدہ کے پاس موجود تھی . ربیعہ اور راشدہ کی دوستی مہینوں نہیں سالوں پرانی تھی۰اسکول سےان دونوں کا ساتھ تھا اور دیکھنے والے ان دونوں کی دوستی کے لۓ”قلبی تعلق “کا لفظ استعمال کیا کرتے تھے . زندگی کے نشیب و فراز اور سڑکوں کی پیمائشوں نے دلوں میں فاصلے پیدا نہ کۓ تھے اور نہ ہی دونوں کی دوستی میں کمی آنے دی تھی بلکہ ان کا تعلق بڑھتا ہی چلا گیا تھا۰
آ ج جب ربیعہ کی آمد ہوئ تو راشدہ ربیعہ کو باورچی خانہ میں لے گئ کہ ربیعہ کے چہرے کو دیکھتے ہی راشدہ کو اندازہ ہوگیا تھا کہ کچھ گر بڑ ضرور ہے۰
اسلۓ راشدہ نے کہا کہ پہلے “کافی” بنالوں …… پھر ساتھ بیٹھ کر خوب باتیں کرتے ہیں۰اور ربیعہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے بھی باورچی خانہ میں لے جانے لگی ۰ربیعہ نے منع بھی کرنا چاہا لیکن وہ جانتی تھی کہ راشدہ ایسے نہ مانے گی لہذا وہ بھاری قدم اٹھاتی راشدہ کے ساتھ باورچی خانہ تک پہنچ گئی . راشدہ نے دو پیالی دودھ ابلنے کو رکھا اور ساتھ ہی ایک دوسری پیالی میں دو چمچے کافی ، دو چمچے شکر اور ڈیڑھ چمچہ دودھ ڈال کر پھیٹنا شروع کیا۰جتنی دیر میں دودھ ابل رہا تھا اتنی ہی دیر میں راشدہ کافی پھینٹنے لگی۰اور قریب کرسی پر بیٹھی ربیعہ کے چہرے کو بھی پڑھنے کی کوشش کرنے لگی۰جبکہ ربیعہ اس وقت سلیپ پر رکھی کافی کی بوتل کو ٹکٹکی باندھے ایسے دیکھے جارہی تھی۰جیسے کہ اس بوتل میں سے کچھ خزانہ نکلنا ہو یا شاید یہ کافی کی بوتل اس کی پریشانیوں کا حل نکال کر اسے دے دے گی۰اور ربیعہ اپنی فکروں میں ایسی کھوئ ہوئ تھی کہ اسے پتہ ہی نہ چل رہا تھا کہ راشدہ اسے کتنی دیر دیکھتی رہی۰
کافی پھینٹتے راشدہ نے کوشش بھی کی کہ ربیعہ سے کوئ بات کرے لیکن ربیعہ کی طرف سے “ہوں “یا ”ہاں “کے الفاظ سُن کر راشدہ کو محسوس ہوا کہ اس وقت اس سے بات کرنا فاءدہ مند نہیں اور ربیعہ اپنے ہی خیالات کی دنیا میں کھوئ ہوئ ہے۰کچھ لمحات کے لۓ ربیعہ کوا کیلا چھوڑ دینا چاھۓ۰اور کچھ ایسا ہونا چاہیے کہ ربیعہ “اپنا دل بھی ہلکا کر لے”۰یا کم از کم اپنے اس دباؤ سے باہر نکلے۰ دودھ کے ابال آنے پر راشدہ نے پھنٹی کافی کو دودھ میں ڈالا۰اب کافی تیار تھی۰لہذا انھیں پیالیوں میں انڈیلنے کے بعد ایک پیالی کافی ربیعہ کو پکڑائ اور ایک خود پکڑی۰اور ربیعہ کا ہاتھ تھامے اپنے گھر کے باغیچہ میں آکر بیٹھ گئ۰باتوں کا سلسلہ شروع کرنے کے لۓ راشدہ کافی کے جھاگ کو دیکھتے ہوۓ کہنے لگے۰ربیعہ ان کافی کے جھاگ کو دیکھ کر کیسا لگ رہا ہے؟؟؟ربیعہ نے ایک نظر کافی پر ڈالی اور کہا ہاں لگ تو کچھ نہیں رہا بس محسوس ہوتا ہے کہ کافی اچھی بنی ہے ۰ربیعہ نے چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ لاتے ہوۓ کہا۰ربیعہ یہ جو کافی کے اوپر جھاگ ہیں کتنے اچھے لگ رہے ہیں نا ؟؟؟یہ دیکھنا تھوڑی دیر میں نیچے بیٹھنے لگیں گے۰ربیعہ نے “ہوں “کر کے سر ہلایا تو راشدہ نے کہا یہ جو زندگی ہے نا یہ بھی جھاگ کی مانند ہے۰یہ سننا تھا کہ ربیعہ جھنجلاۓ ہوۓ انداز میں کہنے لگی یار پلیز اس وقت میری پریشانیوں کو حل کر وادو کوئ اور بات نہ کرو۰
یہ سُن کر راشدہ نے ربیعہ کو دیکھا اور کہا :ہاں بتاؤ تو پریشانی کیا ہے؟؟؟ پریشانی نہیں پریشانیاں کہو ! یہاں جمع کا صیغہ استعمال ہوگا . ایک ہوتی تو واحد استعمال کر لیتی ……. ربیعہ اور راشدہ دونوں ایک دوسرے کے سامنے کرسیوں پر بیٹھے تھے اور اسوقت ربیعہ نے راشدہ پر نظریں جما لی تھیں اور کہنے لگی راشدہ تم تو جانتی ہو ابھی تین ماہ ہوۓ عرفان کی نوکری لگے۰اور کل دفتر والوں نے چالیس فیصد کٹوتی سے تنخواہ دینے کا لیٹر دے دیا ہے۰اور ساتھ ہی اس لیٹر میں لکھا ہوا ہے کہ کوئ جاب ڈھونڈ لیں۰۰راشدہ تمھیں یہ بات معلوم ہے نا کہ اس جاب کو لگنے سے پہلے بیروزگاری کے چھ ماہ تھے عرفان کے۰اور یہ چھ ماہ کچھ کم تو نہ تھے۰اور اب پھر۰۰یہ وقت آرہا ہے۰یا اگر ملے گی تنخواہ بھی تو تو “چالیس فیصد کٹوتی” ……. !! بتاؤ راشدہ کہاں سے پورے ہوں گے سارے اخراجات۰؟؟؟ابھی تو بے روزگاری والے وقت میں لوگو ں سے لیا قرضہ بھی نہ اترا،ابھی تو پچھلے تین ماہ کی بچوں کی فیسوں کی ادائیگی باقی ہے۰پھر یہ مہنگے بجلی کے بل،تو گھر کا کرایہ،پانی کا بل ،گیس۰ایک چیز ہو توگنواؤں !!!یہ کہتے…..
ربیعہ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنی کنپٹیوں کو پکڑا اور لگتا تھا اب کہ ربیعہ رو ہی دے گی۰ یہ سب سُن کہ راشدہ نے ربیعہ کو غور سے دیکھا اور کہا، “ربیعہ تم تصور کرو کہ تم ساۓ دار جگہ پر بیٹھی ہو ،ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے،سامنے فوارہ میں سے بھی پانی نکل رہا ہے ۰اور ساتھ میں کوئی تمھیں شربت پیش کر رہا ہے تو کوئ میوے۰اور تمھاری سامنےہری پیلی کیریاں ہیں چاٹ مصالحہ لگی ہوئی ،کھٹے میٹھے لال گلابی فالسے، میٹھے میٹھے آم ،رس بھری خوبانیاں موجود ہیں اور تم انھیں کھا رہی ہو”، یہ سننا تھا کہ ربیعہ تقریباً چیختے ہوۓ بولی کہ راشدہ میں تم سے کیا بات کر رہی ہوں اور تم کیا جواب دے رہی ہو؟؟؟میں کہ رہی ہوں “مشرق”اور تم “مغرب “اور مغرب بھی نہیں بلکہ شاید تم مشرق کے بجاۓ چاند اور سورج کی بات کرنے لگی ہو…….تمھارا دماغ تو نہیں چل گیا؟ ؟؟ کہاں سے کھاؤں گی میں میٹھے آم؟اور یہ لال گلابی فالسے؟؟؟؟اور کہاں سے آئیں گے میرے پاس یہ نوکر چاکر…….؟؟؟کیا اپنا ضمیر بیچ ڈالوں اور جو مرضی آۓ کرتی پھروں یا مالک مکان سے کہوں کہ مجھے یہ فالسے کھانے ہیں پلیز آپ کرایہ نہ لیں
بتاؤ راشدہ میں کیا کروں گی؟؟؟؟یہئ دو چیزیں اختیار کرنے کا طریقہ نکل رہا ہے تمھاری باتوں سے تو؟؟؟ راشدہ تمھیں میرا مسءلہ سمجھ کیوں نہیں آرہا؟؟ تم میری بات سمجھ کیوں نہیں رہیں……. اس پر راشدہ مسکرائی اور کہنے لگی۰میری دوست مجھے یہ ریاضی کے تھیورمز تو سمجھ نہیں آتے تھے۰تو تمھاری باتیں کہاں سے سمجھ آءیں گی؟؟؟یاد نہیں کتنے چکر لگاتی تھی میں مس سعدیہ کے پاس کہ یہ تھیورم سمجھا دیں ، اور یہ والا تھیورم بھی۰اور وہ فزکس کی equations تو جب تک میں خود دس دفعہ حل نہ کر لیتی مجھے سمجھ پلے ہی نہیں پڑتی تھیں اور کیمسٹری کا periodic table.ابھی راشدہ کچھ اور کہتی کہ ربیعہ نے کہا پلیز راشدہ میں اس وقت اسکول کی کلاس میں نہیں بیٹھی ہوئی ۰میں اس وقت تم سے اپنے مساءل کا حل ڈھونڈنے کے لۓ آئی ہون ……..
اب راشدہ نے ربیعہ کے دونوں ہاتھوں کو پکڑا اور انتہائی سنجیدگی سے کہنے لگی دیکھو ربیعہ “تنخواہ کی کٹوتی”،جاب کا ختم ہونا ان سب مساءل کا حل تو تم دونوں میاں بیوی کو خود سوچنا ہوگا کہ اب تم دونوں کیا کر سکتے ہو۰جیسے بجلی کا بل کم کرنے کے لۓ سولر پینل لگوایا جاسکتا ہے کہ نہیں!یا گھر کا کرایہ کم کرنے کی مالک مکان سے بات کرنی بہتر ہے یا گھر تبدیل کر لیا جاۓ۰اور ربیعہ ان ساری باتوں سے بہت بڑ ھ کر تمھارے اندر “قوت مدافعت ” کا بہتر ہونا ضروری ہے……… کہ قوت مدافعت کے بہتر ہونے سے ان پہاڑ جیسی مشکلات کا ،اس مہنگائی کے طوفان کا اچھے طریقہ سے مقابلہ کر سکو۰ان پریشانیوں کے آگے چٹان بن کر کھڑی ہو سکو کہ یہ سب مشکلات تمھیں کھڑا رکھ سکیں۰ان مشکلات میں تم لڑکھڑا نہ جاؤ۰اُڑتی یہ غموں کی ہواءیں تمھیں بہا کر نہ لے جائیں۰اس کے لۓ جب تم تھکنے لگو،جب زیادہ پریشان ہو ، فکریں زیادہ سوار ہوں تو جنت کے ٹھنڈے آموں،رس بھری خوبانیوں اور کھٹے میٹھے لال گلابی فالسوں اور ان جیسی نعمتوں کا تصور کر کے “خوشی”محسوس کر لیا کرو……. کہ “خوش رہنا قوت مدافعت کو بہتر کرتا ہے۰اور جب تھکا ہوا انسان ان ملنے والی نعمتوں کو محسوس کرتا ہے تو جہاں اپنے مدافعتی نظام میں بہتری محسوس کرتا ہے بلکہ اس کے ساتھ “فرحان”بھی ہوتا ہے۰
یہ سب سُن کر کرسی پر ٹیک لگاۓ، پاؤں گھاس پر آگے کی ہوئ ربیعہ نے آنکھوں سے نکلنے والے دو قطروں کو صاف کیا اور مسکرانے لگی ۰شاید کہ ان ملنے والی نعمتوں کو محسوس کر کے،خوش ہو کر “قوت مدافعت” کو بہتر کرنے کی کوشش کر رہی تھی اور چہرے پر مسکراہٹ لاتے ہوۓ کہنے لگی اور تم ان ٹھنڈی چھاؤں میں میرے ساتھ بیٹھ جایا کرنا مل کر میٹھے آم کھایا کریں گے۰یہ سُن کر راشدہ نے ربیعہ کے دونوں ہاتھوں کو پیار سے پکڑا اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر محبت بھرے انداز سے کہا۰”ان شا اللہ”.

اپنا تبصرہ بھیجیں