قریش مانوس ہوگئے – انیقہ وسیم




آج کافی عرصے بعد وہ فرصت سے دادا کے پاس بیٹھا تھا ……. ورنہ جب سے اُس نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا ، اُس وقت سے گھر والوں کیلئے وقت نہیں نکل پارہا تھا اور دادا سے بس کھانے کی میز پر ہی سلام دعا ہو پاتی تھی . آج سیمیسٹرکا آخری پیپر دے کر گھر آیا تو دو گھنٹے آرام کرنے کے بعد دادا کے پاس آگیا.

دادا اُس وقت قرآن شریف پڑھ رہے تھے. بلال بھی بیٹھ کر سننے لگا. اس کو قریب بیٹھے دیکھ کر دادا سورۃ القریش کا ترجمہ بآوازِ بلند کرنے لگے اور اس کی تفسیر سمجھانے لگے.
“قریش کے مانوس کرنے کے سبب…….اُن کو جاڑے اور گرمی کے سفر سے مانوس کرنے کے سبب .لوگوں کو چاہئے کہ اس گھر کے مالک کی عبادت کریں. جس نے ان کو بھوک میں کھانا کھلایا اور خوف سے امن بخشا. “(القریش)

اس سورت میں اللّٰہ تعالٰی نے اہلِ قریش کو احساس دلایا ہے کی جن نعمتوں کو تم اپنا حق سمجھ کر دن رات مستفید ہوتے ہو ، وہ دراصل اللّٰہ ہی کا احسان ہیں. اس میں اللّٰہ تعالٰی نے چیدہ چیدہ نعمتوں کی نشاندہی کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ جس میں سفر کو آسان بنانا , دورانِ سفر موسم اور لٹیروں سے بچاؤ , بہترین جگہ کی رہائش , بھوکا نہ رہنا وغیرہ شامل ہیں. ان نعمتوں کا حوالہ دیکر اللّٰہ تعالٰی کہہ رہے ہیں کہ تم لوگوں پر فرض ہے کہ جس نے تمہیں ان نعمتوں سے نوازا اُسکی عبادت کرو اور صرف اُسی کی عبادت کرو,  کسی اور کو شریک نہ ٹہراؤ.  بیٹا!  یہ سورت صرف قریش کیلئے نہیں , ہمارے لئے بھی نصیحت اور سبق ہے . اللّٰہ نے ہمیں بھی اُن نعمتوں بلکہ اُن سے زیادہ نعمتوں سے نوازا ہے جو اہل قریش کے پاس تھیں . ” بلال دادا کی بات غور سے ۔۔۔۔۔۔ سن رہا تھا اور تائیداً سر ہلا رہا تھا.

  “بیٹا! یہ سورت ایک تنبیہہ ہے اللّٰہ تعالٰی کی طرف سے کہ جو رب یہ نعمتیں دے سکتا ہے , وہ انہیں چھین بھی سکتا ہے . جو رب رحیم ہے وہ عذاب دینے پر بھی قادر ہے . آخری آیت میں بھوک اور خوف کا ذکر پتا ہے کیوں کیا اللّٰہ تعالٰی نے؟ کیونکہ بھوک اور خوف بھی عذاب کی ہی شکلیں ہیں. یہ دونوں چیزیں پوری پوری قوم کا رہن سہن اور سوچ کو تباہ کر سکتی ہیں. ” ، ‘بھوک اور خوف.. ؟’ بھلا یہ کیسے عذاب بن سکتی ہیں . عذاب تو عام طور پر غیر معمولی ہوتا ہے جبکہ یہ تو بہت معمولی احساسات ہیں جن سے ہم کروز گزرتے ہیں ۔  بلال نے دل میں سوچا اور مسکرا دیا . دادا اُس کے تاثرات بغور دیکھ رہے تھے ، کہنے لگے “بیٹا ابھی تمہیں یہ ناقابلِ یقین لگ رہا ہے لیکن ایک دن تمہیں اس بات کی سچائی کا اندازہ ہو جائے گا. چلو اب کھانا کھانے چلو, تمہاری امی دو بار بلا چکی ہیں. ” دادا پوتا کھانا کھانے چلے گئےاور بات آئی گئی ہو گئی.

  آج اس بات کو ڈیڑھ سال ہو گئے تھے اور بلال نے اپنی آنکھوں سے دادا کی بات کو حقیقت کا روپ دھارتے دیکھا تھا . دادا کے انتقال کو سات مہینے ہونے والے تھے جب یہ کورونا کی وبا پھیلنا شروع ہوئی اور آخرکار بات لاک ڈاؤن تک پہنچ گئی . بلال نے جب اس صورتحال پر غور کیا تو حیران رہ گیا. واقعی , ایک وائرس نے پوری قوم کو اتنا خوفزدہ کردیا تھا کہ لوگ اپنے عزیزوں سے ہاتھ ملاتے ڈر رہے تھے . آنا جانا , میل ملاقات حتیٰ کہ جمعے کی نماز بھی اسی خوف کا شکار ہو گئی . مہمان کی آمد پر میزبان نظریں چراتا پھرتا اور اس کے جاتے ہی ڈیٹول سے صفائی ہوتی . الغرض ,  خوف نے پوری قوم کو یرغمال بنا لیا تھا . صرف یہی نہیں, دکانیں بند ہونے سے بیروزگاری بڑھ گئی اور بھوک کے مارے لوگوں نے چوری اور چھینا جھپٹی کو معمول بنا لیا. کوئی گھر اس خوف سے خالی نہیں تھا.

بلال اور اس جیسے بہت سے لوگوں کو آج اس بات کا اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ خوف ایک عذاب ہے جو ہماری نافرمانیوں کی وجہ سے ہم پر تنبیہہ کیلئے نازل ہوا ہے. جس نے ہمارے سماجی اور معاشرتی رویّوں کو بدل دیا ہے. جہاں میل ملاقات, گلے ملنا خلوص کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا وہاں اب لوگ ایک دوسرے سے کترانے لگے ہیں. جو کسی کی کھانسی,  بخار پر فوراً خیریت پوچھتے تھے اور ڈاکٹر کو دکھانے کا مشورہ دیتے تھے,  وہی لوگ اب جب کسی کو چھینکتے دیکھتے ہیں تو جواب میں دعا دینے کے بجائے فاصلہ  مزید بڑھا کے خوفزدہ نظروں سے دیکھنے لگتے ہیں

اب ہم پر لازم ہے کہ اپنی غلطیوں کو سدھاریں, اُن پر اپنے رب سے معافی مانگیں اور اس عذاب نما بیماری کے جلد از جلد ختم ہونے کی دعا کریں تاکہ زندگی پہلے کی طرح پرسکون اور رواں دواں ہو جائے انشاءاللہ

اپنا تبصرہ بھیجیں