اک وادی – سماویہ وحید




       سنا ہے بہت سستا ہے خون وہاں کا
اِک وادی جسےلوگ کشمیرکہتے ہیں

بہار کی وہ اُداس ہوائیں ہر ایک کو اپنی لپیٹ میں لے رہی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔ موسم بھی ایک عجیب کیفیت سے دوچار تھا . ہر طرف خون کی چادر لپٹی ہوئ تھی. جگہ جگہ خون کے قطرے مہکا رہے تھے. ان خوشبو میں شہادت کی یاد تازہ ہو جاتی تھی . نوجوانوں کو مزید جذبے کی طرف اُبھارتی تھی . میں  ۔۔۔۔۔(عثمان) اس اداس ماضی کے منظر میں جا پہنچا تھا

کہ اچانک ایک لمحے میں بھارتی فوجیوں کے جوتوں کی آواز میری جانب بڑھتی ہوئی محسوس ہوئی تو میں نے دوڑ لگا دی. ایک دم گولیوں کی گونجتی آوازیں میرے جسم میں خوف پیدا کر گئیں. آج پھر ان بے رحموں کو ترس نہیں آرہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آتا بھی کیسے یہ ان کا روز کا معمول تھا۔ میں بے گھر تھا. میرا کوئ پرسانِ حال نہ تھا. جب سے بھارتی فوج نے ہمارے علاقے میں حملہ کیا تھا. میری دو بہنیں ان کی گولیوں کا نشانہ بن کر خون میں لت پت ہو گئیں تھی اور اس دنیا سے کوچ کر گئیں. میرا بھائی اور باپ ان سے لڑتے لڑتے ایک شہید کی حثیثت سے اپنے خلق حقیقی کے پاس جا پہنچے اور میں اس بے حس دنیا میں تنہا رہ گیا تھا.

یہ اللہ کی مصلحت تھی کے اس کے کرم سے میں اپنے گھر سے بھاگ گیا… جب دشمنوں نے حملہ کیا… پورے علاقے میں کرفیو لگا ہوا تھا۔ یہ تو خدا کا کرم ہوا کہ مجھے ایک نیک بندے محمد اعظم نے اپنے گھر میں پناہ دےدی. اُس وقت میری عمر ۱۵سال تھی…..دن بیت گئے وقت کا پہیہ گھومتا رہا اور میں ۲۲سالہ نوجوان بن گیا. میرے اندر نجانے یہ جذبات کہاں سے اُبھرنے لگے کہ میں اپنے دشمنوں یعنی بھارتی فوج کا ڈٹ کر جواں مردی سے مقابلہ کرونگا اور ایک دن اس وادی کو دشمنوں سے آزاد کرکے ہی دم لونگا. لیکن شاید یہ میرا خواب تھا….. میں باقاعدہ محمد اعظم کی تربیت حاصل کرتا رہا اور اس کی بدولت میں اپنے مقصد کے لے تیار ہوتا رہا…. رات کافی گزر چکی تھی…. یوں سمجھا جائے کے رات کی تاریکی کے پردے سے آسمان ڈھکا ہوا تھا. حتٰی کے سایہ بھی نظر نہ آتا تھا۔

ہم تقریبٌا ۱۵ نوجوان تھے. جو اپنی وادی کو دشمنوں کے شکنجے سے نکالنے کے لے پُر عظم تیار تھے. انسان کو کیا خبر ہوتی ہے کہ آگے آنے والے لمحوں میں اُس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے بہرِحال ہماری تعداد کچھ نہ ہونے کے برابر تھی ہمارے پاس ہتھیار بھی کم تھے لیکن سب سے بڑی نعمت ایمان ایک خالص ایمان موجود تھا… ہم اپنے ہتھیار اُٹھائے اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھے….. بعض أوقات میرے دل میں خیال آتا ہے کہ اتنی کم تعداد سے ہم دشمن کا کیا بگاڑ سکتے تھے… پھر مجھے وہ وقت یاد آتا ہے جب بدر میں خاتم النبيين رحمة للعالمين محمد عربی صل الله عليه و أله و سلم کی اللہ نے مدد فرمائی تھی چونکہ وہ بھی کم تعداد میں تھے اور کفّار ان کے مقابلے میں سو گنا زیادہ تھے. لیکن مسلمانوں کے دلوں میں ایمان کی روشنی جگمگاتی تھی۔ جس نے انھیں پیچھے ہٹنے نہ دیا اور اپنی جان کی بازی لگا کر وہ فتح یاب ہوئے تھے.

بہرِحال جیسے ہی ہم نے حملہ کیا دشمن شاید اسی انتظار میں تھے… انھوں نے ہم سب کو گھیر لیا اور ایک دم گولیوں کی بارش نے ہمیں گھیر لیا اور سب اپنی منزل کی طرف کوچ کر گئے یعنی شہادت کا رتبہ حاصل کر گئے…. اس دوران خون کی ندیاں بہنے لگئیں… اس وقت ہم اللہ کے فضل و کرم سے تین نوجوان ہی بچ سکے لیکن شدید زخمی حالت میں تھے. اللہ نے ہم سب کو دوبارہ زندگی عطا فرمائی اور زندگی کی دوڑ دوبارہ اپنی منزل کی جانب گامزن ہوگئ… لیکن میں ہمیشہُ کے لیے معذوری کی زندگی میں پہنچ گیا. علاج کی سہولت موجود نہ تھی… زخم شدید گہرے تھے جو جسم کو نقصان پہنچا سکتے تھے. جس کے لیے مجھے دونوں ٹانگوں سے محروم ہونا پڑا….

لیکن میں ایک شکرگزار بندہ ہی رہا اور اللہ کے فضل و کرم سے میں کسی کا محتاج نہ بناُ. میں نے زندگی سے ہارنا نہیں سیکھا اور اپنے دیس کے بچوں کے مستقبل کے لیے ایک بہتر استاد کا فریضہ انجام دینے لگا. اپنے دیس کے بچوں کو جہاد کرنے پر اُبھارتا ہوں، ایک مضبوط جوان بنانے کی کوشش کرنے لگا تاکہ یہ بچے مستقبل میں ہمیں ایک آزاد اور مظبوط وادی دے سکیں. ہمارے ان عزائم اور مسلسل جدوجہد کی وجہ سے دشمنوں کو اپنے سر جھکانے پڑ جائیں. میرے دل میں ہمیشہ پاکستان کے ساتھ جڑے رہنے کی خواہش ہے. آج بھی میں اپنے کشمیر کے لیے لڑ سکتا ہوں اور جدوجہد کر رہا ہوں. اپنے عظیم شہداء کے خون کا بدلا لے سکتا ہوں. آج بھی ہم سب وادی کے افراد کے دلوں میں پاکستان کی محبت کے جذبے اُبھرتے ہیں اور اُبھرتے رہیں گے….

میں اللہ پر پختہ ایمان رکھتا ہوں اور پاکستان سے امید رکھتا ہوں کہ وہ ہمیں بھارتی فوج سے آزادی حاصل دلوا کر ہی دم لیں گئے

    کشمیر زندہ  باد
پاکستان زندہ باد

سنتا ہوں آج بھی میں یہ کہ کشمیر تو جنت ہے. لیکن مجھے ان لوگوں سے پوچھنے کا پورا حق ہے کہ اگر کشمیر جنت ہے تو اس میں سکون کیوں نہیں؟؟؟؟ جنت میں تو سکون ہوتا ہے اور ہر انسان اپنی مرضی سے زندگی گزار سکتا ہے….اگر آپ سمجھتے ہیں کہ کشمیر جنت ہے تو ہمیں کافروں کے ہاتھوں سے اپنی جنت حاصل کرنی ہوگی کیوں کہ .
جنت کسی کافر کو نہ ملتی ہے اور نہ ملےگی

میری جنت ہرروزپکارکرمجھ سےپوچھتی ہے
میں کس کو آواز دوں میں کس کے پاس جاؤں
جی تو چاہتا ہے پھر سے آسمان پہ لوٹ جاؤں
زمین    کی    جنت  نہ   بنایا   جاتا    مجھے
اس   طرح   اتنا   نہ    ستایا    جاتا    مجھے
وہ   میرے  درخت  کاٹ  کر  اپنا   تخت  زر
زمین  کی   جنت   کو   بدبخت   بنائیں   گے
آزادی  کے  نام  پہ  نہ مجھ  کو  پھنسا  دینا

اپنا تبصرہ بھیجیں