بد گمانی – عائشہ قریشی




حفصہ میری سب سے اچھی دوست تھی۔ہم نے اسکول اور کالج ساتھ پڑھا تھا اوراب یونیورسٹی بھی ساتھ پڑھ رہے تھے۔وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی ،لیکن انہوں نے اس کی تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی یہی وجہ تھی کہ وہ ایک باکردار اور خوش اخلاق لڑکی تھی۔
گھر قریب ہونے کی وجہ سے ہمارا ایک دوسرے کے گھر آنا جانا بہت زیادہ تھا۔وہ مجھے اپنی ہر بات بتاتی تھی۔ ہم دونوں یک جان دوقالب تھیں ۔ہماری دوستی شاید یونہی آگے بڑھتی اگر درمیان میں یہ سب کچھ نہ ہوتا۔ مجھے کچھ دنوں سے یہ محسوس ہو رہا تھا کہ وہ مجھ سے کوئی بات چُھپا رہی ہے مگر میں نے اسے اپنا وہم سمجھ کر جھٹک دیا۔ لیکن اس دن تو مجھے بے حد حیرانی ہوئی جب اس نے یونی کی چھٹی میں مجھ سے یہ کہہ کراکیلے گھر جانے کو کہا کہ مجھے کچھ کام ہے حالانکہ ہم دونوں تو شروع سے ہی ساتھ ہی آتے جاتے تھے اور اگر کسی کو کوئی کام ہوتا تو ہم وہ کام نبٹا کر ساتھ ہی واپس آتے۔بہرحال میں نے اسے زیادہ کریدنا مناسب نہیں سمجھا اور خاموشی سے گھر آگئی۔
لیکن یہ تو جیسے معمول ہی بن گیا اب اس کو روز ہی کوئی نہ کوئی کام آن پڑتا ،اور آج توحد ہی ہو گئی ۔آج حفصہ نے مجھ سے پیسے مانگے،میں نے وجہ پوچھی تو آگے سے چپ ہو گئی۔میں نے بھی اسے پیسے دے دیے۔مگر میں نے دل میں تہیہ کر لیا تھا کہ کل جا کر حفصہ کی امی کو اس بارے میں سب بتا دوں گی۔میرا خیال تھا کہ حفصہ کسی غلط چکر میں پڑ گئی ہے۔بلکہ اب تو مجھے یقین بھی ہو گیا تھا۔ گھر میں کچھ مصروفیت کی وجہ سے میں حفصہ کی امی سے ملنے نہیں جاسکی۔آج اتوار تھا میں حفصہ کے گھر جانے کا سوچ ہی رہی تھی کہ وہ خود ہی آگئی۔ اس نے مجھ سے کہا کہ وہ مجھے کسی سے ملوانے لے کر جا رہی ہے۔میں نے کہا کہ جا کر امی سے پوچھ لو ،وہ مجھے اس طرح باہر نہیں جانے دیتیں۔ اس نے کہا جاؤ تم برقع پہنو میں آنٹی سے پوچھ کر آتی ہوں۔مجھے یقین تھا کہ امی اجازت نہیں دیں گی۔بھلے کتنی بھی دوستی ہو امی اس طرح باہر نہیں جانے دیتی تھیں،لیکن حیرت انگیز طور پر امی نے نہ صرف اجازت دی بلکہ آنے اور جانے کا کرایہ بھی دیا،پتا نہیں اس نے امی کو کیا کہہ کر قائل کیا تھا۔
راستے میں بھی میں اسی بارے میں سوچتی رہی ۔ گاڑی رکی تو مجھے ہوش آیا۔میں نے دیکھا کہ ہم غریب آبادی میں کھڑے تھے۔میں نے حیرت سے اس سے پوچھا کہ یہ ہم کہاں آگئے ہیں؟اس نے بڑے سکون سے کہا کہ جہاں میں روز آتی ہوں۔ ابھی ہم باتوں میں ہی مشغول تھے کہ سامنے سے بہت سارے بچے بھاگتے ہوئے آگئے۔”حفصہ آپی آئیں ہیں” ۔بچوں نے خوشی سے کہا اور سب باری باری ہمیں سلام کرنے لگے۔حفصہ نے سارے بچوں کو چاکلیٹس دیں جو اس نے آتے ہوئے دکان سے لے لیں تھیں۔لیا تو اس نے اور بھی بہت کچھ تھا۔جو اس نے وہاں موجود گھروں میں دینا تھا۔ ارے! آؤ نا مائرہ ، ابھی مجھے بہت سے لوگوں سے ملنا ہے۔ میں شرمندگی سے اس کے ساتھ چلنے لگی ،ناجانے میں اس کے بارے میں کیا کیا سوچ رہی تھی لیکن یہاں تو الگ ہی کہانی تھی۔کہیں وہ غریب بچیوں کو ٹیوشن پڑھاتی تھی تو کہیں وہ بوڑھے بیمار لوگوں کی خدمت کرتی تھی۔وہ تو ایک فرشتہ صفت انسان تھی۔
واپسی پر آتے ہوئے اس نے تقریبا سب ہی گھروں میں کچھ نہ کچھ دیا تھا۔راستے میں وہ مجھ سے اُن لوگوں کے بارے میں باتیں کرتی رہی۔اُس نے مجھے یہ بھی بتایا کہ اس نے مجھ سے پیسے ایک عورت کے علاج کے لیے لیے تھے۔میں تو مارے خجالت کے صرف ہوں ہاں میں جواب دے رہی تھی۔ اب مجھے حفصہ سے معافی مانگنی تھی ۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں وہ اپنے بارے میں میرے خیالات سن کر مجھ سے دوستی نہ توڑ دے۔ اگلے دن یونیورسٹی کے کیفے ٹیریا میں جب میں نے اسے سب کچھ بتاتے ہوئے معافی مانگی تو اس نے مجھے معاف کر دیا اور کہا کہ اب سے ہم اور بھی اچھے دوست ہیں ۔آئیندہ تم کسی کے لیے بھی اپنے دل میں کسی بھی قسم کی کوئی بدگمانی نہیں لاؤ گی۔ دیکھو قرآن پاک میں ایک جگہ آیا ہے کہ”اے ایمان والوں!بہت بدگمانیوں سے بچو،یقین مانو کہ بعض بدگمانیاں گناہ ہیں”(الحجرات/12)ہمیں توپتہ بھی نہیں چلتا کہ ہم جانے انجانے میں کتنے گناہ کر لیتے ہیں۔
جبکہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ”بدگمانی سے بچو،بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے”۔ ہم کیوں اپنے دل میں دوسروں کے لیے بدگمانی پیدا کر کے جھوٹ جیسے بڑا گناہ کرنے کے روادار ہوں۔ دیکھومحض اپنے گمان کی وجہ سے کبھی بھی کسی پر شک مت کرنا۔ہوسکتا ہے کہ تم اس کے بارے میں جیسا سمجھتی ہو وہ ویسا نہ ہو۔ میں نے بھی اس سے وعدہ کر لیا ہے کہ اب میں کبھی بھی بدگمانی نہیں کروں گی۔اب ہم پہلے کی طرح بہت اچھے دوست ہیں ،اور ہاں اب میں بھی حفصہ کے ساتھ غریب آبادی جاتی ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں