عید قرباں کی آرزوئیں – ڈاکٹر فرحت حبیب




امی امی …… ! پڑوس میں بہت زبردست بیل آیا ہے . سارا محلہ دیکھنے کے لیے جمع ہو گیا ہے . حنا ثنا چلو نا ! ہم بھی دیکھ کر آئیں ، چھوٹا احمد خوشی سے اچھل اچھل کر بیتابانہ فرمائش کر رہا تھ ا. عید قرباں کے آتے ہی گلی محلوں میں بچے بڑے اور منچلے سب میں زندگی کی حرارت اپنے عروج پر نظر آتی…
فرحانہ بیگم کی آنکھیں کہیں دور خلاؤں میں گم ہر سال یہ شور سنتی رہتیں. اور انکی حج کرنے کی خواہش نا تمام اب انکو ایسا خواب لگنے لگی تھی جو کبھی پورا نہ ہو گا . کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انکی صحت گرتی جا رہی تھی اور اس ہوشربا مہنگائی میں بڑے ہوتے بچوں کے اخراجات بھی بڑھتے جا رہے تھے. حج کے لیے پس انداز کی گئی رقم گھر کی کسی نہ کسی ضرورت کی نظر ہو جاتی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی حج فیس مقررہ ہدف کو حاصل ہی نہیں ہونے دے رہی تھی . فرحانہ بیگم کے کانوں میں جب ذوالحج کے دنوں میں لبیک اللھم لبیک کی آوازیں کانوں سے ٹکراتیں ، تو وہ دل مسوس کر رہ جاتیں . وہ بھی ایسی ہی ایک ماں تھیں ، جیسی ہمارے معاشرے کی مائیں ہوتی ہیں اپنے حصے کی بوٹی بھی پہلے شوہر اور بچوں کی پلیٹ میں ڈالنے والی … بعد میں اپنے لیے کچھ سوچنے والی….
فہم دین نے انکو یہ ادراک دے دیا تھا کہ قبر میں ہر انسان کو اکیلے ہی جوابدہی کرنی ہو گی، اور یہ حدیث تو آرے کی طرح انکے دل کے آر پار ہو جاتی کہ، “اگر کسی نے استطاعت کے باوجود حج نہ کیا، تو اللہ کو اسکی پرواہ نہیں کہ وہ یہودی مرے یا نصرانی”. گھر کے سب کاموں کے لئے پیسے ہیں، بچوں کامہنگے اسکول اور پھر کالجوں میں داخلہ، گھر کے پلاسٹر اور پینٹ سے لے کر فرش کو جدید ساخت میں ڈھالنا، شادی چاہے خاندان کی ہو وہاں دینے دلانے سے لیکر خود کی تیاری تک بے انتہا اسراف…….! سب اہم ضروریات قرار دی جاتیں. گھرکی شادی ہےآخر خاندان میں بھی تو کوئی عزت رکھنی ہے! لوگ کیا کہیں گے بچوں کو اچھے کالجوں میں داخل نہیں کرایا!!
رہن سہن تو دیکھو گندا ٹوٹا پھوٹا گھر کیسے بے حس ہیں، ہمارا گھر ہوتا تو اس نعمت کی قدر کرتے، اسکو مینٹین کرکے رکھتے!! اگر کچھ غیر اہم تھا، تو وہ حج کے لیے سوچنا اور پس انداز کرنا….
فرحانہ بیگم ایک دفعہ پھر سوچوں کے دھارے پر بہنے لگیں، اور انکو بگڑے ہوئے میکے اور سسرال کے وہ تعلقات نظر آنے لگے، جو نہ چاہتے ہوئے بھی سنبھل نہیں پائے اوروقت گزرنے کے ساتھ بگڑتے چلے گئے. میدان حشر میں میں حقوق العباد کی جوابدہی سے بچنے کا واحد ذریعہ وہ حج ہوتا ، جسکے کرنے سے رب رحیم اپنے بندے کو گناہوں سے ایسے پاک صاف کر دیتا ہے جیسے ماں کے پیٹ سے نکلا ہوا بچہ . آج گلی والے رتجگا کر رہے تھے تاکہ جانوروں کی حفاظت ہو سکے، باہر سے رہ رہ کر بچوں کا شور بلند ہوتا اور چھن چھنن کی آوازیں انکی سوچوں کی روانی متاثر کر دیتیں. تہجد کی نماز میں سر رکھے وہ اپنے رب سے راز و نیاز میں مصروف تھیں….. اے خالق دو جہاں! دلوں کا حال جاننے والے، تیرے نور سے ساری کائنات روشن ہے. مجھے نہیں معلوم کہ تیرے دربار میں حاضر ی کیسے لگاؤں گی، مگر تیری رحمت سے مایوس نہیں ہوں، میرے رب میری تڑپ دیکھ اور مجھے اپنے در پہ بلا لے!
اے مشکل کشا!! توُ وہاں سے راستہ بناتا ہے جہاں سے کوئی امید نہ ہو. میرے رب میرے لئے حج کا وسیلہ بنا دے، مجھے موت آئے تو اس حال میں کہ توُ مجھ سے راضی ہو. ” فرحانہ بیگم سجدے میں سر رکھے تڑپ رہیں تھیں. آنکھوں سے سیلِ رواں جاری تھا.
” یا رب! اے مالک دو جہاں! یہ ناچیز تیرے حضور عرضداشت پیش کرتی ہے، اسے قبول فرما لے یا ربی، اور ایسی جگہ سے میرے حج کا انتظام کر میرے مولا، جو میرے خیال میں بھی نہ ہو”
وہ بلک رہی تھیں اور تڑپ تڑپ کر اپنے رب کے حضور مناجات کر رہی تھیں …….. آخر قدرت کو ان پر رحم آگیا. اور دروازے پر کھڑے انکے شوہر کا دل موم ہو گیا. وہ ہر سال انکی خواہش کو صرف نظر کرتے آئے تھے. مگراس سال رب رحیم نے انکے دل میں ہدایت ڈال دی، کہ اور کام تو ہوتے رہیں گے پہلی فرصت میں حج کی تیاری کرنی چاہیے. اور جب فرحانہ بیگم سجدے سے سر اٹھا رہی تھیں تو ان کا رب انکی عرضداشت قبول کر چکا تھا. اور انکے شوہر انکو یہ خوشخبری سنانے کے لیے بیتاب کھڑے تھے کہ انشاءاللہ اگلے سال ہم حج کو ضرور جائیں گے.

اپنا تبصرہ بھیجیں