فلسفہء قربانی – عٔرفہ کامران




“بیٹا کیا تمہیں معلوم ہے کہ ہم قربانی کیوں کرتے ہیں؟” دادی جان نے فروا سے پوچھا۔
“کیوں نہیں دادی جان!” اور فرفر حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسمعیٰلؑ کا قصہ سنا دیا۔
“ماشاءاللہ …… مگر میرا سوال تو وہیں رہا۔” دادی جان نے محبت سے کہا۔
“تو دادی جان ہم ابراہیم ؑ کی سنت پر عمل کرتے ہوۓ ہر سال قربانی کرتے ہیں نا” .فروا نے جھٹ سے جواب دیا۔
“لیکن ہم تو ابراہیمؑ کی سنت پر عمل نہیں کرتے۔” دادی جان نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ” مگر دادی جان ہر سال تو ابو گائے لاتے ہیں اور ہم پھر اس کو ذبح کرتے ہیں،یہ قربانی نہیں ہے تو پھر کیا ہے؟” فروا نے پریشانی سے سوال کیا۔
“بیٹا بظاہر تو یہ قربانی ہے مگر ابراہیمؑ کی سنت پر عمل پیرا ہونے کیلئے ہمارے پاس قربانی کا وہ جذبہ کہاں ہے جو ابراہیمؑ کی سنت ہے ؟ تم نے کبھی یہ سوچا کہ اللہ نے اس کیلئے ایک خاص دن ہی کیوں بنایا؟اگر قربانی ہی کرنی تھی تو وہ تو کسی بھی دن ہو سکتی تھی،کیوں خاص طور پر اس کیلئے ایک دن مختص کیا گیا؟” فروا نے حیرانی سےنفی میں سر ہلایا۔
دادی جان نے مسکراتے ہوئے بات آگے بڑھائی ۔
“کیونکہ یہ صرف قربانی کا دن نہیں ہے ، یہ اس جذبے کو محسوس کرنے کا دن ہے . جو ابراہیمؑ کے دل میں تھا ، یہ اس واقعے کو جینے کا دن ہے جب اللہ کیلئے اس کے محبوب نے اپنی سب سے زیادہ محبوب چیز اس کی راہ میں قربان کرنے کیلئے اس کے حضور پیش کی تھی۔”
دادی جان نے پیار سے فروا کا ہاتھ تھاما اور ایک ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے بات کو آگے بڑھایا۔
” کیا تم نے کبھی تصور کیا کہ جب حضرت ابراہیمؑ کو اللہ کا حکم ملا ہوگا تو ان پر کیا گزری ہوگی ؟ اکلوتا لخت جگر جو کافی منتوں مرادوں کے بعد ملا ہو، کہہ دیا جائے کہ اسے قربان کردو ۔ کیا ان کے دل میں بیٹے کی محبت نے سر نہیں ابھارا ہوگا ؟ پھر کس دل سے انہوں نے یہ خبر اپنے لخت جگر کو سنائی ہوگی ؟
کیا ان کو تکلیف نہیں ہوئی ہوگی؟پھر جب حضرت اسمعیٰلؑ نے یہ خبر سنی ہوگی تو کیا ان کے دل میں شکوہ و شکایات نہیں پیدا ہوئ ہوں گی؟کیا زندگی سے متعلق ان کے خواب نہیں ٹوٹے ہوں گے؟”
“دادی جان !میں نے تو کبھی ایسے سوچا ہی نہیں …..” ، فروا نے شرمساری سے سر جھکایا۔
“تو کوئی بات نہیں بیٹا ! اب سوچ لو” ، دادی جان نے نرمی سے فروا کا شانہ تھپتھپایا اور بات جاری رکھی۔
کس طرح باپ بیٹا قربان گاہ کی طرف روانہ ہوۓ ہوں گے ؟ کیا ان کے قدموں میں لغزش نہیں آئی ہو گی ؟ کیا انہوں نے واپس قدم بڑھانے کا نہیں سوچا ہوگا ؟ پھر کس طرح باپ نے بیٹے کو زمین پر لٹایا ہوگا؟کس دل سے آنکھوں پر پٹی باندھی ہوگی؟کیا چھری تھامتے ہوئے ان کے ہاتھ نہیں لرزے ہوں گے؟کیا چھری چلاتے ہوئے بیٹے کی محبت نے شور نہیں مچایا ہوگا ؟ کیا وہ دونوں انسان نہیں تھے ؟ کیا ان کے سینے میں دل نہیں تھا ؟ کیا ان کے دماغ میں خیالات نہیں آتے تھے؟ …….. فروا نے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا۔
ہاں۔۔۔ وہ ہم میں سے تھے مگر، ہم نہیں تھے ……..! ان کا دل ہمارے جیسا تھا مگر نہیں تھا ،اس دل میں اللہ کی محبت تمام محبتوں پر مقدم تھی۔۔۔ان کے دماغ ہمارے جیسے تھے مگر سوچ نہیں تھی،اس سوچ میں صرف اللہ کی رضا تھی۔۔۔وہ ہماری طرح خاک سے وجود میں آئے تھے مگر وہ خاک محبوب کی محبت میں پور پور ڈوبی ہوئ تھی۔۔۔وہ کہنے والے نہیں کر گزرنے والے تھے۔۔وہ وفا نبھانے والے تھے۔۔
ایسے ہی عظیم درجات نہیں مل جاتے،ایسے ہی دنیا کیلئے مثالیں قائم نہیں ہوجاتیں۔۔۔محبوب کیلئے مشکل سے مشکل امتحان سے گزرنا پڑتا ہے،قدموں کو مضبوطی سے جمانا ہوتا ہے،اپنی ذات کی نفی کرنی ہوتی ہے،اپنے آپ کو محبوب کی محبت کے اس قابل بنانا ہوتا ہے،قربانی کیلئے ہمہ وقت تیار رہنا ہوتا ہے …… فروا نے دیکھا دادی جان کی آنکھوں شدت جذبات سے ستارے جھلملا رہے تھے۔
“بیٹا! یہ صرف قربانی نہیں ہے،یہ محبت کی فتح ہے،یہ جنوں خیزی سے بھی آگے کا درجہ ہے جس میں محبوب کی محبت میں ساری محبتیں پیچھے رہ جاتی ہیں،یہ محبت میں مٹ جانے کا جذبہ ہے جو محبوب کے حکم پر پس و پیش کی اجازت نہیں دیتا …….. واللہ یہ صرف قربانی نہیں ہے ! یہ تو قربانی سے بھی کئی درجے آگے ہے۔۔۔ ” جوش و جذبے سے دادی جان کی آواز لڑکھڑانے لگی ۔
آخر میں دادی جان نے بے اختیار باآواز بلند درودِ ابراہیمی کا ورد کرنا شروع کر دیا اور فروا کی آواز بھی دھیرے دھیرے اس میں شامل ہوتی گئی …….!

اپنا تبصرہ بھیجیں