گھر انصاف،خلوص اور قربانی سے چلتے ہیں – نیر تاباں




دادی اماں کا گھر گاؤں کا واحد پکا گھر تھا ۔ اکلوتا گھر جس میں بجلی تھی ، ٹی وی فریج جیسی “لگژریز” تھیں ۔ کسی کو پتہ بتانا ہوتا تو بتایا جاتا کہ جہاں کھمبے کی تار جاتی ہے ، وہیں تک جاؤ ۔ بجلی تھی ، لیکن گیس مفقود تھی ۔ گھر میں مٹی کا چولہا جلایا جاتا ۔ سامنے حویلی میں جانور پال رکھے تھے ۔
پھر یہ ہوا کہ گاؤں میں رہنے والی ہماری دادی کو شہر کی بہو پسند آ گئی ۔ شہری بہو اپنے مینرز تو شہر سے لائی تھیں ، لیکن شہر کا نخرہ نہیں تھا ۔ دادی بھی نفیس مزاج کی خاتون تھیں ……. جنہوں نے میری امی کو لاڈ سے رکھا ۔ جہاں دادی نے امی کو اپلے تھاپنے اور دودھ دوہنے جیسی ذمہ داریوں سے دور رکھا تھا ، وہیں تین دیوروں کی ڈیوٹیاں نبھانا ، پھونکیں مار مار کر چولہا جلا کر کھانا پکانا نارمل تھا ۔ گاؤں کے ماحول کے مطابق دادی میری امی کو پاس پڑوس کے گھروں میں لے جاتیں اور امی بھی محبت سے سب سے ملتی تھیں ۔ ہم نے اپنا پورا بچپن امی کو اسی طرح دیکھا کہ گاؤں کے ہر پھیرے پر آس پاس سے سب کا ملنے آنا ، اور امی کا بھی سب کو ملنے جانا ۔ اور اس میں کبھی ناک منہ چڑھا کر نہیں ، ہمیشہ خلوص اور محبت کیساتھ۔ میرے چچا چچی اور اب انکی اولاد امی کی اس قدر عزت کرتے ہیں کہ بچوں کے رشتوں سے لیکر ہر ہر مشورے میں پنڈی سے امی کو مسلسل ساتھ لئے چلتے ہیں …… الحمد للہ!
یہ پس منظر بتانا اس لئے ضروری تھا کہ …….. پتہ ہو کہ تعلیم میں خود سے کم شوہر اور ماحول کے اتنے فرق کیساتھ دادی کی اپنائیت اور امی کا پرخلوص رویہ ہی تھا کہ آج بھی گاؤں والوں کو انکا گرویدہ بنائے رکھا ہے ۔ میری دادی آخری سانس تک جھولی پھیلا پھیلا کر امی کو دعائیں دیتی رہی ہیں۔ پھر وقت گزرا اور امی خود ساس کی کرسی پر براجمان ہوئیں ۔ ساری عمر گھر کو اپنی مرضی سے چلانا ، سیٹنگ ، کچن کا طور طریقہ ۔۔ بہو کے آ جانے سے کہیں اپنی منوائی ہوں گی اور کہیں انکی مانی ہوں گی۔ شروع میں تھوڑا مشکل بھی لگا ہوا گا، کنٹرول دینے میں بھی اور کنٹرول سنبھالنے میں بھی۔ لیکن یہ کام صبر کیساتھ کیے گئے ہیں۔ ایسا تو نہیں کہ کوئی بہت ہی آئیڈیل ہوں گی جنہیں کبھی بہوؤں سے شکایت نہ ہو یا کہیں نہ کہیں، بہوؤں کو کسی بات پر نا حق ہرٹ نہ کر دیا ہو لیکن اوورآل اگر میں دیکھوں تو گھر میں جوائنٹ فیملی سسٹم بہت خوبصورتی سے چل رہا ہے۔
سب کی اپنی اپنی قربانیاں ہیں، لیکن گھر کے بڑے جب اپنا ہولڈ انصاف کیساتھ رکھیں تو بہت سی الجھنیں سلجھ بھی جاتی ہیں۔ میری دادی نے عزت کیساتھ بہو کو رکھا تھا، میری امی نے یہی سیکھا تھا۔ امی نے کھلے دل سے مختلف ماحول میں خود کو ڈھالا تھا، اور انکو بہوئیں بھی ایسی ہی نصیب ہوئی تھیں۔ بھائی کی شادی ہوئی، امی نے مجھ سے کہا کہ یہ عمر میں آپ سے چھوٹی بھی ہو لیکن یہ بڑی بھابھی ہے۔ گھر میں اسکا مقام ایسا ہی ہونا چاہئے۔ پہلے ہی دن ایک حد مقرر کر دی گئی۔میری دونوں بھابھیاں عمر میں مجھ سے چھوٹی ہیں لیکن سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ان سے کسی بات پر ناگواری کا احساس دوں، یا بڑی بن کے انہیں بن مانگے مشورے دوں۔ جس نے پوچھ لیا، اسکی بات کو امانت سمجھ کر سنبھالا ہے۔
نند بھابھیوں کے آپسی تعلقات میں ماں کا بہت گہرا کردار ہے۔ فون پر جب ماں بیٹی مل کر گھر کی بہو کی باتیں کرتی ہیں، اس سے ناقابلِ تلافی نقصان ہو جاتا ہے۔ بہو کے کان میں کوئی بات پڑتی ہے تو اسکا دل ساس سے اچاٹ ہو جاتا ہے – کیا فائدہ انہوں نے کون سا خوش ہونا ہے؟! بیٹی چونکہ ماں کے لئے فکر مند ہوتی ہے، اسکو بھابھی کی ذرا سی بے احتیاطی بھی کَھلتی ہے۔ میلوں دور بیٹھی وہ بھابھی سے متنفر ہو جاتی ہے۔ ساری خدمتیں بھول کر چھوٹی چھوٹی باتوں کو گرہ میں باندھ رکھتی ہے۔ اور ماں۔۔ بزرگ چونکہ کچھ بچوں کی طرح ہو جاتے ہیں۔ اب جب بوڑھی ماں کو بیٹی کی پوری توجہ، ہمدردی اور محبت بہو کی برائیاں کرنے پر ملنے لگتی ہے تو وہ بھی وکٹم مائنڈ سیٹ میں رہتی ہے اور روز کی ایک نئی کہانی بیٹی کو سناتی ہے۔ ہر ایک نقصان اٹھاتا ئے۔ ہم امی بیٹی کی گاہے کوئی بات بھابھیوں سے متعلق ہوئی بھی ہو لیکن مہینوں ۔ جی، مہینوں ہمارا موضوع یہ ہوا ہی نہیں الحمد للہ۔
بھابھیوں کو میکے جانا ہے، لین دین کرنا ہے، بچوں کی کوئی خوشی ہے، ان سب میں رکھ رکھاؤ کا خیال رکھا گیا ہے۔ امی کا چھوٹے چھوٹے پوتے پوتیوں کو کھانا کھلانے کی ذمہ داری سنبھال لینا ہی بہوؤں کے لئے مدد ہو جاتا۔ بچے پیدا ہونے پر بھابیوں کا خوب خیال رکھا جاتا۔ میری بھتیجی پیدا ہوئی تو ابھی میری شادی نہ ہوئی تھی۔ میں مزیدار بھنا ہوا قیمہ اور دیسی گھی کا پراٹھا دیکھ کر للچاتی لیکن وہ بھابھی کے لئے خاص طور پر بنایا جاتا تھا۔ بھائی بھابھیاں جب کہیں باہر گھومنے جانا ہو، جاتے ہیں۔ کبھی امی ساتھ ہو لیتی ہیں، کبھی وہ اکیلے چلے جاتے ہیں۔ یعنی ایسا بھی نہیں کہ گھر کے بزرگوں کو کوئی لفٹ ہی نہ ہو، نہ ایسا ہے کہ نئے لپلز کو سانس لینے کی گنجائش نہ دی جائے۔ جب گھر کے بڑے انصاف کا معاملہ رکھتے ہیں تو وہی چیز پورے گھرانے میں نظر آتی ہے۔ میری بھابیوں نے بھی گھر کے مزاج اور طور طریقوں کو اپنایا ہے۔
بڑی بھابھی بیاہ کر آئی تو اسے دیسی گھی کی سمیل آیا کرتی۔ چھوٹی بیاہ کر آئی تو اسے گوشت کھانا پسند نہ تھا، حلوے اور میٹھے پسند نہ تھے۔ پہننے اوڑھنے کا انداز اپنا اپنا تھا۔ دونوں نے چھوٹی چھوٹی ان سب چیزوں کو خوش دلی سے قبول کیا ہے۔ یقینا” بہت جگہ دل مارا ہو گا، کہیں ان بن بھی ہوئی ہو گی، لیکن دو فیملیز کے بچے ساتھ بڑے ہو رہے ہوں اور بچے ایک دوسرے سے محبت اور دوستی کا رشتہ بنا کے رکھیں، اس میں ماؤں سے زیادہ کسی کا عمل دخل نہیں۔ بھائی اور ابو تو سب مردوں کی طرح دن کا بیشتر حصہ گھر سے باہر گزارتے ہیں۔ خواتین ہی ہیں جنہوں نے بہترین طریقے سے رشتے نبھائے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ میری بھابھیاں خاندان بھر کی پسندیدہ بہوئیں ہیں، بالکل جیسے امی گاؤں بھر کی پسندیدہ بہو تھیں۔ بھابھیاں سب سے خوش دلی سے ملتی ہیں۔ مسکراتے چہروں سے آئے گئے کی خاطر کرتی ہیں۔ میں جاؤں، مجھے اس قدر محبت سے رکھتی ہیں کہ بار بار تشکر دل سے نکلتا ہے۔ پہلے دن سے آج تک دونوں بھابیوں کی یہی روٹین ہے کہ اپنے کمرے گھر کی بالائی منزل پر ہونے کے باوجود پورا دن گھر والوں کیساتھ نیچے ایک جگہ پائی جاتی ہیں۔ کچھ وقت اپنی سپیس میں، اپنے بچوں کیساتھ گزارتی ہیں، پھر دوبارہ شام میں نیچے آ جاتی ہیں۔
بارہا دیکھا ہے کہ اگر ایک فریق اچھا ہو تو دوسرے اسکے اچھے ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جلد ہی اچھے انسان کا بھی اچھائی سے دل اچاٹ ہو جاتا ہے۔ ایک گھر میں رہنے والے ایک دوسرے سے نفرتوں کا کھیل کھیلتے ہیں، اور یہ چیز نسلوں تک منتقل ہوتی ہے۔گھر انصاف سے چلتے ہیں۔ گھر خلوص سے چلتے ہیں، قربانی سے چلتے ہیں، اور اس قربانی کی قدر کرنے سے چلتے ہیں۔
ما شا اللہ لا قوة الا باللہ!

اپنا تبصرہ بھیجیں