وبا بنی رحمت – رملہ کامران




” وزیر اعظم کی جانب سے اعلان کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے پیشِ نظر دو دن بعد فیصلے کا اعلان ہو گا . جب تک کے لئے تمام تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند ”
ٹی وی اینکر گلا پھاڑ پھاڑ کر لوگوں کو مخصوص انداز میں یہ خبر سنا رہے تھے۔”مزہ ہی آگیا پھر تو، میرا کل اتنا مشکل ٹیسٹ تھا چلو شکر وہ تو نہیں ہوگا” سائرہ اس خبر کو سننے کے بعد بے حد خوش دکھائی دے رہی تھی۔”میری بھی کل تقاریری مقابلہ کی فائنل سلیکشن ہونی تھی اور میری تیاری بھی نہیں تھی اب تو شکر دو دن اور مل گئے”ساتھ بیٹھی ماریہ بھی اس خبر کو سننے کے بعد بہت خوشی سے بولی ۔ ٹی وی پر اب مختلف اشتہار چلنا شروع ہو گئے تھے ایسے میں علی کمرے میں داخل ہوا۔”اسی لئے میں تو اب اپنا پروجیکٹ مکمل نہیں کر رہا ۔ ۔” وہ فیصلہ کن لہجے میں بولا۔۔ یقیناً اس نے سائرہ اور ماریہ کی باتیں دروازے کے پیچھے سے ہی سن لیں تھیں ۔ ۔ اسی لمحے ابو بھی کمرے میں آگئے ۔” کیا ہو رہا ہے اتنا خوش کس بات پہ ہو رہے ہو تم لوگ” خلاف معمول آج عمر صاحب ان سب کو ضرورت سے زیادہ خوش دیکھ کر حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکے ۔ ۔
” بابا، کل اور پرسوں چھٹی ہے، ابھی ہم نے ٹی وی پر یہ خبر سنی ہے” ماریہ کسی اور کے بولنے سے پہلے بول اٹھی ۔” اور ویسے بھی بابا، دیکھئیے گا یہ چھٹیاں مزید بڑھ جائیں گیں” سائرہ چیلنجنگ انداز میں بولی ۔ ۔ ” اف وہ ابھی تو شاپنگ بھی اسٹارٹ کرنی تھی اور گروثری بھی ختم ہو گئی ہے وہ بھی لینی ہے” امی پتہ نہیں کب کمرے میں آگئیں تھیں ۔ ” ارے عید کی شاپنگ کو تو چھوڑو، ہاں تم ایسا کرو ڈرائیور کے ساتھ جا کے اس مہینے کی اور اگلے مہینے کی بھی گروثری لے آؤ ۔ ۔ ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ چھٹیاں مزید بڑھ جائیں” یہ کہ کر ابو اپنے کمرے میں چل دئیے ۔ عام طور پر ان کے گھر میں عید کی شاپنگ رمضان سے ایک دو مہینے پہلے ہی ہو جاتی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ناشتے کے بعد جب ابو نے ٹی وی پر خبریں دیکھیں تو سن رہ گئے کیونکہ کرونا وائرس پوری دنیا میں تیزی سے پھیلنے لگا تھا لیکن پاکستان میں ابھی بھی اس بارے میں کوئی اعلان نہیں ہوا تھا ۔
“چلیں چھوڑیں بابا ویسے بھی آج ہم تینوں نے مل کر ایک پلان بنایا ہے ۔ ۔ آج رات کو ایک نئی مووی آرہی ہے اور اسے دیکھنے ہم سینیما جائیں گیں ساتھ میں ڈنر بھی ہم ریسٹورنٹ میں کریں گیں” ایک دم ماریہ نے ابو کی باتوں سے بیزار ہو کر کہ ڈالا کیوں کہ ابو جب سے آئے تھے امی کے ساتھ بیٹھے کرونا وائرس کی باتیں ہی کئے جا رہے تھے ۔ ۔ اسی وقت سائرہ اور علی کمرے میں داخل ہوئے اور ابو کے برابر میں بیٹھ کر ماریہ کی بات کی تائید کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ” لگتا ہے تم تینوں نے پہلے سے ہی کچھ پلان کر رکھا ہے تو چلو پھر رات کو تیاری کرکے رکھنا آج چل ہی لیتے ہیں” ماریہ ان تینوں میں سب سے بڑی تھی اسی لئیے ماریہ کی بات سن کر ابو فورا راضی ہو گئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
فضا میں ہر طرف خاموشی پھیلی ہوئی تھی ۔ ۔ ہر کوئی اپنے اپنے گھروں میں نیند کے مزے لے رہا تھا ۔ ۔ ایسے میں ایک گھر کے اندر روشنی نظر آرہی تھی .
اس کے اندر ایک کمرے میں آئنے کے سامنے کھڑی ماریہ اپنے لمبے بال آگے کئے آنکھوں پہ آئلائنر لگا رہی تھی پھر اس نے ایک نظر اپنے آپ کو آئینے میں دیکھا اور پھر جلدی سے دروازے کی طرف مڑ گئی کیونکہ یہ تیسری یا چوتھی بار اس کے ابو ہارن دے رہے تھے۔ یہ دو دن بعد کی بات ہے۔ ۔ کہ شام کو سب گھر والے اکھٹے ٹی وی کے سامنے بیٹھے خبر سننے کے منتظر تھے ۔ ۔ امی نے بھی گرما گرم چائے اور ساتھ میں اسنیکس ٹیبل پر رکھے اور سب کے ساتھ آکے بیٹھ گئیں ۔ اتنی بے تابی سے انتظار تو سب ایسے کر رہے تھے جیسے کسی ڈرامے کا پرومو دیکھنے کے بعد اسکی پہلی قسط کے منتظر ہوں ۔ خیر تھوڑی دیر بعد جب خبر آئی تو سب کے چہروں سے ایک لمحے کے لئے مسکراہٹ غائب ہو گئی ۔ خاص طور پر بچوں کے کیونکہ انکو لگ رہا تھا کہ چھٹیاں مزید بڑھنے والی ہیں مگر ایسا نہیں ہوا ۔ البتہ ان پر ایک نئی مصیبت ضرور آن پڑی ۔
حیرت کی بات تو یہ تھی کہ اس بار بچوں سمیت امی ابو بھی بے حد پریشان تھے ۔ ۔ خبر کچھ یوں تھی ۔ ۔ ” تمام تعلیمی اداروے معمول کے مطابق چلیں گے، احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں گیں لیکن حجاب کا خاص خیال رکھا جائے گا اور نماز کے اوقات میں تمام مارکیٹز بند کر دی جائیں گی ۔ ۔ اس وائرس کے علاج کے لیے کام جاری ہے گا البتہ اس عرصہ میں تمام تفریحی مقامات پر مکمل پابندی ہو گی ۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنی زندگی کا انحصار مکمل طور پر حکومت پر نہ کریں بلکہ خود بھی اپنی صحت کی حفاظت کو یقینی بنائیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پاکستان نیوز اینکر، جی تو آخر تک ہمارے ساتھ رہئیے گا ۔ ۔ ملتے ہیں بریک کے بعد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔” “اف کیا مسئلہ ہے یہ نئے اصول کہاں سے آگئے ۔ ۔ میں تو کوئی سکارف وسکارف نہیں پہنوں گی ۔ ۔ مجھ سے نہیں پہنی جاتیں یہ چیزیں ۔ ۔ میں نے آج تک ڈوپٹہ تو سر پر لیا نہیں ۔ ۔ ۔ اب کیا پورا اسکارف پہن لوں ۔ ۔ ۔ ؟؟؟؟ ”
امی فکر مند لہجے میں بولیں ۔”ہاں بھئی امی، میں تو ابھی بہت چھوٹی ہوں، میں کیسے لوں گی اسکارف سر پہ، میں تو جاؤں گی ہی نہیں اسکول “ماریہ بھی ایک دم غصے میں آگئی تھی ۔ ۔ “مجھے پتہ ہے بیٹا، مجھے بھی یہ سارے کام بہت مشکل لگتے ہیں لیکن کیا کریں، کیا گھر بیٹھ جائیں، جانا تو پڑے گا نہ” ابو نے بچوں کو سمجھانے کی کوشش کی ۔ ۔ ۔ تھوڑی سی پس و پیش کے بعد بچوں کو ماننا ہی پڑا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
پورے ملک میں بھی لوگوں کو اس فیصلے پر راضی کرنے کے لئیے بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس خبر کو آئے ہوئے ایک ہفتے سے زیادہ ہو گیا تھا ۔ آہستہ آہستہ بچے اور بچے اور بڑے سب اس ماحول کے عادی ہونے لگے تھے ۔ چوری، ڈکیتی کی روک تھام کے لیے بھی بہت سے اقدامات ہوئے تھے اور انکے نتائج اچھے آنے کی وجہ سے عوام بھی مطمئین تھی ۔ ۔ ۔ ۔
کمرے میں ٹیلی ویژن کے پاس بیٹھے ابو اپنے غیر ملکی دوست (جن سے ملاقات ایک دو مہینے پہلے ہی ہوئی تھی) اور اب جو انکے بہت گہرے دوست بن گئے تھے ۔ ان سے بات کرنے میں مصروف تھے ۔ ” اور سناؤ کیا حالات چل رہے ہیں تمھارے یہاں؟؟ ” سلام دعا کے بعد ابو نے ملک کے حالات کے بارے میں جاننا چاہا ۔ ابو نے تو سرسری انداز میں پوچھا تھا لیکن وہ تو جیسے تیار بیٹھے تھے اپنی پورے داستان سنانا شروع ہو گئے ۔ ” بس یار کیا بتاؤں، یہاں تو بہت ہی برا حال ہے ایک دن میں کوئی پچیس ہزار لوگ مر رہے ہیں مگر حکومت کو کوئی ہوش ہی نہیں ہے۔ سب ہی عجیب سی مشکل سے دوچار ہیں ۔ ۔ لوک ڈاؤن دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ حکومت کے پاس بھی اس کام کو کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ۔ ۔ خیر چھوڑو، میں تو پتہ نہیں کیا کیا لے کہ بیٹھ گیا ۔ ۔” “شکر تمہیں خود ہی سمجھ آگیا ۔ ۔” ابو نے صرف سوچا بولے کچھ نہیں ۔ ۔” خیر تم بتاؤ تمہارے ہاں کیسے حالات ہیں ۔ ۔؟؟
دوسری طرف اس نے بات بدلتے ہوئے عمر صاحب سے ہی پوچھا ۔ ۔ ” یہاں پر تو کچھ بھی نہیں ہوا ۔ ۔ زیادہ کیس بھی نہیں ہیں اور ہمارا کام بھی جاری ہے، خیر چلو میں فون رکھتا ہوں کل صبح جلدی آفس جانا ہے” یہ بول کر ابو نے انکا جواب سنے بغیر ہی فون رکھ دیا اور پھر سونے کے لئیے لیٹ گئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’ تمام ممالک کرونا وائرس کی شدید لپیٹ میں مسلم ممالک کے یکدم اتحاد پر مغربی ممالک بے حد مایوس اور مشکلات سے دوچار ‘‘ ایک طرف رکھے ٹی وی پر خبریں چل رہی تھیں جبکہ سامنے صوفے پر بیٹھے ابو غور سے ان خبروں کو سن رہے تھے ۔ اسی اثناء میں اذان کی آواز آنے لگی تو ابو نے جلدی سے ریموٹ کا بٹن دبا کے ٹی وی بند کیا اور وضو کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔”ماما، ماما، میرا اسکارف یہیں پہ رکھا تھا کدھر چلا گیا ۔ ۔ ؟؟ ”
ماریہ نے ادھر ادھر بے چینی سے نظریں دوڑاتے ہوئے امی سے پوچھا ۔”بیٹا وہ میں نے فائزہ کو دھونے کے لئے دے دیا تھا(فائزہ انکی پرانی نوکرانی تھی جو انکے لئیے عرصے سے کام کر رہی تھی) ۔ ۔ ۔ تم دوسرا نیا اسکارف نکال کہ پہن لو” امی پرسکون انداز میں کہتیں خود بھی نماز پڑھنے کے لیے اپنے کمرے جانب بڑھ گئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں