گزرے دنوں کی بےمثال داستان – ام عبداللہ




وطن عزیزکی خاطر ہمارے بزرگوں نے اپنا سب کچھ لٹا دیا اپنے مال ، اولاد ، ماں باپ ، بھائی بہن ، نئی نویلے اور برسوں ساتھ نبھانے والے محبت کرنے والے ازدواجی رشتے …….. ان بزرگوں کی قربانی کی داستانوں سے تاریخ بھری پڑی ہے ۔ ایسی ہی ایک بےمثال داستان میری نانی کی بھی ہے جنہوں نے اپنی نظروں کے سامنے اپنے عزیزوں اور اپنی نئی نویلی شادی شدہ زندگی کے ہمسفر کی شہادت دیکھی
آہ!کیا گزری ہوگی ان کے دل پر …….. چلیں میں اپکو نانی کی آپ بیتی انکی اپنی زبانی پیش کرتی ہوں ۔ کس طرح دکھی دل کے ساتھ نانی پاکستان پہنچیں اور پھر ان کی دوسری شادی میرے نانا سے طے پائی ۔ یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب ہندو مسلم سب ایک ہی علاقے اور گلی محلے میں مل جل کر رہتے تھے۔ اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں بھی شریک ہوتے تھے۔ ان ہی دنوں میرا رشتہ طے ہوگیا اور گھر میں شادی کی سیدھی سادی تیاریاں شروع ہوگئی ۔ اور میں بیاہ کر سسرال آ گئی ۔ شادی کے شروع میں ہی دو قومی نظریہ اور اور ایک الگ وطن کی تحریک چل پڑی اور ہندو مسلم فسادات شروع ہوگئے ۔ وہی ہندو برادری جو ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے۔مسلمانوں اور انکی بہن، بیٹیوں کی عزت و جان کے پیاسے ہوگئے۔ میرے شوہر ، سسر، دیور نے تحریک آزادی میں بھرپور حصہ لیا ۔ اللہ رب العالمین کی رحمت اور مسلمانوں کی انتھک محنت سے آخر کار پاکستان کی آزادی کا پروانہ ملا۔
جب ہندؤں کو خبر ہوئی تو وہ ڈنڈے ،چھڑے ۔چاقو سے لیس مسلمانوں کے گھر گھر حملے کرنے لگے باپ بھائیوں کو شہید کرکے ماں ، بہنوں اور بیٹیوں اٹھاکر لے جاتے اور ان کی آبرو ریزی کرتے . آہ …..!پاکستان کی آزادی کا پروانہ سنتے ہی میرے سسر نے ہمیں ہجرت کے لئے ضروری سامان باندھنے کو کہا گھر کہ باقی لوگ پہلے ہی نکل چکے تھے ۔وہ سب میرے میکے والوں کے ساتھ پاکستان جانے والے قافلے کے ساتھ ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ میں اور میری ساس سامان باندھ ہی رہے تھے کہ باہر سے آوازیں سنائی دیں۔۔ایک کو نہ چھوڑنا سب کو کچل ڈالو۔مار ڈالو۔۔ازادی چاہتے ہیں۔ازاد کردو ہمیشہ ژندگی سے۔۔۔۔ ہمارے گھر کا دروازے پیٹنے لگے بلکہ توڑنے لگے۔میرے سسر کو میری فکر ہوئی کے جوان بچی کی عزت کو محفوظ کرنا چاہے ہماری جان چلی جائے۔ انھوں نے مجھ سے کہا بیٹی تم باورچی خانے کے اوپرمچان میں جاکر چھپ جاؤ اور چاہے کچھ بھی ہو جائے۔
یہ کافر ہماری بوٹی بوٹی بھی کردے تجھے نیچے نہیں آنا۔ہمیں اپنی جان سے زیادہ تیری عزت پیاری ہے۔میں تو رونا شروع ہوگئی۔وقت کم تھا۔میری ساس گھسیٹتے ہوئے مجھے مچان پر چڑھایامیرے تو خوف کے مارے قدم بھی نہیں اٹھ رہے تھے۔دروازہ توڑتے ہوئے وہ سب اندر گھس آئے۔ہائے کتنا دلخراش منظر تھا وہ آج بھی سوچتی ہوں تو خوف اور دکھ سے دل بھر آتا ہے۔ایک ایک کرکے وہ میری نظروں کے سامنےسب کو بےدردی سے شہید کررہے تھے میرے شوہر کو مجھ سے چھین رہے تھے ہے درپے چاقو کے وار اہ۔۔۔ میں کتنی بےکس اور مجبور تھی۔میں انکا دفاع بھی نہیں کرسکتی تھی۔ان ظالموں نے دیکھتے ہی دیکھتے سب ختم کردیا اور گھر کا سارا قیمتی سامان لے کر اور بھی بہت سے گھروں کو برباد کرنے نکل گئے۔ میرے حلق میں توجیسے آواز پھنس گئی۔اور وجود بکھر گیا ہو۔۔
خود کو سنبھالتے ہوئے مچان سے نیچے آئی۔اپنے شوہر سمیت سب کو دیکھا آنسو تھے کہ رک ہی نہیں رہے تھے۔ہمت کرکے سب کی سانسیں چیک کرنے لگی اس امیدکہ ساتھ شاید کوئی تو زندہ ہوگا۔میرے شوہر کو دیکھ کر گزرے دنوں کی یاد آئی۔وہ خوشیوں بھرے دن اور مستقبل کی پلاننگ آہ۔۔۔کچھ باقی نہ رہا۔ جب میں اپنی ساس کی طرف گئی تو انکے پیٹ میں بڑی بےدردی سے چاقو کے وار کیے گئے تھے جس سے انکی آنتیں باہر آگئیں تھی۔اور جب میں انکے قریب گئی تو انکی سانسیں چل رہی تھی۔میں نے انکو پکارا تو انہوں نے اپنی آنکھیں بھی کھولی۔مجھے امید کی کرن نظر آئ ۔میں نے ہمت کی انکی باہر نکلی آنتوں کو پھر سے پیٹ میں ڈالا اور ڈوپٹہ سے پیٹ باندھ دیا۔انہں پانی پلایا تو اللہ کے کرم سے وہ ہوش میں بھی اکئی۔واہ میرے مولا تیری شان۔
ہوش میں اکائی تو کہنے لگی بیٹی تو یہاں کیا کر رہی ہے جا بھاگ جا ورنہ یہ درندے تجھے برباد کر دینگے۔ میں نے کہا کچھ بھی ہو میں آپ کو ساتھ لے کر ہی جاؤں گی۔اپ تھوڑی سی ہمت کریں۔اور میری ضد کی وجہ سے انہوں ہمت کی۔اور اللہ کی مہربانی وکرم سے ایک مسلمان مدد کی صورت میں مل گیا۔اور ہم بچتے بچاتے اللہ کی مددسےان مہاجروں کے قافلے تک پہنچ گئے۔جہاں میرے باقی عزیزوں اقارب ہمارے منتظر تھے۔اپنے عزیزوں کی شہادت پر سب نے بہت صبر سے کام لیا۔ اور سفر کی مشکلات جان ہتھیلی پر رکھ کر پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہوئےاورہجرت کے بعد میری ساس کافی سال زندہ رہیں واقعی یہ انکی صبر کا پھل تھا کی انہوں نے بڑی صبر کے ساتھ تکلیف کو برداشت کرتے ہوئے ہندوستان سے پاکستان کا سفر طے کیا۔ پاکستان کی سرزمین پر اپنے وطن کے اپنے پن کو محسوس کیا۔اسکی کامیابی وترقی کی ڈھیروں دعائیں کی ۔اور اللہ نے قسمت میں دوسری شادی لکھی تھی۔گھر بسایا اولاد کی نعمت عطا کی ہوتے پوتیاں،نواسے نواسیاں بھی دیکھی۔ اللہ کسی کی بھی جائز قربانی رائگاں نہیں جانے دیتا۔مجھے بھی میرے صبر کا پھل ملا ان بےشمار نعمتوں کی صورت میں۔۔۔۔۔
یہ تھی میری پیاری نانی جان کی آپ بیتی۔
اس داستان میں ہمارے بزرگوں کی کتنی عظیم قربانیاں ہیں۔ہےنا!مگر افسوس ہمیں انکی کوئی پرواہ نہیں۔اج کی نئ نسل کو آزادی تھالی میں رکھ کر دی گئی ہے۔اسلئے اس آزادی کو حاصل کرنے میں کتنی قربانیاں دیں۔کیا کیا دعائیں مانگی گئیں۔اسکے پرچم کی سر بلندی کے لئے اپنے سر قلم کئے گئے۔ان سب باتوں سے انہیں کوئی غرض نہیں۔ہر سال میں ایک دن 14 اگست کو ہی اس سے محبت جاگتی ہے۔اسکے پرچم سے اور جھنڈیاں گھر میں سجاکر وطن سے محبت کا دکھاوا کرتے ہیں بعد میں یہی پرچم اور جھنڈیاں جس کی سربلندی کی خاطر ہمارے بزرگوں نے اپنے سر قلم کردیے۔پیروں تلے روندے جاتے ہیں۔کچھ دن پہلے میں نے دیکھا کہ کچھ بچے جھنڈیوں سے تاش کھیلتے ہوئے نظر آئے تو کچھ بچے اسے لٹا رہے ہیں۔یہ منظر دیکھ کر افسوس کے ساتھ ساتھ آج کے بچوں کی اس حوالے سے تربیت میں کمی بھی نظر آئ۔
ہمارے بچپن میں ہم ایک بھی جھنڈی کو گرنے سے بچانے کیلئے دوڑ پڑتے تھے۔اور 14 اگست گزرنے کے بعد ان جھنڈیوں کو بڑے احترام سے ایک تھیلے میں قرآن مجید کے اوراق کی طرح سنبھالتے تھے۔
ہمیں اپنے بچوں کی اس حوالےسے سنجیدگی کے ساتھ تربیت کرنا ہوگی انھیں بزرگوں کی قربانیوں کی داستانیں سنانا ہوگی۔ان میں اسلام اور وطن سے محبت کو اجاگر کرنے کے لئے صرف ایک دن نہیں بلکہ آخری سانس تک قربانی ، احترام کو اجاگر کرنا ہے۔ اور ہاں اگر جھنڈیاں سجانے کے بعد سنبھالنا مشکل ہے تو صرف پرچم لگائیں اور کسی نے کیا خوب کہا ہے۔ہمارا پرچم سبز ہے توسبزہ اگائیں ۔ پاکستان کو ہمیشہ ہرا بھرا رکھیں۔اسکی شان اور خوبصورتی بڑھایں۔
پاکستان زندہ باد

اپنا تبصرہ بھیجیں