وطن کی مٹی گواہ رہنا – عرفہ کامران




گرمیوں کی تپتی دوپہر اور سونے پر سہاگہ ماسی صاحبہ غائب۔ابھی سارے گھر کی صفائ کرکے ذرا دیر کو کمر ٹکانے کے ارادے سے لیٹی ہی تھیں کہ دروازے کی گھنٹی نے گویا صوراسرافیل پھونک دی۔جب تین بار گھنٹی بجانے کے بعد بھی آنے والے نے ان کا صبر آزمانے کی ٹھان لی تو چاروناچار وہ بھی آنے والے کی ہمت کو داد دیتے ہوئے پیروں میں چپل اڑس کر دروازے کی جانب چل دیں.
اس سے پہلے کہ آنے والے کا ضبط جواب دے جائے اور خواہ مخواہ معصوم دروازہ اس کے بے صبرے پن کا شکار ہو جائے۔لکڑی کے نازک دروازے کے زیر عتاب آنے کے ڈر سے انہوں نے بلا سوچے سمجھے پٹ سے دروازہ کھول دیا۔ وائے حیرت ۔۔۔دروازہ کھلتے ہی جو منظر نگاہوں کے سامنے تھا وہ کم از کم ان کیلئے تو کسی خواب سے کم نہ تھا۔بعید نہیں تھی کہ وہ یہ خوشی زیادہ دیر سہار نہ پاتیں اور ان کے اعصاب جواب دے جاتے کہ ایک اونچے لمبے مرد نے جلدی سے آگے بڑھ کر ان کے نحیف جسم کو اپنے مضبوط بازوؤں میں تھام لیا۔تحیر کی دنیا سے حقیقت کی دنیا میں سفر کرنے میں انہیں زیادہ لمحات نہیں لگے اور آنگھوں کی حیرت خوشی میں اور جلد ہی آنسوؤں کی صورت رواں ہو گئ۔بیٹے نے بڑی دلچسپی سے اپنی ماں کی آنکھوں میں دھوپ چھاؤں کا یہ منظر دیکھا اور فرط جذبات سے ماں سے لپٹ گیا۔بیٹے کا لمس محسوس کرتے ہی مینہ چھاجوں چھاج برسنے لگی۔
اکلوتا لخت جگر اور وہ بھی گزشتہ تین سالوں سے بچھڑا ہوا اس پر ستم یہ کہ نہ کوئ اتا نہ پتہ۔تشنہ ماں کیوں کر نہ دلگرفتہ ہو۔خیریت کی کوئ اڑتی پڑتی خبر ہی معلوم ہو جاتی جو مامتا کی دید کی ترسی نگاہوں میں امید کے دیے روشن کر دیتی۔اپنے عزیزوں کے سنگ نرم گرم بستر میں خوابیدہ لوگ ایک ماں کی بے کلی کیا جانیں جس کا بیٹا اپنے آشیانے ،اپنی ماں کی آغوش سے کوسوں دور اپنا آرام و سکون تیاگ کر ان بے خبر لوگوں کے آرام و سکون کو محفوظ بنانے میں سرگرداں ہو۔
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارےہیں جوواجب بھی نہیں تھے
بالآخر جب مامتا اچھی طرح سیراب ہوگئ تو انہیں بیٹے کی بھوک کا خیال آیا۔بیٹے کی آمد نے تو گویا ان کے اندر زندگی کی نئ رمق دوڑا دی تھی۔ساٹھ سالہ بوڑھے ہاتھوں نے گھنٹہ بھر میں محبت سے بنا کھانا دسترخوان پر سجا دیا اور بیٹا ماں کی پھرتی دیکھ کر مسکرائے بنا نہ رہ سکا۔نہایت ہی خوشگوار فضا میں ملکی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کھانا کھایا گیا۔ماں کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ساری مامتا آج ہی بیٹے پر لٹا دیں۔ غرض کہ وہی دن جو کاٹے نہ کٹتا تھا آج پلک جھپکتے میں گزر گیا اور جلد ہی رات کی تاریکی نے اپنی چادر تان لی۔بیٹے کو کمرے کی جانب روانہ کر کے خود وضو کر کے شکرانے کے نفل پڑھنے چل دیں کہ رب کا شکر بھی تو بجا لانا تھا نہ کہ جس نے انکی دعاؤں کو شرف قبولیت بخشی اور مدتوں بعد یہ دن دیکھنا نصیب کیا۔ نوافل پڑھ کر فارغ ہی ہوئ تھیں کہ خیال آیا کہ سونے سے پہلے ذرا جا کر بیٹے پر ایک نظر ڈال آئیں۔ابھی کمرے کے قریب پہنچ کر دروازے کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ بڑھا ہوا ہاتھ ہوا ہی میں معلق رہ گیا۔
“جی سر!نہیں سر کوئ مسئلہ نہیں،میں ابھی بس یہاں سے روانہ ہوتا ہوں انشاءاللہ فجر تک پہنچ جاؤں گا۔” اندر سے آتی بیٹے کی آواز نے انکے اندر سے گویا روح کھینچ لی تھی۔ “یا اللہ!یہ کیسا امتحان ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا؟ابھی چند لمحات پہلے تو لگا تھا کہ میرا انتظار تمام ہوا ،تُو نے پھر سے ساری خوشیاں گویا میری جھولی میں ڈال دیں مگر۔۔۔” بیٹا عجلت میں یہ سوچتے کہ ابھی ماں کو سنبھالنے کا مشکل مرحلہ بھی طے کرنا ہے،سامان اٹھائے باہر نکلا تو باہر ساکت کھڑی ماں کو دیکھ کر چونک گیا۔ماں کی حالت سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ سب کچھ جان چکی ہیں۔اس نے نرمی سے ماں کو شانوں سے تھاما اور محبت سے ان کے آنسو صاف کرنے لگا۔وہ جانتا تھا کہ یہ لمحہ صبر آزما ہے بلکہ اس کیلئے خود یہ مرحلہ کٹھن تھا۔اپنے ضبط کو آزماتا ہوا ماں کو دلاسہ دینے لگا۔ماں نے جو بیٹے کی پلکوں پر رقم تحریر پڑھی تو لمحے بھر میں اپنے آپ کو سنبھالا اور بڑی دقتوں سے چہرے پر مسکراہٹ سجا لی۔ ماں بیٹا جانتے تھے کہ اب ہجر کی گھڑی آپہنچی ہے اور نا جانے اس زندگی میں دوبارہ وصال ممکن ہوگا یا نہیں۔اگر کوئ اس وقت بیٹے کو اپنے ہاتھوں سے موت کے آغوش میں دینے والی اس ماں کو دیکھ لیتا تو اس ماں کے حوصلے کو داد دئے بغیر نہ رہ سکتا۔
اے وطن تُو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا
تیرے بیٹے تیرے جانباز چلے آتے ہیں
آہ ………! ناجانے اس وطن کو اور کتنے ماؤں کے لال درکار ہیں؟ناجانے کتنی ماؤں کو ہجر کی اس گھڑی کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟نا جانے کتنے پرندوں کو اپنے آشیانے چھوڑنے پڑتے ہیں؟ناجانے کب اس قوم کے دل ان ماں بیٹوں کی محبت میں دھڑکیں گے؟ناجانے کب اس قوم کے لوگوں کو اپنے فرائض کا احساس ہوگا اور وہ اپنے حصے کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھانے کی تگ و دو کریں گے تاکہ اس ملک کے محافظوں کو ان کی محنت وصول ہو سکے؟ وطن کی مٹی گواہ رہنا۔۔۔۔۔۔ایک ماں بیٹے نے آج اپنا قرض اتار دیا۔۔۔ ناجانے اگلی باری اب کس ماں بیٹے کی ہے؟؟؟؟؟

اپنا تبصرہ بھیجیں