وطن کی مٹی گواہ رہنا – ایمانِ فاطمہ




پاکستان بننے کا اعلان ہوچکا تھا اور وطن کی محبت اور آزادی کی خواہفش لیے لوگ جوق در جوق پاکستان ہجرت کرنے نکل پڑے تھے . ہم بھی اپنا سفر پیدل طے کرتے ہوئے آرام کی غرض سے ایک پتھر کی آڑ میں چھپ کر بیٹھ گئے . زوروں کی پیاس اب حلق سُکھا رہی تھی اور ساتھ ہی سِکھوں کے ہاتھ لگ کر اذیت ناک موت کا سوچ کر ہی دل دہل رہا تھا اور اب تو چل چل کر بھی پاؤوں میں آبلے پڑ گںٔے تھے.
لیکن اِن سب کے باوجود ہمارا عزم و حوصلہ اور وطن کی مٹی چومنے کا ولولہ ذرہ برابر بھی کم نہ ہونے پایا تھا اور تو اور بھیٔا بھی بارہا ہماری ہمت یہ کہہ کر بندھاتے کہ ہمیں کوںٔی بھی دشمن قوتیں آزادی کی حق سے محروم نہیں کرسکتیں اگر کسی نے اس ہماری راہ میں رکاوٹ حائل کی تو ہم کلمۂ توحید کے نام پر آزادی حاصل کریں گے اور ہمارا ہتھیار ہماری ایمانِ قوت ہو گی کہ جس کی دھار تلوار سے بھی کئی گناہ تیز ہوگی ……. اور اکثر بھیٔا کے لبوں پر یہ شعر ہوتا تھا
ہے جرم اگر وطن کی مٹی سے محبت
یہ جرم سدا میرے حسابوں میں رہے گا
بھیا پانی کی تلاش میں نکلنے ہی والے تھے کہ اچانک پتھر کے اُس پار سے سِکھوں کی گاڑی آتی دکھائی دی …… ہم خوف کے مرے تھر تھر کانپنے لگے۔ ہم نے اپنے ہاتھوں کو منہ پر اس طرح رکھا ہوا تھا کہ ڈر سے ہماری سسکیوں کی آواز نہ نکلے.. لیکن وہ لوگ اپنی گاڑی سے لاشوں کے انبار کو کچرے کی مانند زمین پر پھینک کر چل دیے . اُن مظلوم اور معصوم لوگوں کی لاشیں دِکھنے میں کسی امیر گھرانے سے تعلق کی خبر دے رہی تھیں ۔ لیکن افسوس کہ آزادی کی چاہ اور وطن کی محبت نہ امیری دیکھتی ہے نہ غریبی.. اُن خون آلود شہدا کی لاشیں چیخ چیخ کر یہ باور کروارہی تھیں کہ وطن کی مٹی اللّٰہ کے سامنے گواہ رہنا کہ ہم نے اسلامی ملک کی تشکیل کی خاطر اپنی عزت و آبرو،جان اور مال سب پسِ پشت ڈال کر قربان کر دیے . ایسے بہت سے دل دہلا دینے والے مناظر پیچھے ہماری آنکھیں دیکھ چکی تھیں . جن کی ہیبت نے اب بھی قلب کو بے سکون ، دھڑکنوں کو بے ترتیب اور دماغ کو خوف کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا .
ہم نے ایک دوسرے کو دیکھ کر اپنی منزل کی جانب قدم بڑھا دیے جیسے دل ہی دل میں اِن عظیم شہدا کے درجوں پر رشک کر رہے ہوں . ہم آگے چلتے رہے اور چلتے چلتے ہمیں ایک کنواں نظر آیا اور ہم وہاں دوڑتے ہوئے پہنچے کیونکہ پیاس سے پورا جسم نڈھال ہو چکا تھا لیکن ایک اور دہشت زدہ منظر ہماری آنکھوں ما منتظر تھا . کنویں کے اندر دو تین لاشیں پانی میں تیر رہی تھیں اور پانی بھی خون کے رنگ میں نہا رہا تھا . جیسے پانی بھی سرخ رنگ سے اظہارِ تعزیت پیش کر رہا ہو اور اپنی سرخی سے اِن مظلوموں پر بیتی ظلم کی داستان بیان کر رہا ہو . ہم ابھی اسی اثنا میں کنویں کے قریب کھڑے تھے کہ اچانک وہی ہوا جس کا ڈر تھا . میں جیسے ہی پیچھے مڑی تو ایک زور دار چیخ میرے منہ سے بے ساختہ نکلی اور سامنے سِکھوں کے 3 4 لوگ ہم پر تلواریں تانے کھڑے تھےاور وہ لمحہ تھا جو ہماری آزادی کی چاہ میں قربانی کا حصہ لینے آیا تھا .
ہمارا پیارا بھائی جو ہمیں بچاتے بچاتے اپنی جان کی بازی لگا گیا اور شہدا کی فہرست میں اپنا نام درج کروا گیا . وہ بھاںٔی جس نے ہمیشہ بہادری کے قصے سنا کر ہمارے حوصلوں کو پَر لگا کر اڑانے پر مجبور کردیا تھا ، آج وہی بھائی ہمت ،عزم اور حوصلے کی خاموش کہانی بن گیا تھا ……… اب ہمارے پاس صرف اپنے بھیٔا کی یادیں ہیں جس کے ساتھ ہم نے ہر صورت آزادی حاصل کرنی ہے.. اور وطن کی مٹی کو گواہ بنانا ہے کہ اے عزیزمٹی تو گواہ رہنا ہم نے اپنا بھائی اس وطن کے نام کردیا . آنے والی تمام نسلوں کو “پاکستان” ایک آزاد ریاست کی حیثیت سے ملے گا اسلیٔے انہیں اپنی تاریخ کو ضرور جاننا چاہیے کہ ایک اسلامی ملک کی بنیاد اپنے قیمتی اثاثوں کو قربان کیے بغیر نہیں بنتی اور وہ قیمتی اثاثہ وہ شہدا ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا .. اب ہر پاکستانی کا یہ فرض ہوگا کہ اِس ملک کو خلافتِ راشدہ کی عملی تصویر بناںٔیں تا کہ یہ ایک شاندار مملکت بن جائے اور اِس ملک کی ہرچیز گواہی دے گی کہ برے وقت میں ہاں تم کھڑے تھے۔۔
لہو میں بھیگے تمام موسم گواہی دیں گیں کہ تم کھڑے تھے
وفا کے رستے کا ہر مسافر گواہی دے گا کہ تم کھڑے تھے
انہیں سوچوں کے ساتھ ہم اپنی آزادی کی راہ کی جانب گامزن ہوتے گئے…

اپنا تبصرہ بھیجیں