کر شکر خدا کا – بنت شیروانی




اسماء کو اپنی دوستوں کی دعوت کرنی تھی ۔ اس کے لۓ اسے مینیو سوچنا تھا ۔ سالن یا شوربہ والے کھانے تو اسے بہت سے ذہن میں آرہے تھے کہ حلیم ، نہاری ، کڑھائی ، ہانڈی ، پاۓ یا اچار گوشت وغیرہ میں سے کچھ بنالے گی ۔
لیکن چاول کی ڈشز میں بریانی ، پلاؤ ، سنگاپورین رائس ، چائنیز رائس وغیرہ ہی میں سے کچھ بنایا جاسکتا تھا ۔ اور بریانی بنانے کے لۓ یہ مسئلہ تھا کہ کبھی اس سے مصالحہ صرف بوٹیوں سے لگا رہ جاتا اور چاولوں میں الگ سے موجود نہ ہوتا تو کبھی قورمہ والی بریانی بن جاتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ! یعنی کہ وہ بریانی ایکسپرٹ نہ تھی ۔ اب اس نے سوچا کہ کب تک وہ اس سے بچے گی کہ دعوتوں میں بریانی نہ بناۓ ! لہٰذا اس نے دعوت میں بریانی بنانے کا سوچا ۔ لیکن اس سے پہلے اس نے اپنے پہلے گھر کے افراد پر تجربہ کرنے کا ارادہ کیا ۔
اور دو دن بعد کافی حد تک اچھی سی بریانی بنا ڈالی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ابھی اس نے دوسرا نوالہ ہی کھایا تھا کہ چاول اس کو “ایسوفیگس (oesophagous)” میں پھنستے ہوۓ محسوس ہوۓ ۔ ہاتھ جو کہ اگلے نوالے کے لۓ بڑھا تھا ۔ اور اس کی انگلیوں پر رائتہ سے چاول چپکے تھے ۔ ان چپکے چاولوں سمیت اپنی جگہ ساکت ہوگیا ۔ آنکھوں میں سے پانی بہنا شروع ہوا ۔ ٹانگوں میں سے جان نکلتی محسوس ہوئی ۔ قریب بیٹھی بیٹی نے پانی اسماء کے ہونٹوں سے لگایا لیکن وہ بھی حلق سے نیچے نہ اتر سکا ۔ اس نے سائنس کی طالبہ ہونے کے ناطے نظام ہاضمہ تو پڑھا تھا !اس کی تصویر بھی اسے بنانی آتی تھی اور اس کی لیبلنگ بھی اسے یاد تھی ۔ لیکن نوالہ کو دانتوں سے چبانے کے بعد حلق سے نیچے اترتے جسم کے وہ اعضاء جو بظاہر نظر نہیں آتے , ان کی اہمیت سے وہ ناواقف تھی۔
اور چاول کے نوالے تو روٹی کے وہ نہ جانے دن میں نہ جانے کتنے کھاتی تھی ۔ اور آرام سے وہ چبا کر انھیں ہضم کر جاتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن زندگی کے ان لمحات میں یہ اعضاء اور ان کا صحیح کام کرنا کتنی بڑی نعمت تھا , اسے یاد دلا رہے تھے۔ لیکن شاید ان لمحات میں تو اسے ان اعضاء کے نام بھی یاد نہ رہے تھے ۔بلکہ اسے کچھ بھی یاد نہ تھا ، نہ ہی اسے اپنے بچوں کی فکر تھی اور نہ ہی وہ موبائل کو چارج کرنا یاد آ رہا تھا کہ جس کی چارجنگ کی اسے بے حد فکر رہتی تھی ۔اسے تو بس اس بریانی کے نوالہ کی نیچے اترنے کی فکر تھی کہ جس کے اترنے میں اتنا درد ہورہا تھا کہ وہ بیٹھے سے کھڑی ہوگئی تھی ۔ وہ پانی بھی حلق سے نیچے نہ اتر رہا تھا ۔ اسی درد کی شدت میں اس نے چھت کی طرف دیکھنا چاہا لیکن وہ یہ بھی کر سکی ۔ نہ جانے وہ کتنے لمحات تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ !!! کتنے منٹ تھے ۔
انھیں تو وہ نہ گن سکی لیکن جیسے ہی وہ نوالہ نیچے اترا تو کھڑے کھڑے ہی اس نے سجدہ شکر ادا کرنے کی کوشش کی اور دُعا مانگی کہ
” یا رب نزع کا عالم سہل اور آسان کرنا ۔ ”
کہ یہ چاول کا ایک نوالہ اسے زندگی کی حقیقت سمجھا گیا تھا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں