کیا عورت کا دل نہیں؟ – سماویہ وحید




یہ افسانہ آج ایسے معاشرے کا حال بیان کرتا ہے ، جس سے ہمارا معاشرہ دوچار ہے . 100 فیصد آبادی میں سے 90 فیصد لوگ ایسے ہیں جو اپنی عاقبت تباہ کر رہے ہیں …. آئیے آج ہم ایسی زندگی کی طرف نظر دوڑاتے ہیں جو ہمارے ارد گرد بہت ترقی کے ساتھ جنم لے رہی ہیں .
——————————–
شادی کو ایک مہینہ ہی گزرا تھا کہ ہر وقت گھر میں لڑائی جھگڑا رہنے لگا . کبھی شوہر کس بات پر لڑتا تو کبھی کس بات پر یعنی کہ ہر چھوٹی بات پر جھگڑتا رہتا . ساس امی کو کہتی تو وہ بھی جلی کٹی سنانے لگ جاتی …. ہمیشہ مجھے ہی قصور وار ٹھیراتی …… میں حرا ، اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی . گھر والوں نے بہت ناز و پیار سے پالا تھا .
باپ اپنی جان فدا کرتا تھا اور ماں ہر وقت صدقے واری جاتی تھی . ماں کے گھر تو زندگی خوشحال تھی کبھی رنج و غم کا احساس نہ ہوا لیکن یہ سب ماں باپ کے گھر تک ہی تھا. شادی ہوئی تو پتہ چلا کہ اصل زندگی کیا ہے. ماں بیچاری دل کی مریضہ تھی. اس لیے اپنے دکھ سکھ اپنے اندر ہی دبا لیتی تھی کہ کہی ماں میری پریشانیوں کہ وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ نہ دھو بیٹھے اور رہی بات باپ کی تو وہ مجھ پر آنچ تک نہیں آنے دیتے تھے. میرے چند الفاظ……اپنے شوہر کے خلاف ساری دنیا ہی اُجاڑ سکتے تھے. اس لیے اپنا گھر بچانے کے لیے کبھی باپ سے شکایت کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی. اللہ اللہ کیسا مشکل وقت تھا……..! اور ہے. ….
“حرا……حرا…..! کہاں ہو؟ جلدی اوپر آؤ…..” فراز مسلسل ایک ہی رٹ لگا رہا تھا جو کہ حرا کے لیے خطرے کا سائرن تھا . بھاگی بھاگی سانس اکھڑتے ہوئے اوپر پہنچی تو ایک زور دار طمانچہ رسید ہوگیا…. (فراز کڑک لہجے میں بولتے ہوئے) . “کدھر تھی……بے شرم……کب سے بُلا رہا ہوں……مجال ہے ایک بھی سنی ہو تم نے…..” وہ فراز میں آرہی تھی امّی کو دوائی دے رہی تھی . ابھی تو دو منٹ بھی نہیں گزرے میں فوراً آگئی ہوں (آنسو ضبط کرتے ہوئے میں نے بس اتنا ہی کہا تھا کہ فراز مزید پھٹ پڑے اور دو طمانچے مزید میرے منہ پر رسید کردیے) بکواس کرتی ہو…..بے غیرت! شوہر کے آگے زبان چلاتی ہو. اپنی اوقات دیکھی ہے تم نے…..پتہ نہیں تمھاری غیرت کہا گئی ہے….ماں باپ نے لگتا ہے کوئی تربیت نہیں کی…..جاہل عورت” (فراز مسلسل انتہائی برے القاب سے مجھے نواز رہا تھا…..اتنا کہتے کہتے باہر نکل گئے نہ اپنا کام بتایا اور نہ ہی کچھ اور….اور میں تنہا کمرے میں نڈھال ہوکر بیٹھ گئی …… آنسو میرے گال کو چھوتے ہوئے میری جھولی کو تر کر رہے تھے ….. کوئی پُرسان حال نہ تھا …..
محفلِ قران سے واپس آئی تو گھر میں عجیب سی گھٹن محسوس ہوئی جو اس دفعہ پہلی بار سے کافی زیادہ تھی…..ایسا لگتا تھا آج زمین پھٹ پڑے گئی اور میں اس میں دفن ہو جاؤں گئی.
“السلام و علیکم! ( اندر آتے ہی میں نے امّی کو سلام کیا…..لیکن یہ کیا آج تو قیامت میرے انتظار میں تھی) امّی غصے بھرے لہجے میں شروع ہوگئی…… ” روز تم دو گھنٹے محفلوں میں گھومنے پھرنے چلی جاتی ہو. گھر کی کوئی خبر ہے تمھیں؟؟؟کوئی مرے یا جئیے تمھیں کوئی پرواہ نہیں …. لاپرواہ لڑکی …. اپنی زندگی میں مگن ہو. شکر کرو تمھیں کوئی روک ٹوک نہیں ہے. اتنا اچھا سسرال ملا ہے پھر بھی ناشکری کرتی ہو. میرے بیٹے کی مجھ سے ہی شکایت کرتی ہو. امّی کے ایسے جملے سن کر میں ہکی بکی رہ گئی. گھر کا سارا کم نمٹا کر میں جاتی تھی اور صرف ایک گھنٹے کے لیے. سارا دن تو قیدی بن کر رہتی تھی…..گھر کی چِک چِک سنتی رہتی تھی اور آج سارے کیے کرائے پر پانی پھیر دیا.
امّی میں سارا کام نمٹا کر گئی تھی….کوئی…. ” امّی بات کاٹتے ہوئے…. میں نے کوئی صفائیاں نہیں سننی. آج کے بعد تم محفلوں میں نہیں جاؤ گئی. کچھ حاصل حصول تو ہوتا نہیں دو گزی لمبی زبان ہے تمھاری….زبان سے تیر برساتی ہو…شوہر کی بھی نافرمان اور سسرال والوں کی بھی….. یہ سننا تھا کہ میں دوڑتی ہوئی اپنے کمرے میں آگئی…..دروازہ بند کیا….عبایا اُتارا…..پلنگ پر بیٹھ گئی……جو آنسو ضبط کیے تھے آخر رواں ہو گئے….دل کٹ رہا تھا….اپنے آپ سے سوال کر رہا تھا…..کیا اب اللّہ کی محفلوں میں بھی نہیں جا سکتی؟؟؟؟ میں نے آج تک کسی سے زبان درازی نہیں کی…..شوہر کچھ بولنے نہیں دیتا…..اور…اور…..زبان نے جیسے ساتھ دینا چھوڑ دیا تھا.
اسی اثناء میں سال گزر گیا …. اللہ نے ننھا سا پھول میری جھولی میں رکھ دیا….الحمد اللّٰہ…..اللّٰہ کا شکر جتنا بھی ادا کروں اتنا ہی کم ہے. اب ننھے حمزہ کے ساتھ دل لگا رہتا تھا. فراز تو کبھی حمزہ کو اپنا بیٹا ہی نہیں سمجھتا تھا. میرا ننھا گڈا باپ کی شفقت تک سے محروم تھا. اب لڑائیوں میں کمی آنے کے بجائے مزید اضافہ ہوگیا. آئے دن کبھی میرا سر پھٹ جاتا تو کبھی ہاتھ پاؤں ٹوٹ جاتے. میری تو زندگی ہی نہیں رہی تھی. فراز ماں کے گھر بھی نہیں جانے دیتے تھے. مہینوں بعد ماں کو دیکھنے کا موقع ملتا. ایک دن سوچا کہ اپنی زندگی کے بارے میں کسی کو تو بتانا چاہیے. یہی سوچ کر خالہ کو میں نے اپنی آپ بیتی سنا دی. نجانے خالہ نے امّی کو میرے احوال کے بارے میں کب بتایا. اب امّی کو میرے احوال پتہ چل گئے تھے اور وہ میرے لیے پریشان رہنے لگی. ماں بیچاری دل کی مریضہ تھی…….اب ان کی بھی فکر سر پر رہنے لگی.
امّی جان میں بہت خوش ہوں…….آپ فکر نہ کریں…..اللّٰہ مجھ پر مشید رحم فرمائیں گئے(میں نے تھوڑے روکھے لہجے میں کہا) . اس کے بعد امّی چند ہی الفاظ کہہ سکی…..پتہ ہے تم نا خوش ہو……میں نے تمھاری شادی بہت ذلیل انسان سے کی ہے…..میں بہت شرمندہ ہوں ….. لیکن میری بچی تم نے کبھی ناشکری نہیں کرنی آخر وہ تمھارا شوہر ہے ……تم نے اپنے شوہر کا بہت خیال رکھنا ہے. ایک دن ایسا آئے گا کہ وہ تمھاری قدر کرے گا…..کبھی ناراض مت ہونا……میری نصیحت اپنے پلو سے باندھ لو……. بس یہ کہنا تھا کہ وہ میرج گود میں ہمیشہ کے لیے سر رکھ کر سو گئی…..
میں اپنے آپ کو کبھی معاف نہیں کرسکتی. میرے چہرے پر جو سرخی تھی اب وہ مزید پیلاہٹ کا شکار ہو چکی تھی…..باپ نے بھی ساتھ چھوڑ دیا……آنکھیں سرخ تھی……آنسوؤں سے بھیگا چہرہ…….ماں اور باپ دونوں ایک ساتھ ہی داعی اجل کو لبیک کہہ گئے تھے….ماں کا جنازہ اٹھایا ہی نہیں گیا تھا کہ باپ بھی خون کی چادر میں لپٹا ہوا کفن میں لٹا دیا گیا…….خیر یہ صدمہ مجھے اب بھی نہیں بھولتا اور ساتھ ہی مجھے شوہر لینے پہنچ گیا…..آہ آہ…..زندگی برباد پہلے ہی ہوگئی تھی اب ماں باپ کو الوداع بھی نہیں کہنے دیا.
گھر پہنچی تو بُرا حال تھا…..آنسو مجھ سے محبت کر رہے تھے…..میرے گالوں کو پر رواں تھے…. شوہر کے آگے زیادہ آنسو بھی نہیں بہا سکتی تھی…. حرا…..! تلخ بھرے لہجے میں فراز میری طرف مخاطب ہوا….. جی!!!! میں نے آنکھیں پونچھتے ہوئے کہا میری بات کان کھول کر سن لو. اگر میرے ساتھ رہنا چاہتی ہو تو جیسے میں کہا کرونگا ویسے ہی تم کرو گی…..لیکن یاد رکھو نوکرانی بن کر سمجھی ….. اور یاد رکھو میں تم سے محبت نہیں کرتا میری محبت کوئی اور ہے…..ایسا نہ ہو کہ میں تمھیں فارغ کر دوں……اس لیے جیسا میں کہوں صرف ویسا ہی ہو……..میں نے تم سے زبردستی شادی کی ہے …… میں کسی اور سے محبت کرتا تھا اور اب بھی کرتا ہوں. اس لیے بہتر یہ ہے کہ اپنے معملات خود حل کرو اور میرے معملات میں مداخلت مت کرو…….فراز نے بے شرم بنتے ہوئے کہا…..اور یہ جا وہ جا نکل گئے
میں سکتے کے عالم میں زمین پر ڈھیر ہوگئی. مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ میں نے اس طرح کے الفاظ اپنے کانوں سے اور وہ بھی شوہر کے منہ سے سننے ہیں. میری زندگی تباہ ہوگئی تھی. تنہائی میرے اردگرد منڈلا رہی تھی. ماں باپ کی جدائی, پھر شوہر کے منہ سے دو ٹوک الفاظ…..آہ…..آہ…..میرا صبر مجھے لے ڈوبا…..آہ میں نے کس انسان سے شادی کی……جو کسی اور سے پہلے ہی محبت کرتا تھا ….. .آہ ….. میری کمبختی …..
امّی کل فراز نے بہت عجیب و غریب باتیں کی ہے….مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ یہ سچ ہے کہ وہ کسی اور سے محبت کرتا ہے….. امّی جو چائے پی رہی تھی بات پر پردہ ڈالتے ہوئے بولی: اوہ حرا…..! مجھے پتہ نہیں کیسے بھول گیا کہ میں نے تمھیں اس بارے میں پہلے نہیں بتایا…..خیر وہ واقعی کسی اور لڑکی سے پیار کرتا ہے…….میں نے سوچا تھا کہ تمھارے آنے سے شاید وہ اُس لڑکی سے دور ہوجائے گا…..شاید کہ وہ تمھاری طرف توجہ دینے لگا گا لیکن تم ہی اس سے دور رہتی تھی وہ کیسے تمھاری طرف متوجہ ہوتا. تمھیں اسکی پرواہ نہیں تھی. اس کا خود تم نے خیال نہیں رکھا. اب پتہ چل گیا کہ میں کیوں تمھیں کہتی تھی کہ فراز کا خیال رکھو لیکن تم کہا زبان درازی سے باز آتی تھی…..اب بھگتو…..شکر ہے اس نے اب بھی تمھیں اپنے ساتھ رکھا ہے
میں نے روتے ہوئے کہا…..امی آپ کے سامنے ہے سب آپ پھر بھی مجھے کہہ رہی ہیں میں نے کبھی ان کے آگے زبان درازی نہیں کی. میں نے ہمیشہ ان کا خیال رکھا. وہ خود مجھ سے لڑتے ہیں. امی میں التجا کرتی ہوں براہِ کرم آپ فراز کو سمجھائے. میرا دل بھی ہے. اسکی اولاد ہے اب. اسے اگر میرا خیال نہیں تو کم ازکم اپنے بچے کا تو احساس کرے. جاؤ یہاں سے…..پہلے سمجھا نہیں اور اب سمجھ جائے گا…..تم نے سب خود برباد کیا ہے.
رو دھو کر مہینہ گزر گیا……فراز اب مزید نفسیاتی ہوگیا تھا. بات بات پر لڑنا اس کا من پسند کھیل بن چکا تھا. رات گئے آتا مجھے اسکی خبر تک نہ ہوتی کہ وہ کس وقت گھر آئے. خیر ایک دن میں حمزہ کو پڑھا رہی تھی کہ فراز جلدی جلدی گھر میں داخل ہوا. اس کے ساتھ ایک لڑکی بھی تھی. پہلے تو میں حیران ہوگئی کہ وہ ایسے باتیں کر رہے تھے جیسے کوئی میاں بیوی ہے لیکن بعد میں یہ سب سچ تھا کہ وہ واقعی میاں بیوی ہی ہے. فراز ہنستے ہوئے میری طرف مخاطب ہوا:
حرا! مجھے تم جیسی بیوی نہیں چاہیۓ. اب تم جاسکتی ہو اور اپنے بیٹے کو بھی ساتھ لے جاؤ. میں تمھیں فارغ کرتا ہوں. امی یہ سب بیٹھ کر دیکھتی رہی اور فراز نے مجھے اور حمزہ کو دھکے مار باہر نکال دیا……….
اب میں تنہا بھائی کے پاس رہتی ہوں بھابھی کا رویہ بھی بہت تلخ ہے. بات بات پر طعنے دیتی ہے…..پہلے پہلے تو بہت اچھی رہی لیکن آہستہ آہستہ وقت نے انھیں بھی تبدیل کردیا ہے. جب میں نے حرا کی آنکھوں میں دیکھا تو وہ بھیگ چکی تھی. لیکن میرے دل میں بہت کھٹن ہوئی کہ ہمارے معاشرے میں عورت کو جوتی کی نوک پر کیوں رکھا جاتا ہے. عورت کو حقیر کیوں سمجھا جاتا ہے جب کہ اسلام نے عورت کو بہت اونچا مقام دیا ہے. ایک ماں کی حثیتت سے عورت کو جنت کا دروازہ کہا گیا ہے لیکن ہمارے معاشرے میں اُسے خاک بھی نہیں سمجھا جاتا. آئے روز طلاق مردوں کا من پسند کھیل بن چکا ہے کہ جب دل چاہے تو طلاق دے کر فارغ کر دیتے ہیں. کیا مرد یہ نہیں سوچتے کہ کبھی اسکی بیٹی یا بہن طلاق لے کر گھر پر بیٹھ جائے گی تو کیا دل پر گزرے گی؟؟؟؟……کیا عورت کا دل نہیں ہے؟؟؟ …..
اسلام عورت کے ساتھ حسن سلوک کو درس دیتا ہے نہ کہ اس پر تشدد کرنے کا……یہ آج کا دور جو چل رہا ہے وہ جاہلیت کے دور سے بھی بدتر ہے. پہلے جاہلیت کے زمانے میں عورتوں پر انتہا کا ظام و ستم کیا جاتا تھا جب کہ اس کے برعکس آج کے دور میں کبھی عورت پر تیزاب پھینک کر جلایا جاتا ہے تو کبھی اُسے آگ کی نظر کردیا جاتا ہے یعنی ہر قسم تشدد سے باز نہیں آتے. پچھلے دنوں میری نظر سے ایک پوسٹ گزری. جس میں لکھا تھا کہ اگر لڑکا کسی اور سے محبت کرتا ہے تو اُسے دور تو رکھے اور ساتھ ہی ساتھ اسکی جلد از جلد شادی کردیں تاکہ نئی آنے والی کی وجہ سے وہ قابو میں آجائے یعنی وہ ان فضولیات سے دور ہوجائے. اس طرح کی پوسٹ نہایت ہی غلط ہے….. نہایت ہی….. غلط…..آپ آنے والی لڑکی کی زندگی برباد کرنے کا سوچ رہے ہیں….جب لڑکا آپ کے منع کرنے کے باوجود باز نہیں آیا تو کیا ایک نئی آنے والی کی وجہ سے آجائے گا؟؟؟؟ ذرا غور سے سوچئے!!!!! اس طرح کی فضول سوچوں سے دور رہیئے……دوسری لڑکیوں کی زندگی کا تماشہ نہ بنائے…..
تو مردوں! خدا کا واسطہ ہے تمہیں عورتوں کو حقیر نہ سمجھو وہ ایک بیٹی, ایک بہن اور ایک ماں ہے غرضیکہ جب اسلام عورت کی حقوق کا تحفظ کرتا ہے تو تمہاری کیا مجال ہے کہ تم عورتوں کے حقوق کو دباؤ….. یاد رکھو آخرت میں اس کی بہت سخت پکڑ ہے…… اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو ہر وقت تصور میں لاؤں کہ وہ بھی خدانخواستہ بیوہ ہو کر گھر نہ آ بیٹھیں. اللہ تعالی تمام عورتوں کے حقوق کی حفاظت کرے جو عورتیں بیوہ ہو چکی ہیں انھیں صبر جمیل عطا فرمائے اور مردوں راہِ راست دکھائیں. (آمین)
میں عورت ہوں …….. میرا بھی مقام ہے……… مجھے چین سے رہنے دو میرے حقوق کی بھی لاج رکھو

اپنا تبصرہ بھیجیں