تنبیہ – بنت شیروانی




بچوں کے کان کھینچے تھے ۔ پٹائی بھی لگانے والی تھی ……. لیکن کنٹرول کیا ۔ ان کانوں کے کھینچنے میں ہی بچے رو دیے ۔ دراصل وجہ یہ تھی کہ بچوں کو جن کاموں سے منع کیا تھا ، وہی کۓ جارہے تھے اور جس کام کو کہتی اس پر عذر تراشتے ۔ وہ کام کرنا ہی نہ چاہتے . اور اب جب یہ کان لال ہوۓ تو بچوں نے بھی رونا شروع کیا اور ماں کو ہوا کہ جب منع کر رہی تھی کہ یہ نہ کرو اور تم وہی کۓ جارہے تھے تو مجھے غصہ تو آنا تھا نا !!! ناراض تو ہونا تھا نا !!!
کہ میں جانتی ہوں کہ اس کام کو اور اس کام کو کرنے میں تمھارا نقصان ہے ۔ یہ تمھارے لۓ فائدہ مند نہیں ۔ پریشانی اٹھانی پڑے گی . تو آگے کے لۓ مشکل ہوجاۓ گی ۔ اسی لۓ تنبیہ کی ہے۔ اور مجھے یہ کان کھینچنا اور پھر بچوں کا رونا بلکل بھی اچھا نہ لگا تھا ۔ یہ میں نے خوشی خوشی نہ کیا تھا ۔ یہ کرنے کے بعد میں کوئی فرحت محسوس نہیں کر رہی تھی۔ اور اس وقت مجھے نہ جانے کیوں یہ اپنا ڈوبتا شہر بھی یاد آرہا تھا اور ملک کے باقی پانی میں ڈوبے اضلاع و علاقے بھی اور میں سوچ رہی تھی کہ میرے رب نے جو ستر ماؤں سے زیادہ چاہنے والا ہے اُس نے بھی یہ اتنی بارشیں برسائیں تو اُن کی ضرورت ہوگی۔ہم بھی تو اپنے اس پیدا کرنے والے کی اتنی زیادہ نافرمانیاں کرتے جارہے تھے۔جو کرنے کے کام تھے وہ نہیں کرتے اور جس سے اُس پیدا کرنے والے نے منع کیا وہی کرتے ۔چاہے وہ لڑکیوں کا غیر محرم لڑکوں سے تیار ہونا ہو یا مخلوط محفلیں ہوں
ناچ گانا ہو کہ فحاشی و عریانی اور بھی نہ جانے کیا کیا ۔۔۔۔۔۔۔ تو میرے رب نے یہ گرج چمک والی بارشیں اسلۓ کی ہوں کہ ہم سُدھر جائیں ۔پلٹ آئیں ۔ اپنی اصلاح کر لیں ۔ کہ اُُن تمام احکامات جنھیں کرنے کا حکم دیا گیا اُس میں ہمارا بھلا ہے ۔اور جن سے منع کیا گیا اُن میں ہمارا نقصان ہے ۔ کہ وہ تو ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے۔ کہ میں نے آج کان خوشی سے نہ کھینچے تھے۔ ضرورت تھی تو شاید ہمیں بھی ان بارشوں تو گرج چمک کے ساتھ تنبیہ کی گئی ہے۔ کہ “پلٹ آؤ اپنے رب کی طرف”۔

اپنا تبصرہ بھیجیں