الحکم الحکیم – نبیلہ شہزاد




ایک طرف چولھے پر چائے دم پر رکھی تھی تو دوسرے چولھے پر ثمینہ جلدی جلدی شامی کباب فرائی کر رہی تھی۔ کوکنگ رینج کے تیسرے چولھے پر کڑاہی رکھ دی گئ جس میں وہ رول اور چھوٹی سموسیاں ڈال کر فرائی کرنے لگی۔ ثمینہ کے ہاتھ کسی مشین کے مانند چل رہے تھے، چلتے بھی کیوں نہ؟۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ اس کی ساس صاحبہ کے میکے سے مہمان آئے تھے۔
مہمان، نگہت کے دو بھانجے اور تین بھتیجے تھے۔ جو گھومنے پھرنے کے لیے گھر سے نکلے اور راستے میں پڑتے خالہ پھوپھی کے گھر، اسے ملنے آ گئے۔ نگہت، اسکی بیٹی جویریہ، بیٹا وقار اور اور مہمان سب لاؤنج میں بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ ثمینہ نے سب کچھ تیار کر کے چمچ سے ہلکا سا کچن کا دروازہ کھٹکھٹایا جس کی آواز آسانی سے لاؤنج میں سنی جا سکتی تھی۔ وقار جلدی سے اٹھ کر بیوی کے پاس آیا اور مہمانوں کے سامنے چائے اور دیگر لوازمات رکھنا شروع کر دیے۔ نگہت نے جب بیٹے کو مہمانوں کے سامنے کام کرتے دیکھا تو غصے سے اندر ہی اندر پیج و تاب کھانے لگی لیکن زبان پہ چپ سادھے رکھی۔ ارے واہ! وقار جی بھابھی نے تو چند دنوں میں ہی تجھے گھر داری سکھا دی ہے۔
خالہ زاد جمیل نے وقار کا تمسخر اُڑایا اور وقار بس مسکرا کر رہ گیا۔ بھئ بھابھی کہاں ہے؟ اسے بلائیں۔ وہ بھی ہمارے ساتھ بیٹھ کر چائے پئیے۔ ماموں زاد محسن نے بھی بھابھی کو ساتھ چائے پینے کی دعوت دے ڈالی۔ آپ سب لوگ چپ کر کے اپنی اپنی چائے پئیں۔ بھابھی صاحبہ نہیں آئیں گیں وہ پردہ کرتی ہیں۔ جویریہ نے آخری جملہ ناک سکوڑ کر بولا اور اپنی پلیٹ میں رکھا رول کیچپ کے ساتھ کھانے میں مصروف ہو گئ۔ نگہت نے نہ چاہتے ہوئے بھی ثمینہ کو آواز دی۔ ثمینہ نے ڈوپٹے سے نقاب اوڑھ کر دروازے میں ہی کھڑے کھڑے سلام کیا اور اپنے کمرے کی طرف چلی گئ۔ مہمانوں کے جاتے ہی وقار اور ثمینہ دونوں میاں بیوی کی شامت آگئ۔ نگہت مخاطب تو اپنے بیٹے سے تھی لیکن سنایا زیادہ ثمینہ کو گیا۔اسے مہمان نوازی کے معاملے میں اجڈ قرار دیا گیا اور کہا یہ کیسا پردہ ہے؟ جو رشتوں سے دور کر دے۔ رشتہ داری رکھنے کا حکم بھی رب نے دیا ہے۔
امی پردہ کرنے سے رشتے ختم تو نہیں ہوتے بلکہ ان کے درمیان زیادہ احترام و محبت اور شفافیت رہتی ہے اور سب سے بڑی بات کہ یہ ہمارے پیدا کرنے والے کا حکم ہے۔ ثمینہ نے ساس صاحبہ کو قائل کرنے کی ادنیٰ سی کوشش کی جبکہ وقار کی خاموشی ہنوز قائم تھی۔
اے لڑکی! تم تو میرے سے بات ہی نہ کرو تم نے تو چند دنوں میں ہی میرے بیٹے کی عقل پر پردے ڈال دیے ہیں۔ ہاے! ہاے! کیا بتائیں گے یہ گھروں میں جا کر اپنی ماؤں کو۔ تماشہ بن جائے گا میرا گھر رشتہ داروں میں۔ ہر کوئی ہمیں مزاق کا نشانہ بنائے گا۔ یہ پردے داریاں ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑیں گیں۔ اب رشتہ دار کم ہی ہمارے گھر میں قدم رکھیں گے۔ اے بدھو بیٹے! میں نے ابھی تیری بہن بھی بیاہنی ہے اس کا رشتہ کون لے گا۔ نگہت اپنے دکھڑوں کی دہائیاں دے رہی تھی۔ وقار ماں کی درد ناک تقریر سن کر کمرے کی طرف چلا گیا جہاں ثمینہ پہلے ہی جا کر بیٹھی سوچوں میں گم تھی، وقار بھی جا کر بیٹھ گیا۔ پانچ دس منٹ کی خاموشی کے بعد ثمینہ سے مخاطب ہوا۔
دیکھ ثمینہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ رشتہ دار مردوں سے پردہ نہ کیا کریں خاص کر امی کے رشتہ داروں سے۔ اس کے علاوہ جس سے چاہیں پردہ قائم رکھیں میں تمہیں منع نہیں کروں گا۔ ثمینہ نے پہلے چند ثانیے خاموشی اختیار کی اور پھر فیصلہ کن انداز میں بولی۔ دیکھئیے وقار سب سے پہلی بات تو یہ ہے مخلوق کی اطاعت میں خالق کی نافرمانی نہیں کر سکتے۔ ہمارا حاکم حکیم بھی ہے۔ رب نے آپ کو میرا قوام بنایا ہے۔ مجھے زمانے کی تپش سے دور رکھنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ اب میری عزت و عصمت آپکی امانت ہے میرے پاس۔ میرا فرض ہے کہ میں اپنے وجود کو نامحرموں کی نظروں سے بچاؤں رہی بات رشتہ داروں سے پردے کی تو میں کسی کے دل کا بھید تھوڑی جانتی ہوں کہ کون مجھے احترام کی نگاہ سے دیکھے گا اور کون غلاظت کی؟
اور ویسے بھی جب میرے رب نے مجھے ڈھیر سارے محرم مرد دیے ہیں میں ان کے پاس بیٹھتی بھی ہوں، گپ شپ بھی لگاتی ہوں، میری ان سے دوستی بھی ہے تو پھر میں ناشکری بن کر اس عزت و احترام کے مضبوط حصار سے باہر کیوں نکلوں؟ ٹھیک ہے جیسے آپ کا دل چاہے کرو۔ میں خوش ہوں آپ سے، وقار نے مسکرا کر ثمینہ سے کہا۔ جواباً ثمینہ بھی مسکرا دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمینہ نگہت کی نند کی بیٹی اور وقار کی پھوپی زاد تھی۔ نگہت کب چاہتی تھی کہ اس کے اکلوتے بیٹے کی شادی ثمینہ سے ہو، وجہ صرف نند بھابھی کی رسمی رقابت۔ باقی اسکی خواہش تھی کہ وہ وقار کے لیے اپنی کوئ بھانجی یا بھتیجی لائے۔ وقار کے ابو جاوید صاحب اپنی سلجھی ہوئی بھانجی، ثمینہ کو گھر لانے کے خواہش مند تو تھے لیکن بیگم کے سامنے ہتھیار ڈالنے میں بھی دیر نہ لگاتے۔ یہ تو وقار میاں کا ارادہ استقامت و عزم مصمم تھا۔ گھر میں کئ طوفان اٹھے اور تھمے مگر مجال ہے کہ وہ ذرا لڑکھڑا بھی جائےمزید یہ کہ صاف صاف دو ٹوک الفاظ میں کہ دیا۔ میں کسی ایسی لڑکی سے شادی نہیں کروں گا جس کی اپنے کزن لڑکوں سے کھی کھی ہی نہ ختم ہوتی ہو ۔ بلکہ ثمینہ کے نام پر مہر ثبت کر دی گئی کہ شادی ہو گی تو صرف ثمینہ سے۔۔۔۔
نگہت نے ثمینہ کی طرف سے اس کا دھیان ہٹانے کے لیے خاندان سے باہر بھی کئی رشتے بتائے مگر بے سود۔۔۔۔ نگہت کیا ضدی تھی بیٹا ضد میں ماں کا بھی استاد ۔ آخر کار ماں ہار گئ اور بیٹا جیت گیا اور اسے نند کے گھر رشتے کے لیے جانا پڑا۔ نند سعدیہ تو پہلے ہی بھائی کے راستے میں پلکیں بچھانے والی جانثار بہن تھی۔ بھائی تو بھائی تھا وہ تو بھابھی کی بھی بلائیں لیتی نہ تھکتی۔ وقار بھی شریف اور کماؤ پوت تھا۔ رشتے سے انکار کی کوئی وجہ ہی نہ بن رہی تھی۔ بنتی بھی تو شاید سعدیہ بھائ کو انکار نہ کرتی۔ منگنی ہو گئی ، شادی ہو گئی ثمینہ وقار کی آنگن میں اجھلی صبح کی مانند اتر آئی لیکن نگہت کے دل سے ثمینہ کے خلاف کدورت نہ گئی ۔ اور کوئی معقول وجہ تو ثمینہ کے خلاف نہ مل پا رہی تھی کیونکہ اس نے آتے ہی گھر کے کام کاج سنبھال لیے تھے۔ نند اور ساس سے رویہ بھی اچھا تھا۔ سسر، ماموں تو پہلے ہی درویش بندہ تھا بلکہ وہ بیچارہ تو دل ہی دل میں مظلومیت کے بندھن میں ثمینہ کو بھی اپنے ساتھ ہی سمجھتا۔
اب گھر میں سب سے بڑا ایشو ثمینہ کا رشتہ دار مردوں سے پردہ کرنا تھا ۔ الزام تھا کہ یہ چاہتی ہے کہ ساس کا کوئی رشتہ دار اس گھر میں نہ آئے۔ وقار نے کئی دفعہ ماں کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن جواب میں زن مریدی جیسے القابات سننے پڑے ۔ ماں کی طرح جویریہ کو بھی ثمینہ کا پردہ سخت ناگوار تھا ۔ وہ کہتی کہ بھابھی خاندان میں نئے رواج ڈال رہی ہے ۔ یہ رشتہ داروں میں دوریاں پیدا کر دے گی۔
جویریہ اسی ضد میں پہلے سے زیادہ کزن لڑکوں کے ساتھ فری پن اختیار کرنے لگی ۔ جب وہ گھر آتے تو ان کے پاس بیٹھ کر خوب گپ شپ لگاتی۔ ہاتھوں پہ ہاتھ مارے جاتے، ہنسی مزاق کیا جاتا۔ ثمینہ کا دل چاہتا کہ وہ جویریہ کو یہ سب کرنے سے منع کرے اور سمجھائے لیکن وہ جانتی تھی کہ اس کے ایسا کرنے سے جویریہ سمجھے گی بھی نہیں بلکہ اسکے اپنے خلاف بھی گھر میں ایک نیا محاذ بھی کھڑا ہو جائے گا۔ نہ ہی وقار سے کوئی ذکر کیا کہ اس طرح کہیں بھائ کے دل سے بہن کے لیے تکریم اور محبت نہ چلی جائے۔ ثمینہ کے لیے اپنے گلشن کو سنوارنے کا بس ایک ہی سہارا تھا اور وہ تھا رب سے دعا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمینہ کی کمر میں دو دن سے مسلسل درد تھا ۔ وقار اسے ساتھ لے کر ڈاکٹر کے پاس چلا گیا ۔ جویریہ لاؤنج میں بیٹھ کر ٹی وی پر کوئی میوزک شو دیکھ رہی تھی ۔ نگہت چادر سنبھالتے آئی اور اسے کہا ۔ میں ذرا آپا نسرین کے پاس اس کی بہن کی تعزیت کے لیے جا رہی ہوں باہر کا دروازہ بند کر لو ۔ اچھا آپ جائیں میں بند کر لوں گی دروازہ ۔ جویریہ نے نظر مسلسل ٹی وی پر جمائے ہی جواب دیا ۔ وہ ٹی وی دیکھنے میں ہی مگن رہی ۔ دروازہ نہ بند کرنے کا احساس تب ہوا جب خالہ زاد جمیل سر پر آن کھڑا ہوا ۔
آئیں آئیں جمیل بھائی بیٹھیں ، جویریہ ریموٹ سے ٹی وی بند کر کے جمیل سے مخاطب ہوئی ۔ “میں ادھر سے گزر رہا تھا سوچا آپ لوگوں کو ہیلو ہائے کرتا جاؤں کہاں ہیں خالہ جان؟” امی تو ادھر کسی کے گھر تعزیت کیلئے گئی ہیں اور بھابھی بھائی کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس ۔ جویریہ نے بھی ایک ہی سانس میں ساری معلومات جمیل کو دے دیں ۔ اچھا ۔۔۔۔۔ یعنی اس وقت آپ کے علاوہ کوئی نہیں ہے گھر میں! جمیل نے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ سجاتے ہوئے معنی خیز انداز میں کہا اور جویریہ کی طرف بڑھنے لگا ۔ جویریہ جمیل کا ایسا روپ دیکھ کر کانپ اٹھی اور چلا کر کہا ۔ میں تو تمہیں اپنا بھائی سمجھتی ہوں ۔
“کون بھائی …….. ؟ یہ کیا دقیانوسی لڑکیوں جیسی باتیں کرتی ہو میں تو تمہیں بڑا ماڈرن سمجھتا تھا ۔ اگلے ہی لمحے ثمینہ کسی فرشتے کی مانند لاؤنج میں کھڑی تھی ۔ ثمینہ کو دیکھ کر جمیل وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا ۔ جویریہ کی پیلی ہوتی رنگت کو دیکھ کر ثمینہ معاملے کو بھانپ چکی تھی ۔ جویریہ ثمینہ کے گلے لگ کر سسکیاں لینے لگی ۔
میں تو تمہارے بھائ کا والٹ لینے آئی تھی، جو وہ جاتے ہوئے پکڑنا بھول گیا تھا اور اب وہ باہر گاڑی میں بیٹھا ہے ……. لیکن والٹ کے بھولنے میں بھی میرے رب کی حکمت چھپی تھی ۔ ہاں ۔۔۔۔۔ ثمینہ آپی پردے کے حکم میں بھی تو رب کی حکمتیں ہیں ۔ جویریہ نے سسکتے ہوئے کہا جو ابھی تک مسلسل ثمینہ کے گلے لگ کر رو رہی تھی …..!

اپنا تبصرہ بھیجیں