عزت و وقار کا استعارہ حجاب ہے – افشاں مراد




وہ سر جھکائے خاموش ، گم صم سی اپنے ہاتھ گود میں دھرے میرے سامنے بیٹھی تھی ۔ میں کچھ دیر اس کی اس کیفیت کو جانچتی رہی پھر رہا نہ گیا تو پوچھا ، کیا ہوا ؟ کیا مسئلہ ہے ؟کچھ تو بتاؤ ایسے کیوں بیٹھی ہو ؟
میری بات سن کر اس نے اپنا سر اٹھایا اور خالی خالی وحشت زدہ سی نظروں سے مجھے دیکھا ، ٹھنڈی سانس بھری کہ جیسے اپنے اندر کچھ کہنے کا حوصلہ جمع کر رہی ہو ۔۔۔ ” تم مجھے کب سے جانتی ہو ؟ اس کا یہ سوال کچھ عجیب سا تھا کیونکہ وہ میرے اسکول کے زمانے کی دوست تھی۔ لیکن اس کی کیفیت کو دیکھتے ہوئے میں نے کہا ، ہماری دوستی کو تقریباً بیس سال تو ہو ہی گئے ہیں ۔ اب اس نے دوسرا سوال داغا ۔۔۔ کیا تم نے مجھے کبھی ڈرا ، سہما ، خوفزدہ دیکھا ؟ نہیں بھئی تم تو ہمیشہ سے ہی ہمارے گروپ کی سب سے بولڈ ، منہ پھٹ ، کسی حد تک بدتمیز اور خاصی جی دار قسم کی لڑکی تھیں ۔ اسی لیے تو میں تم کو یوں دیکھ کر پریشان ہو گئی ہوں کہ ایسی کیا آ فت تم پر ٹوٹ پڑی کہ تم اس طرح میرے سامنے موجود ہو ۔۔۔
“تم صحیح کہہ رہی ہو، واقعی میں ویسے ہی تھی جیسا تم کہہ رہی ہو، اور ابھی چند مہینے پہلے تک بھی میں ایسے ہی تھی۔ لیکن مجھے لگتا ہےکہ اب میری وہ ہمت ، حوصلہ ، جی داری ، بہادری سب ختم ہوتی جارہی ہے ۔ “لیکن کیوں ؟ ان چند مہینوں میں ایسا کیا ہوگیا ؟میں نے حیران ہوتے ہوئے سوال کیا ۔ تم کو معلوم ہے کہ میری دو بیٹیاں ہیں جو ابھی کالج میں آئی ہیں ۔ میرے شوہر بڑے مرنجان مرنج قسم کے آ دمی ہیں ، شریف النفس ، نہ زیادہ فرمائیشوں سے تنگ کرنے والے ، نہ بےجا حکم چلانے والے ، میں اکثر چڑ کر ان سے کہہ بھی دیتی تھی کہ آپ کے گھر میں ہونے نہ ہونے سے کیا فائدہ ہے۔ پورا گھر تو میں سنبھالے ہوئے ہوں ۔ آپ توصبح کے آفس گئے شام میں آتے ہیں اور پھر ایک کونہ سنبھال کر بیٹھ جاتے ہیں یا تو ٹی وی کے آ گے یا موبائل کے آ گے …….. لیکن پتہ ہے ماہی ۔۔۔! مجھے اب پتہ چلا کہ مرد کا صرف گھر میں موجود ہونا بھی اللہ کی کتنی بڑی رحمت ہے .
کہتے ہیں نا کہ گھر کے دروازے پر مرد کے جوتے بھی رکھے ہوں تو آنے والی کتنی بلاؤں سے بچا لیتے ہیں ، اس کی آ واز سرگوشی میں بدل گئی تھی ، میں صرف حیرانی سے اس کو تک رہی تھی ۔۔۔” ابھی کچھ ماہ پہلے میرے شوہر کو ملک سے باہر ایک اچھی جاب کی آ فر ہوئی،جاب بہت اچھی تھی اور کافی دن سے میرے میاں ایسی کوئی جاب چاہ بھی رہے تھے ، اس میں تنخواہ بھی اچھی تھی ، اس کے ساتھ دیگر سہولیات بھی تھیں تو مجھ سے مشورہ کر کے انہوں نے اس نوکری کی حامی بھر لی۔میں اس لیے مطمیئن تھی کہ چلو ویسے بھی گھر کا ہر کام تو میں خود ہی کرتی ہوں،اور چونکہ ڈرائیونگ بھی میں خود ہی کرتی ہوں تو باہر کے سب کام بھی خوشی خوشی نبٹا لیتی تھی۔بچے بھی اب ماشاءاللہ بڑے ہوگئے ہیں تو بظاہر کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہوگا ۔ اچھا ہے باہر کی کمائی سے تھوڑی بچت ہوگی تو بچیوں کی شادی اچھی طرح سے ہو جائے گی۔قصہ مختصر وہ باہر چلے گئے اور میں یہاں بچیوں کے ساتھ رہنے لگی ۔
گھر چھوٹا ہے لیکن ہمارا اپنا ہے۔ نیچے کے پورشن میں کرایہ دار ہیں اور اوپر میں ہوں ۔ کرایہ دار بھی بڑے اچھے تھے ، ہر وقت خیال رکھنے والے۔ میاں کے جانے کے بعد کچھ دن تو آزادی کا بڑا خوش کن احساس ہوا ، کوئی روک ٹوک نہیں ، کوئی میں میخ نہیں ، کھانے پکانے کی کوئی پابندی نہیں ، پھر ویسے تو میرے میاں مجھے یا بچیوں کو کچھ نہیں کہتے تھے لیکن اکثر کپڑوں وغیرہ کے معاملے میں ٹوک دیتے تھے ، خاص کر جب میں بچیوں کو نئے فیشن کے کپڑے دلواتی تھی یا ان کو جینز اور ٹاپ وغیرہ پہننے دیتی تھی ۔ دوسرا اعتراض ان کو بچیوں کے ان کے دوستوں کے گھر جانے پر ہوتا تھا اور میں ان کا یہ اعتراض بھی مسترد کر دیتی تھی کہ بھئی بچیاں ہیں مل کر ہلا گلا کر لیتی ہیں تو کیا ہو گیا ۔ لیکن وہ اس بات پر کمپرومائز نہیں کرتے تھے ، کہتے تھے جسے بلانا ہے گھر پہ بلا لو ، بچیوں کو باہر نہ بھیجو۔ ہمیں نہیں پتہ کس کے گھر کا ماحول کیسا ہے اور کون کون ہے ان کے گھر ، یا پھر تم ان کے ساتھ جاؤ ۔۔۔
ایسے میں بچیاں بہت جھنجھلاتی تھیں کہ ہمارے بابا کیسے دقیانوسی خیالات کے ہیں۔تو خیر میاں کے جانے سے یہ آ زادی بھی نصیب ہوئی ۔لیکن مسئلہ ان کے جانے کے کچھ دن بعد سے شروع ہوا ۔ پہلے تو میں نے نوٹس نہیں کیا لیکن پھر غور کیا تو پتہ چلا کہ کچھ دن سے محلے کے لڑکوں نے اپنی مستقل بیٹھک ہمارے گھر کے چبوترے کو بنا لیا ہے۔ دن میں بھی اکثر گھر کے سامنے ہی کھڑے ہوتے ہیں اور شام سے تو مستقل ڈیرہ ہی جمالیتےہیں ۔ وہاں سے ان کے اونچے اونچے قہقہے، چھچھورے لطیفے ، گھٹیا گانوں کی آ وازیں آ تی رہتی ہیں، میں جو دن میں دس دفعہ باہر نکلتی تھی ان لوگوں کی وجہ سے اب نکلنے میں جھجھکنے لگی کہ گھر میں بچیاں اکیلی ہوتی ہیں ۔ پہلے بھی حالانکہ سارا دن تو میں اکیلی ہی ہوتی تھی لیکن کسی کی مجال نہیں تھی کہ ایسی حرکت کرے۔پھر اب اکثر ہی آ دھی رات کو کبھی کوئی گھنٹی بجا کر بھاگ جاتا ہے۔ کبھی کوئی کھڑکی پر کچھ اچھال دیتا ہے۔
کئ دفعہ میں نے ڈانٹنے کی کوشش کی تو الٹا میرا مذاق اڑانا ، ڈرانا شروع کر دیا ۔ بچیاں بھی سہمی ہوئی سی رہنے لگی ہیں ۔ اب ان کو اکیلا چھوڑ کر میں تو سودا لینے بھی نہیں جا پاتی ۔ تمہیں پتہ ہے کہ یہ چادر، برقع ،عبایا وغیرہ سے مجھے ہمیشہ ہی الجھن ہوتی ہے میری تو ان چیزوں کو دیکھ کر ہی سانس گھٹنے لگتی ہے۔ مجھے لگتا ہےاس میں عورت کو قید کر دیا گیا ہے، اور مجھے ایسی عورتوں پر بڑا ترس بھی آ تا تھاجب میں ان کو اس گرمی میں چادروں اور برقعوں میں لپٹا دیکھتی تھی۔اپنی بچیوں کو بھی میں نے کبھی ان چیزوں کی عادت نہیں ڈالی۔لیکن پتہ ہے” ماہی”کل میری بیٹی مجھ سے کیا کہنے لگی ، وہ لمحہ بھر کو رکی۔۔۔!وہ دوبارہ گویا ہوئی ۔اس نے مجھ سے کہا “مما مجھے ایک عبایا لا دیں” ۔میں تو اس کی بات سن کر دنگ رہ گئی ، میں نے اپنی بیٹی سے پوچھا کہ کیوں؟تو اس نے کہا مما مجھے باہر نکلتے ہوئے اب بہت ڈر لگنے لگا ہے۔ بابا تھے تو ایسا کچھ نہیں تھا۔لیکن مما میں اب کالج یا کوچنگ کے لیے نکلتی ہوں تو مجھے لگتا ہے سب مجھے ہی گھور رہے ہیں۔ان کی نظریں مجھے اپنا جسم چھیدتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں”۔
میں گنگ بیٹھی ہوئی تھی.”اور پتہ ہے مما ۔۔ یچے والے حارث بھائی بھی اکثر میرے کوچنگ جاتے وقت دروازے میں اڑ کے کھڑے ہو جاتے ہیں اور عجیب طرح مجھے دیکھنے لگے ہیں۔مجھے ان سے بھی ڈر لگنے لگا ہے۔ بابا کے ہوتے ہوئے تو وہ ہمارا سگے بھائیوں کی طرح خیال رکھتے تھے۔اب پتہ نہیں سب کو کیا ہوگیا ہے۔مما مجھے بہت خوف آ نے لگا ہے اسی لیے میں چاہتی ہوں کہ آپ مجھے عبایا لا دیں میری بہت سی دوستیں پہنتی ہیں اور وہ اتنی اچھی اور اتنی پر اعتماد ہیں ان کو کسی سے ڈر نہیں لگتا”۔۔۔۔ ماہی میں نے اپنی بچیوں کو اپنی طرح پر اعتماد بڑا کیاہے۔وہ کوئی ڈرنے سہمنے والی یا چھوئ موئ قسم کی لڑکیاں نہیں ہیں ۔ لیکن پتہ نہیں چند مہینے میں کون سی ایسی جادو کی چھڑی گھومی ہے۔کہ سب کچھ بدل گیا ہے،میں بھی بدل گئی ہوں۔مجھے لگتا ہے کہ میں نے نئی نئی اس دنیا میں آ نکھ کھولی ہے۔اس دنیا کو تو میں جانتی ہی نہیں تھی جہاں ہر شخص ہمیں کھانے کو تیار بیٹھا ہے۔
محلے کے حضرات بھی اتنے خوش مزاج ہو گئے ہیں کہ میرے باہر نکلتے ہی حاضر ہوجاتے ہیں مسکرا مسکرا کر پوچھتے ہیں کہ”بھابھی جی کوئی کام ہو تو بتائیں”۔ لیکن ان کی نظریں کچھ اور ہی کہہ رہی ہوتی ہیں۔مجھے بتاؤ میں کیا کروں۔میں تو ان چند مہینوں میں ہی اتنا تھک گئی ہوں ،اپنے میاں کو یہ سب بتا نہیں سکتی کہ بڑے غرور سے میں نے کہا تھا کہ آ پ جائیں میں سب سنبھال لوں گی آ پ کے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ پہلے بھی تو میں ہی سب کرتی تھی ۔ دوسرے یہ کہ وہ وہاں پریشان ہو جائیں گے کیا فائدہ ۔۔۔۔ یہ دیکھو آ ج میں یہ کتنی بڑی چادر اوڑھ کر گھر سے نکلی ہوں ۔اس کو اوڑھ کر ایک عجیب سے تحفظ کا احساس ہوا مجھے لگا کہ کوئی حفاظتی دیوار میرے اردگرد کھڑی ہوگئی ہے۔جو مجھے سب کی گندی نظروں سے بچا رہی ہے۔ پہلے میں اخبار میں یا سوشل میڈیا میں بچیوں سے زیادتی کے واقعات پڑھتی یا سنتی تھی تو مجھے لگتا تھا کہ سب ماں باپ کا قصور ہوتا ہے کہ بچوں کا خیال نہیں رکھتے۔
لیکن مجھے اب اندازہ ہوا کہ اس معاشرے میں بھیڑیئے تو جگہ جگہ موجود ہیں اور گھات لگائے موقع کی تلاش میں ہیں۔اگر اللہ نہ کرے میرے منہ میں خاک ایسا کوئی حادثہ میرے ساتھ ہوگیا تو میں تو جیتے جی مر جاؤں گی ۔۔۔۔ اسی لیے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ بچیوں کو بھی ان کی خواہش پر عبایا دلواوں گی،مجھے یقین ہےکہ جیسے آ ج مجھے تحفظ کا احساس ہوا ہے وہ احساس میری بچیوں کو بھی ہوگا۔وہ اعتماد جو ان کا کھو گیا ہے وہ دوبارہ بحال ہو جائے گا۔میں ٹھیک کر رہی ہوں نا ماہی۔۔۔۔!اور میں ماہی ۔۔ میں تو خاموش بیٹھی اس رب کا کرم دیکھ رہی تھی جو اب میری دوست پر ہونے جا رہا تھا ۔ وہ تحفظ،حیا،حجاب اور ایمان کی سیڑھی پر قدم رکھنے جارہی تھی وجہ کوئی بھی بنی ، لیکن مجھے یقین تھا کہ آ گے جا کر اللہ اس کے دل میں اس حجاب کا احترام بھی پیدا کر دے گا ۔ وہ حجاب جو اس نے آج خوف سے کیا ہے، کل یقیناً اپنی خوشی اور محبت سے کرے گی۔
وہ ساری آ یات حجاب اور احادیث بھی بعض لوگوں پر وہ اثر نہیں کرتیں جو کوئی ان پر گزرنے والا حادثہ کر جاتا ہے۔ یہ اللہ کا کرم ، اللہ کی مصلحت ، اللہ ہی جانتا ہے وہ کب کس کا دل کھول دے ۔ ہم عاجز بندے تو بے بس ہیں ۔ کہتے ہیں انسان ہمیشہ تکلیف میں ہی سیکھتا ہے ۔خوشی میں تو انسان پچھلے سبق بھی بھول جاتا ہے۔خود کو ڈھانپنا تو عورت کی فطرت میں شامل ہے جو فطرت سے بغاوت کرتا ہے ،فطرت اس کو کھینچ کر اس کی اصلیت پر لے آ تی ہے۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں