حجاب , میری حفاظت – حمادیہ صفدر




(ہم دوسروں کوحجاب اوردوسری بھلائیوں کی طرف کیسےدعوت دیں تجزیے)
ارسہ والدین کی اکلوتی اور اور بےحد لاڈلی بیٹی تھی ۔ اس کے بابا اس سے دنیا جہان کےبرابر محبت کرتےتھے۔ اکثر وہ بدتمیزی بھی کرجاتی تھی جوکہ لاڈلے بچوں کاشیوہ ہوتاہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی اماں عاصمہ اس پر ناگواری کااظہارکرتیں ۔کہ محبت ایک طرف بچہ بڑے چھوٹےکی تمیزتوکرے۔ارسہ کےباباکینڈامیں کام کرتےتھے۔
اب ارسہ بالغ ہوچکی ارسہ چونکہ فیشن ایبل تھی تو اس کی اماں کو اسی بات کی فکرتھی کہ ارسہ حجاب اوڑھ لے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر پہلی دفعہ ہی بات کرتے ہوۓ وہ جھجک رہی تھی ۔کیونکہ ارسہ تو کالج ہی اس حلیے میں جاتی تھی جیسے وہ ولیمہ پروگرام اٹینڈ کرنے جارہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخرکار عاصمہ نےارسہ کو بہت پیارسےپردہ کرنےکی دعوت دی ۔اورارسہ کےتوتیورہی بدل گۓ ۔کہنےلگی , مما کیا اتنی گرمی میں گاؤن پہن لوں میں ؟ کیاپاگل ہوں میں؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیٹا گاؤن نہیں تو آپ آغاز چادر سےکرلو۔ لیکن مما اتنی گرمی میں کیسے ؟ وقت توایساہےکہ دوپٹہ نہ لیاجاۓ۔لیکن پردہ جلباب گاؤن کیسےممکن؟ماں کےدل کوروگ لگ گیاکہ آخراس کومیں کیسےپردےکی عادت ڈالوں گی؟ عاصمہ دعاؤں میں بھی اپنی بیٹی کےسدھرنےکی دعائیں کرتی۔اکثر سجدوں میں رورو کر دعائیں کرتی ۔کبھی اللہ سے جھگڑے کرتی۔ کہ اللہ تو میری ارسہ کو باحجاب بنادے !
آج دوماہ بعدارسہ کےبابا نعیم آۓ گھر والوں سےمل کرایک عجب ہی خوشی سی محسوس کررہےتھے لگی ۔لیکن انھوں نےمحسوس کیاکہ عاصمہ کچھ پریشان ہےلیکن انھوں نے اپنا وہم سمجھ کراس خیال کو رفع کیالیکن مسلسل چار پانچ دن بعد انھیں لگاکہ ضرورکوئی وجہ ہوسکتی ۔ ایک دن پوچھ ہی لیاکہ عاصمی کیابات ہے تمہارےچہرےپرمسکراہٹ میں کمی محسوس کرتاہوں ۔پہلےتوخاموش رہی لیکن پھربول اٹھی کہ میں معاملہ آپ سےشیئرکرناہی چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
مگرسوچتی تھی کہ آپ پریشان ہونگےتورک جاتی۔نعیم صاحب آپ جانتے ہیں ناں ارسہ اب بڑی ہوچکی ہےاورمیں چاہتی ہوں کہ وہ اب پردہ کرے ۔۔۔۔۔۔۔ ہاں تواس میں پریشان ہونےوالی کیابات ہے۔تم اس کوکہوکہ وہ اب پردہ کرےنعیم بولے۔وہی توبات ہےمیں نےدی تھی اسےپردہ کرنے کی دعوت مگروہ بارہاکہنےپربھی تیارنہیں ہےحالانکہ میں توسوچتی تھی میں اسےشرعی پردہ کرواؤں گی ۔۔۔۔۔خیر عاصمی تم پریشان نہ ہو , میں بات کرکےدیکھ لوں گالیکن نعیم خودبھی پریشان سےہوگۓتھے۔
لیکن عاصمی میں اسےگھرسےروانہ ہوتےہوۓ دیکھنا چاہتاہوں ۔جی آپ کل تلاوت کےبعدجاگتےرہناجب تک ارسہ کالج جاۓ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگلےدن جب ارسہ کالج کیلیےتیارہونےلگی تونعیم صاحب نےدیکھاکہ ارسہ نےہلکاہلکامیک اپ ،اگلےبالوں میں پف بنایاپچھلےبالوں میں خوب نمایاں جُوڑابنایااوردوپٹہ معمولی سےاندازمیں لیاکہ ایک جھٹکالگنےپرہی اُترجاۓ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اورپتابھی نہ لگاکب ارسہ چپکےسےرکشےمیں بیٹھ کربغیرسلام کیےنکل گئ۔نعیم بھی عجب پریشانی میں مبتلاہوگۓ۔شام کوارسہ آئی توکھاناوغیرہ کھانےکےبعدبابا
کےکمرےمیں ارسہ کامیٹنگ ٹائم تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارسہ جب گئ توبابانےحال احوال پوچھنےکےبعدپڑھائی کےمتعلق پوچھاپھرنمازوتلاوت کےمتعلق سوال کرنےکےبعدحیااورپردہ کےمتعلق معلومات اوراس کےواجب وفرض ہونےکےمتعلق بتایاپھربہت پیاربھرےاندازمیں بولےامیدہےآپ پیروی کروگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ارسہ نے ماتھا سکیڑتےہوۓاثبات میں سرہلایااوراجازت لیکرکمرےسےباہرآگئ ۔اورشدیدغصےمیں آکربسترپرلیٹ گئ۔اب اگلےدن اسےگاؤن پہنناتھااس کووہ اپنےلیےایک بوجھ تصورکررہی تھی۔۔۔۔۔ اگلےدن چاروناچارارسہ گاؤن پہنےماتھےپرتیورسجاۓکالج گئ ۔وہاں بھی سب کےساتھ بڑےخشک سےمزاج میں بات چیت کی ۔۔۔۔۔۔۔۔
گھرآئی تواس کےبابانمازِ ظہرکیلیےتشریف لے جا چکے تھے اوراماں بھی بہت پرسکون نمازکی ادائیگی میں مشغول تھیں جبکہ ارسہ کی دستک پردروازہ کھلنےمیں تاخیرہوگئ تووہ غصےہورہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب وہ گاؤن توپہننےلگ گئ لیکن ہردن اس کےچہرےپرناپسندیدگی کےآثارہوتے۔۔دوماہ بعدارسہ کےبابادوبارہ کینڈا چلےگۓاورکچھ ہی دنوں تک ارسہ کےتایازاد یاسرکی شادی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مماشادی کیلیےمجھےنۓسوٹ لیکردیں اورآپ جانتی ہیں ناں کہ میں ویسٹرن بہت پسندکرتی ہوں ۔عاصمہ کی توبولتی ہی بندہوگئ ۔۔۔۔۔۔کیاآپ حجاب نہیں کروگی میری بیٹی؟؟؟ ممایہ کیسی بات ہے میرےبھائی ہیں وہ کیوں حجاب کروں گی ان سےمیں ؟ ارسہ شدیدتلخ لہجےمیں بولی اورشادیوں میں حجاب ، کیاآپنےمجھےبیوقوف سمجھ لیاہےمما؟ بیٹی شادی میں بھی توہم مسلمان ہی ہوتےہیں اورہمارےزندگی گزارنےکےطریقےبدل تونہیں جاتے ناں ۔۔
لیکن ممامیں نہیں جانتی ۔۔مجھےعمدہ عمدہ لباس چاہیئیں اورمیں پارلرسےہی تیارہونگی ارسہ نےاٹل فیصلہ سنایا۔عاصمہ خاموش رہی ۔ یاسرکاچھوٹابھائی شرجیل بہت عرصےبعدبیرون ملک سےاپنےبھائی شادی اٹینڈ کرنے کیلیے آیاتھا ۔۔۔۔۔۔۔۔مہندی سےایک دن قبل ارسہ لوگ روانہ ہوۓوہاں شرجیل نےبہت لمبےعرصےبعدارسہ کو دیکھا تھا ایک توارسہ قدرتی ہی حسینہ تھی اوراب شادی کےموقع پر تواس کی اپنی ہی ویلیو تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شرجیل کی نظریں ارسہ پرہی ٹکی ہوئی تھیں ۔بہت منع کرنے کے باوجود ارسہ پارلرسےتیارہوئی۔اوررات 9 بجےمہندی کاپروگرام کیاگیا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔
عاصمہ ارسہ کولیےہوۓایک کمرےمیں اپنی کچھ دوستوں کےساتھ بیٹھ گئ تاکہ وہ اس غیراسلامی رسم سےبچ سکےاوراپنےکان گانوں آوازسےآلودہ نہ کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچانک ارسہ پروگرام دیکھنےکیلیےباہرگئ توشرجیل تاک میں ہی تھا اورجب وہ آگےگئ توارسہ کابازو پکڑ کرکھنچنےکی کوشش کی اس کےایسےرویےپرارسہ ڈرکر چینخنے لگی ۔۔۔۔۔۔اس کی آواز سن کرعاصمہ بھاگتے ہوۓ آئی اور ایسا منظر دیکھ کرغش کھازمین پرگرگئی۔ عورتوں نےچہرےپر چھنٹےمارے توعاصمہ ہوش میں آئی اور بولی ارسہ بیٹا اگر تم میری بات مان لیتی آج یہ دن نہ دیکھناپڑتا۔۔۔۔۔۔
ارسہ نظریں جھکاۓشرمندگی کےعالم میں بیٹھی تھی اور روروکرمعافیاں مانگ رہی تھی ۔عاصمہ بولی ارسہ اگروہ تمہاری آبروکاجنازہ نکال دیتاشایدتمھاری ماں کاجنازہ بھی اٹھ جاتا۔ ممابس مجھےمعاف کردیں ۔ارسہ کی زبان پریہی جملہ جاری تھا۔اوراس نےوعدہ کیاکہ وہ ناپسندیدگی سےنہیں بلکہ دل کی خوشی سےپردہ کرےگی۔اوراب انشآاللہ شرعی پردہ کرےگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور واقعی ارسہ کوتوگویانصیحت لگ گئ ہووہی ارسہ جوگاؤن کوبوجھ سمجھتی تھی اب اسی گاؤن کواپنالباس تصورکرتی تھی گاؤن کےبغیرکہیں نہیں جاتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دن عاصمہ نےپوچھاارسہ اب نہیں تم کوگرمی لگتی گاؤن میں؟؟؟؟؟ تو ارسہ نے ایساجواب دیاکہ عاصمہ بھی حیران رہ گئ۔۔۔بولی مماجب مجھےگاؤن پہن کرپسینہ آتاہےتومیں تصور کرتی ہوں کہ یہ بارانِ رحمت کےقطرات ہیں اور میرا ایمان اوردل کایقین ہےکہ جب میرااعمال نامہ وزن کیاجاۓ گاتویہ پسینہ بھی میری نیکیوں میں باعثِ وزن ہوگا۔۔۔۔عاصمہ دل میں سوچنے لگی کہ اتنی بڑی بات تومیں نے بھی نہیں سوچی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اب ہربےپردہ عورت کاوجودارسہ کوناگوارلگتا۔۔۔
ایک دن بولی مماکیسےممکن ہےکہ ہمارےذریعےاللہ سب کوپردہ کی توفیق دے۔۔۔۔ عاصمہ بولی بیٹی ایک دوتجزیے پیش کرناچاہتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔جی مماسن رہی ہوں ۔ ایک تویہ کہ جو بحجاب لڑکی ہےوہ اپنی دوستوں کو جو حجاب نہیں کرتیں انھیں دعوت دے۔ اور دوسرے نمبر پر ۔ بیٹا۔۔۔۔۔۔ ہمارےاخوان المسمین کےبانی امام حسن البنّاؒ اپنے معاشرے میں جو برائی جن لوگوں میں دیکھتے تووہ بہت محبت پیاراورخلوص سے ان لوگوں کوخط لکھاکرتےتھے۔
انکےخطوط خانقاہوں ، قہوہ خانوں ، دوکانوں اورشراب کےاڈوں نیزہرجگہ جہاں جوبرائی ہوتی اسکی روک تھام سےمتعلق پہنچتےاوراپنانام نہیں لکھتےتھےجب لوگوں کو معلوم ہوتا کہ یہ امام حسن البنّااوران کےرفقاءکی حرکت ہےتوجولوگ اس چیزکوناپسندکرتےوہ ان خیرپسندلوگوں کو مارتےبھی تھےلیکن یہ خیرپسندلوگ اپنےمشن میں برابر کام کرتے رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس سےلوگ نصیحت حاصل کرتے ۔۔۔۔۔۔۔۔
ارسہ کودونوں تجزیے بہت پسندآۓاوراس نےخوداپنی دوستوں کودعوت دینےکاارادہ کیا اسکےساتھ ساتھ خطوط لکھنے کابھی پروگرام بنایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کےپختہ عزائم کودیکھ کرعاصمہ کی آنکھیں خوشی سےچھلک پڑیں اوروہ سجدہءِ شکرکیلیےدربارِ خداوندی میں جھک گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں