ایہہ پُتر ہٹاں تے نئیں وکدے … ایک سچی کہانی – نبیلہ شہزاد




سورج کی کرنیں آہستہ آہستہ چار سو پھیل رہی تھیں، ساتھ ساتھ پرندوں کی چہچہاہٹ اور بولنے کی آوازیں بھی بلند ہو رہی تھیں۔ کسان کھیتوں میں آدھے سے زیادہ کام نمٹا چکے تھے۔ گھروں میں عورتیں جھاڑو باری سے فارغ ہو کر تندوروں میں روٹیاں لگانے میں مصروف تھیں لیکن زرینہ ہر کام سے نابلد ہو کر فجر کی نماز کے وقت سے ہی جائے نماز پر بیٹھی اپنے رب سے محوِ دعا تھی۔ اس کی دعائوں کا محور مرکز اس کا اکلوتا بیٹا محمد فرمائش تھا۔ ہوتا بھی کیوں نہ۔۔۔۔۔۔
جب فرمائش صرف چار ماہ کا تھا زرینہ بیوہ ہو گئی اور فرمائش یتیم ……! عدت مکمل ہونے کے بعد زرینہ کے ساس سسر نے زرینہ کی شادی اس کے دیور سے کرنے کی کوشش کی لیکن زرینہ نے انکار کر دیا اور کہا: ” اب اس کا سب کچھ اس کا بیٹا ہے“۔ اور بھی رشتے آئے لیکن زرینہ تو اپنی خوشیاں محمد فرمائش کے نام کر چکی تھی۔ گاؤں میں بچوں کو پڑھانے کا کوئی خاص رواج نہ تھا۔ زیادہ تر بچے پرائمری سطح کے قریب قریب ہی رہتے مگر زرینہ نے اپنے بیٹے کو میٹرک تک تعلیم دلوائی اور فوج میں بھرتی ہونے کے لیے بھیج دیا۔
آج محمد فرمائش فوج کی ٹریننگ مکمل کر کے واپس آ رہا تھا جو اب فوج کا سپاہی محمد فرمائش تھا۔ واپسی کی خبر خط کے ذریعے پہلے ہی ماں کو دے چکا تھا۔ اور ماں کی اپنے رب سے صرف ایک ہی التجا تھی کہ میرا پتر خیر خیریت سے گھر آئے۔ پتر کی سلامتی کی، اس نے نظر بد اور حسد سے بچاؤ کی خوب دعائیں کیں۔ فرمائش کے گھر آتے ہی آدھا گاؤں فوجی فرمائش سے ملنے کے لیے امڈ آیا۔ فرمائش بھی آگے بڑھ بڑھ کر سب سے گلے مل رہا تھا۔ زرینہ کے بھتیجے نے آنے والوں کے لیے صحن میں چارپائیاں بچھا دیں۔ لوگ رشک کی نگاہوں سے محمد فرمائش کو دیکھ رہے تھے۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ یار فرمائش تو تو گورا رنگ نکال کر آ گیا ہے بالکل بابو بن گیا ہے اور کوئی فوجی وردی میں اسے دیکھنے کی فرمائش کر رہا تھا۔
زرینہ ایک طرف بیٹھی مہمانوں کے لیے لسی بنا رہی تھی لیکن نظریں اس کی بھی فرمائش کے ارد گرد ہی گھوم رہی تھی ں۔ کئی مہینوں کے بعد وہ اپنے لختِ جگر کو دیکھ رہی تھی ۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ وہ سب لوگوں کو وہاں سے ہٹا دیتی اور اور اپنے بیٹے کو اپنے سامنے بٹھا کر جی بھر کر دیکھتی اور دیکھتے دیکھتے کبھی نہ تھکتی۔ سب کو خوبرو اور گورا نظر آنے والا محمد فرمائش اسے کمزور اور پیلا نظر آ رہا تھا۔ حالانکہ اس نے فرمائش کو جاتے وقت پانچ کلو دیسی گھی اور پنجیری کے لڈو بھی بنا کر دیے تھے اور بطور خاص دودھ لسی پینے کی تاکید کی کہ کہیں کمزوری نہ ہو جائے۔ لوگ فوجیوں اور فوج کے بارے میں سوالات کر رہے تھے اور ان کے معمولات جاننے کے بارے میں مشتاق تھے اور محمد فرمائش سفری تکان کے باوجود اپنی معلومات کے مطابق سب کے سوالوں کا جواب دے رہا تھا۔ ابھی ایک جواب دے نہ پاتا اگلا سوال سامنے ہوتا۔ محمد فرمائش اپنے گاؤں میں فوج میں جانے والا پہلا آدمی تھا۔ لوگوں کی محبت اور توجہ اس کا حق بنتا تھا نا۔
زرینہ نے چار پانچ دن میں ہی بیٹے کی پسند کی ساری چیزیں بنا کر کھلا دیں ، فرمائش بھی ماں کے ہاتھ کا بنا لذیذ کھانا مرعوبیت کے ساتھ کھاتا اور اکثر کہتا کہ اماں کھانا تو ہماری فوج کے میس کا بھی بڑا اچھا ہوتا ہے لیکن آپ کے ہاتھ والا ذائقہ مجھے کہیں نہیں ملتا۔ ملے گا۔۔۔۔ ملے گا۔۔۔۔ ضرور ملے گا ، بشریٰ بھی کھانا پکانے میں ماسٹر ہے۔ مجھے تو بس تیری نوکری لگنے کا انتظار تھا۔ تیرے مامے کو بھی شادی کی جلدی ہے۔ میرا خیال ہے اب تیری شادی کی تیاریاں شروع کر دینی چاہیے۔ محمد فرمائش کی ماں کے پاس بیٹھے آلو کا پراٹھا کھاتے ہوئے شادی کا نام سن کر شرماہٹ سے کانوں کی لوح سرخ ہو گئیں اور کنواری شرمیلی لڑکی کی طرح بس اتنا کہہ سکا : اماں ! جیسے آپ کی مرضی۔ اماں بیٹے کی اس ادا پر صدقے واری جانے لگی۔ پتر ! اس دفعہ تو تم صرف ایک ہفتہ کی چھٹی لے کر آئے ہو، اگلی بار جب آئو تو پورے دو مہینے کی چھٹی لے کر آنا ہے۔ اسی چھٹی میں تمہاری شادی بھی کر دوں گی ۔
” ٹھیک ہے اماں مگر فوج میں اتنی زیادہ چھٹی نہیں ملتی۔ “
فرمائش نے اپنی بھولی ماں کو تھوڑی سی وضاحت دی۔ جوابا زرینہ صرف مسکرا کر رہ گئی۔ کیونکہ وہ خود چاہتی تھی کہ بیٹا اپنے فرض کو گھر بار پر ترجیح دے۔ وہ بیٹے کو دیکھ دیکھ کر جیتی، یہ اس کی پوری زندگی کا سرمایہ تھا۔ اسے اللّہ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد سب سے زیادہ محبت اپنے بیٹے سے تھی۔ وہ اس کے دل کا چین اور آنکھوں کا سرور تھا۔ وہ اس کا فخر وغرور تھا۔ تبھی تو وہ اسے ڈیوٹی پر بھیجتے ہوئے زرینہ کا دل مغموم تھا کیونکہ اس نے سوائے فوج کے راستے کے، کبھی بیٹے سے جدائی اختیار نہ کی۔ اس لئے اگست کی گرمی میں بھی اس کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑ رہے تھے۔
وہ بیٹے کے جانے کی تیاری کر رہی تھی لیکن جدائی کے خوف کے آنسو اپنے حلق میں ہی انڈیل کر گھونٹ گھونٹ پی رہی تھی۔ تیاری کے ساتھ ساتھ بیٹے کو اپنی صحت کا خیال رکھنے، فرض عبادت کی ادائیگی اور گھر باقاعدگی سے خط لکھنے کی تاکیدیں جاری تھیں۔ فرماں بردار بیٹا بھی ہر بات کے جواب میں۔۔۔۔ جی اماں۔۔۔۔۔۔ ایسا ہی کروں گا۔۔۔ کی گردان جاری رکھے ہوئے تھا۔ زرینہ نے فرمائش کا گھر کے دروازے سے باہر قدم رکھنے سے پہلے اس کا بازو مضبوطی سے پکڑ کر کہا :
”ایک بات اور۔۔۔۔ اگر کبھی مجھے شہید کی ماں بنانے کا موقع ملا تو اس لمحے کو ضائع مت کرنا۔“ …….. ” انشاء اللہ ماں جی “ بیٹے نے بھی بغیر تاخیر کے جواب دیا۔
ستمبر کے شروع میں ہی سرحدی علاقوں میں دونوں ممالک کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ مکار دشمن شرارت کرتا پاک فوج بھرپور جواب دیتی۔ دشمن جنگ کرنے کی مکمل تیاری میں تھا۔ پاک فوج بھی الرٹ تھی لیکن چھ ستمبر کی رات دشمن نے اچانک حملہ کر دیا۔ اور شیخی بگھاری کہ صبح ناشتہ لاہور میں کریں گے۔ دوسری طرف پاکستان کے سپوت بھی سینہ تانے کھڑے تھے۔ محمد محمود عالم نے چند لمحوں میں ان کے پانچ جہاز گرا کر ان کی فضائیہ کا بیڑا غرق کر دیا۔ بحری فوج نے بھی اپنی ذمہ داری ادا کی۔ فوج تو فوج پاکستان کا بچہ بچہ سپاہی بن گیا۔ مال کیا، جان کیا، ہر کوئی سب کچھ وطن پر نچھاور کرنے کے لئے تیار ہو گیا۔ محمد فرمائش کی ڈیوٹی بحیثیت سپاہی اپنی رجمنٹ کے ساتھ لاہور واہگہ بارڈر پر تھی۔ دور سے دشمن کے ٹینک دھول اڑاتے نظر آ رہے تھے جنہوں نے ناشتے تک لاہور پہنچنا تھا۔ کیپٹن کی آواز بلند ہوئی:
” ہمارے لیے ابھی پیچھے سے فوجی کمک نہیں پہنچی اور دشمن سر پر ہے۔ بی آر بی نہر کا پل توڑنے کے علاوہ اب ہمارے پاس اور کوئی چارہ نہیں۔ اس جلدی میں پل توڑنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ کوئی اللّہ کا شیر اپنے جسم کے ساتھ بارود باندھ کر پل کے نیچے جا کر اپنے آپ کو اڑا لے۔ “
شہادت کے لیے تیار تو اور جوان بھی تھے لیکن محمد فرمائش نے جا کر جلدی سے بارود اپنے جسم پر باندھ لیا۔ اور اللّہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہوئے اپنے آپ کو پل کے نیچے اڑا کر پل تباہ کر دیا۔ دشمن کے ٹینک دوسرے کنارے پر ہی رک گئے۔ محمد فرمائش نے جام شہادت نوش کرتے ہوئے دشمن کی پیش قدمی کو روک دیا اور پاک وطن کی محافظت میں اپنا حصہ ڈال دیا ۔ اب یہ پاک وطن ہمارے پاس اللّہ تعالیٰ کی نعمت اور محمد فرمائش جیسے شہداء کی امانت ہے ……. جن میں اکثر اپنی ماؤں کا کل اثاثہ تھے۔
نوٹ: یہ سچی کہانی ہے اور محمد فرمائش کی والدہ سے میں خود مل چکی ہوں

اپنا تبصرہ بھیجیں