ذکر الہٰی پر دوام ، حفاظت الہٰی کا انعام – ڈاکٹر خولہ علوی             




“یہ بھڑ کتنی صحت مند سی ہے۔ کہیں  کاٹ نہ لے!” فائقہ نے دھند میں منڈلاتی موٹی تازی بھڑ کو دیکھ کر دل میں سوچا۔ پنجاب یونیورسٹی میں زیر تعلیم فائقہ اس وقت یونیورسٹی جانے کے لیے پوائنٹ (یونیورسٹی بس) کے انتظار میں بس سٹاپ پر موجود تھی۔ گھر سے سٹاپ تک کا پیدل فاصلہ تقریباً پانچ منٹ کا تھا۔ دسمبر کی سخت سردی میں ہاتھ منجمد ہوئے جارہے تھے۔ پوائنٹ کے آنے میں ابھی تین چار منٹ باقی تھے، جب اس نے وہیں سٹاپ پر ایک صحت مند سی بھڑ کو ارد گرد منڈلاتے دیکھا ۔ 
“میں تو حجاب میں ملبوس ہوں۔ ان شاء اللہ یہ بھڑ مجھے نہیں کاٹ سکے گی ۔” اب وہ یہ سوچ رہی تھی۔
غالباً فائقہ کی سوچ کی پرواز بھڑ تک پہنچ گئی۔ اور بھڑ نے اس کی توقع کے برعکس اس کی بائیں آنکھ کے پپوٹے پر اس بری طرح ڈنک مارا کہ وہ تو بلبلا اٹھی اور اس کی آنکھ سے پانی بھی بہ نکلا۔ وہ جلدی سے اپنی آنکھ ملنے لگی۔ اسے بہت زیادہ درد محسوس ہو رہا تھا۔ اپنے ہوش و حواس میں بھڑ کے کاٹنے کا یہ پہلا موقع تھا۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ بھڑ کے کاٹنے سے بھی اتنادرد ہوسکتا ہے۔ اس نے سورہ الفاتحہ سات دفعہ پڑھ کر آنکھ پر دم کیا۔ کچھ افاقہ محسوس ہوا لیکن پھر۔۔۔ درد تھا کہ بڑھتا ہی چلا گیا۔ وہ کچھ دیر وہیں کھڑی بڑی احتیاط سے اپنی آنکھ ملتی رہیں اور آنکھ سے نکلنے والا پانی خشک کرتی رہی۔ اسی اثنا میں تین چار منٹ گزر گئے لیکن اس کی صورتحال بہتر نہ ہوئی۔ یونیورسٹی پوائنٹ اب بس سٹاپ پر پہنچ چکا تھا۔ تمام متعلقہ لوگ بس میں سوار ہوگئے لیکن اسے آنکھ کے درد نے مجبور کر دیا کہ وہ یونی ورسٹی جانے کے بجائے گھر واپس چلی جائے۔
“مجھے بھڑ نے آنکھ پر کاٹ لیا ہے۔ مجھے بہت درد ہو رہا ہے۔ میں واپس گھر جا رہی ہوں۔” اس نے ایک بس فیلو کو بتایا۔ جب پوائنٹ روانہ ہو گیا تو فائقہ نے بھی گھر کی راہ لی۔ اسے درد کی وجہ یہ محسوس ہو رہی تھی کہ شاید بھڑ کا ڈنک ابھی اندر ہے۔ جب وہ روتے دھوتے گھر واپس پہنچی تو اہل خانہ حیران ہوئے۔ “خیریت ہے؟ اتنی جلدی کیوں واپسی ہوگئی ہے؟” گیٹ کھولتے ہوئے اس کی والدہ نے حیرت سے پوچھا۔ “بس سٹاپ پر یونیورسٹی پوائنٹ کے آنے سے پہلے مجھے بھڑ نے آنکھ پر کاٹ لیا تھا۔ مجھے بہت درد محسوس ہو رہا ہے۔ لگتا ہے کہ ابھی ڈنک اندر ہی ہے۔ اس لیے میں گھر واپس آگئی ہوں۔” اس نے اپنے ساتھ پیش آنے والے اس چھوٹے سے سانحہ کو چند فقروں میں بیان کیا۔پھر وہ جلدی سے اپنی آنکھوں پر پانی کے چھینٹے مارنے لگی۔ ابو جان آفس جانے کے لیے گھر سے روانہ ہونے لگے تھے لیکن اب فائقہ کو دیکھ کر رک گئے۔ امی جان نے انہیں فائقہ کی صورت حال بتائی۔
“لوہے کی کوئی چیز مثلاً چھری گرم کرکے لگائیں تو اس سے بھڑ کا ڈنک فوراً نکل جاتا ہے۔” اس کی بڑی بہن نے کہا
“آنکھ جسم کا بڑا نازک حصہ ہے۔ اس کے اوپر کوئی گرم چیز نہ لگائیں۔ فائقہ! آپ آنکھوں پر ابھی مزید چھینٹے ماریں۔” ابو جان نے آپی کو منع کرتے ہوئے فائقہ کو تاکید کی۔ “بھڑ کے ڈنک پر پانی ڈال کر نمک رگڑیں یا نمک کی ڈلی پانی میں بھگو کر اسے متاثرہ جگہ پر لگائیں تو اس سے جلن اور درد کم ہوتی ہے اور سوجن بھی نہیں رہتی۔” امی جان نےاپنا آزمودہ دیسی ٹوٹکا بتایا۔ “مغربی ممالک میں عام طور پر بھڑ کے کاٹے کا علاج برف یا کوئی اور ٹھنڈی چیز رکھ کر کیا جاتا ہے۔” بڑے بھائی نے بھی تازہ تازہ سنا ہوا ایک ٹوٹکا بتادیا۔
امی جان نے فرج سے برف منگوا کرفائقہ کی آنکھ پر بڑی احتیاط سے برف کی ٹکور کی جس سے اسے افاقہ ہوا۔ پھر اس نے دوبارہ اپنی آنکھوں پر چھینٹے مارے۔ اور آنکھیں خشک کرکے متاثرہ آنکھ پر دوپٹے سے وقتاً فوقتاً تین چار دفعہ سینکائی کی، جس سے اسے مزید آرام محسوس ہوا۔
“الحمد للہ۔” بے اختیار اس کے منہ سے نکلا . “بھڑ کا ڈنک اندر نہیں ہے، نکل گیا ہوا ہے۔” آپی جان نے بڑی احتیاط سے اس کی آنکھ کا پپوٹا چیک کیا۔اور اچھی طرح تسلی کرکے اعلان کردیا۔
“لیکن ہلکا ہلکا درد ابھی بھی ہو رہا ہے۔” فائقہ بولی۔ “فائقہ! کچھ دیر آنکھیں موند کر لیٹ جائیں۔ پھر مزید فرق پڑ جائے گا ان شاءاللہ۔” آپی نے اسے تاکید سے کہا۔ وہ بستر پر لیٹ گئی اور سورہ الفاتحہ کا دم کرنا شروع کردیا۔ رفتہ رفتہ اسے آرام آگیا اور پھر نیند بھی آگئی۔ “لگتا ہے آج میری بیٹی صبح کے اذکار پڑھنا بھول گئی تھی؟” نیم غنودگی میں اس کے کانوں سے امی جان کی آواز ٹکرائی تھی لیکن وہ جلد ہی گرد و پیش سے غافل ہو گئی۔ کچھ دیر بعد وہ خود ہی اٹھ گئی۔ اب آنکھ کی صورتحال تسلی بخش تھی۔ چند منٹ کی گہری نیند نے اسے تازہ دم کر دیا تھا ۔
“آج اب دیر ہوگئی ہےتو آپ چھٹی کرلیں۔” آپی کا دیا گیا مشورہ اس کے دل کی آواز تھا۔
“دل تو میرا بھی یہی چاہ رہا ہے لیکن آج ایک اسائنمنٹ جمع کروانے کے علاوہ ایک بڑا اہم سمسٹر ٹیسٹ ہونا ہے۔ اور چند روز بعد دسمبر ٹیسٹ بھی شروع ہونے والے ہیں۔ لہذا آج کی چھٹی کافی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ویسے بھی ابھی پہلا پیریڈ گزر رہا ہے۔ میں دوسرےیا تیسرے پیریڈ میں کلاس میں پہنچ جاؤں گی ان شاءاللہ۔” اس نے جواب دیا اور پھر اٹھ کر جانے کے لیے تیار ہوگئی۔ “بھیا! آپ مجھے یونیورسٹی چھوڑ دیں گے؟” اس نے گیٹ سے بائیک باہر نکالتے ہوئے بڑے بھائی سے عاجزانہ گزارش کی تو وہ مان گئے۔ اور انہوں نے اسے کچھ دیر بعد اس کے ڈیپارٹمنٹ کے سامنے اتار دیا۔ “ہائے اللہ فائقہ! تم صرف اتنی معمولی سی بات کی وجہ سے کلاس میں لیٹ آئی ہو؟” کلاس فیلو جازیہ نے بھڑ کے کاٹنے کی بات سن کر اس سے جیسے تمسخرانہ انداز میں پوچھا۔
“بھڑ ایک معمولی کیڑا ہے لیکن اس کے کاٹنے سے انسان کو سخت تکلیف ہوتی ہے۔” سہیلی شافعہ نے جاذیہ کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا۔ “اگرچہ یہ چھوٹی سی بات ہے لیکن اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حفاظت صرف اللہ تعالیٰ کی ہوتی ہے۔ اگر اللہ کا حکم ہو تو انسان کو  ہر حال میں نقصان اور تکلیف پہنچ جاتی ہے۔” فائقہ نے کہا تو جاذیہ  خاموش ہو گئی۔ “میں نے آج صبح کے مسنون اذکار نہیں پڑھے تھے۔ کیونکہ صبح میں نماز فجر کی ادائیگی کے بعد رات کو مکمل کی گئی اپنی اسائنمنٹ کی نوک پلک سنوارنے میں لگ گئی تھی جو میں نے بلکہ ہم سب نے آج جمع کروانی ہے۔ پھر یونیورسٹی جانے کی تیاری اور ناشتہ کی بھاگ دوڑ میں صبح کے اذکار رہ گئے تھے۔” فائقہ نے سہیلیوں کو نہایت اہم وجہ بتائی جو اس کے ذہن نے اسے ابھی ابھی کلک کی تھی ۔ اور جس کی طرف امی جان نے بھی توجہ دلائی تھی لیکن نیند میں وہ اس کا خیال نہ کرسکی تھی۔ “یہ واقعی بہت اہم بات ہے۔” سہیلی فاریہ نے تائید کی
“ظاہری طور پر میرے مکمل ملبوس ہونے کے باوجود، صبح کے اذکار نہ پڑھنے کی وجہ سے میرے لیے اللہ کی حفاظت میں نہ ہونے کی ایک نمایاں کمی تھی۔ لہٰذا مجھے بھڑ کے کاٹنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اہم سبق مل گیا کہ صبح وشام کے اذکار ہمیشہ پڑھنے چاہیے۔” فائقہ ان سے ذہن میں آنے والے مزید خیالات کا اشتراک (share) کر رہی تھی ۔ “اچھا۔ یہ اتنی اہم بات ہے۔” جاذیہ چونکی۔ دوسری سہیلیاں بھی یہ سن کر متوجہ ہوئیں۔ “جو شخص کثرت سے اپنے رب کو یاد کرتا ہے ، اسے الله تعالیٰ کی حفاظت حاصل ہوتی ہے، اس کا الله تعالیٰ سے تعلق مضبوط ہوجاتا ہے ، اس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں، اس کے وقت میں برکت پیدا ہوتی ہے وغیرہ۔” فائقہ نے ذکر الٰہی کے کچھ فوائد انہیں بتائے۔
“صبح و شام کے سارے اذکار و دعائیں ہمیں تو نہیں آتے۔ ہم یہ کیسے پڑھ سکتے ہیں؟” ایک سہیلی نے پوچھا۔ فائقہ کو دلی تاسف ہوا کہ جو اذکار اور دعائیں اسلامی ذہن رکھنے والےدس گیارہ سال کے بچوں کو بخوبی یاد ہوتے ہیں، وہ یونیورسٹی کی ان ماڈرن طالبات کو یاد نہیں ہیں جنہیں دنیاوی تعلیم پر عبور حاصل ہوتا ہے۔ تاہم اس نے اس بات کو ان پر ظاہر کرنے کے بجائے اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے ان کی اس معاملے ميں رہنمائی کی اور ان کو اذکار یاد کرنے اور مسلسل پڑھنے کی ترغیب دلائی۔
“انٹرنیٹ زندہ باد!گوگل پر سرچ کرکے صبح و شام کے اذکار ڈاؤن لوڈ کر لیں ۔ جو دعائیں زبانی یاد ہوں، وہ زبانی پڑھ لیں اور باقی دیکھ کر پڑھ لیں ۔” فائقہ نے سب کے ہاتھوں میں موجود موبائل کی طرف اشارہ کیا ۔ “اس کے علاوہ دعاؤں کی مسنون کتابوں میں یہ اذکار لکھے ہوتے ہیں مثلا …….
“پیارے رسول کی پیاری دعائیں” ، “حصن المسلم” ، “حصن المومن” وغیرہ ۔ اس کے علاوہ “اذکار کارڈز” بھی بازار سے باآسانی مل جاتے ہیں جن پر صبح و شام کے اذکار ، نماز کے بعد کے اذکار ، سوتے وقت کے اذکار وغیرہ لکھے ہوتے ہیں ۔” فائقہ نے مزید بتایا ، یہ تو آسان کام ہے۔ ہم بھی صبح و شام کے اذکار پڑھنا اپنی روٹین بنائیں گی . ان شاء اللہ ۔” جا ذیہ اور باقی ساتھیوں نے عزم سے کہا۔ ان شاء اللہ ……… فائقہ نے بھی دلی خوشی سےکہا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں