حقیقی زندگی کے رنگ – جویریہ سعید




آؤ سہیلی …….. یہاں بیٹھو میرے پاس ۔ اس صوفے پر ہی آجاؤ ۔ میں تمہارے پھولے ہوئے منہ اور نم آنکھوں کو پیار سے دیکھتی ہوں۔ تمہارے شکوے سنے ہیں ۔ اور ان کے بیچ کبھی ڈھکے چھپے اور کبھی کبھی بہت واضح طور پر کہے گئے ناز و ادا کے کلمات کو بھی سنبھال کر رکھ لیا ہے۔
اسی لیے تو لڑکیاں اچھی لگتی ہیں ۔ پیار کرتی ہیں ۔ اور اپنے لیے بھی چاہتی ہیں ۔ جذباتی ہوتی ہیں۔ اکثر جذبات سے ہی سوچتی ہیں۔ صاحب نظر انداز کردیں، اظہار محبت نہ کریں ، من چاہا ردعمل نہ دیں، تو بھڑکنے میں دیر نہیں لگاتیں۔ اتنا کرب محسوس کرتی ہیں کہ انہیں لگتا ہے کچھ اچھا نہیں سب خراب ہے۔ محبت جھوٹ ہے، لوگ قابل اعتبار نہیں۔ رو کر کہتی ہیں ۔۔۔ بس سارے مرد ایسے ہی ہوتے ہیں۔ اور انہی صاحب کو خود ان کے علاؤہ کوئی برا کہہ دے تو پہلے سے بھی زیادہ غضبناک ہو کر کہتی ہیں۔۔۔ “جی نہیں میرے میاں بہت اچھے ہیں۔۔۔ تعریف نہیں کرتے مگر خیال بہت رکھتے ہیں۔ بلکہ فلاں وقت تو تعریف بھی کی تھی۔۔۔ اور فلاں وقت مجھے ایسے سپورٹ کیا تھا۔
فلاں معاملے میں مجھے کوئی تنگی نہیں ہوئی۔ مجھے اچھا نہیں لگا تم نے میرے میاں کے بارے میں یوں کہا۔ ”
بعد میں اسی شخص کے سامنے چھے مرتبہ جتاتی ہیں ۔۔۔ “میرے میاں تو بہت خیال رکھتے ہیں۔” لیکن پھر جہاں چار خواتین جمع ہوئیں اور زندگی کی مشکلات کی باتیں شروع ہوئیں۔۔۔ وہیں پھر شروع ہوجاتی ہیں۔۔۔۔ ” میرے پاس تو یہ نہیں، مجھے تو وہ نہیں ملا، میں نے تو اتنی مصیبت والے دن دیکھے۔ ” اس کو کہتے ہیں جذبات سے سوچنا۔ آؤ سہیلی ۔۔ میں تمہارا نرم ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لوں۔دیکھو۔۔۔ اگر رفیق حیات بدنیت اور ظالم نہیں ہے۔۔ جذباتی ، جسمانی یا مالی تشدد نہیں کرتا۔۔۔ تو سمجھنے کی بات یہ ہے کہ شادی شدہ زندگی میں اظہار محبت کے طریقے اور ہوتے ہیں۔ کچھ عورت مرد کی نفسیات کا بھی فرق ہے،کچھ روایتی تربیت کا دخل بھی ہے۔۔۔ ہمارے یہاں عموما حضرات کہنے سے جھجکتے ہیں۔ الفاظ سے اقرار محبت اور تعریف کو چھچھور پن اور ڈرامہ بازی دل سے سمجھتے ہیں۔ مگر تعلق اور آپ سے محبوبیت کے اظہار کے ضمن میں ان کے طریقے اور ہوتے ہیں۔
یقینا آپ کے تعلق میں بھی کچھ چھوٹی بڑی خاص پیاری باتیں ہوں گی ، جن کو آپ ہی نہیں، آپ کی اولاد بھی پہچانتی ہو گی۔ مگر دکھ اور خفگی کے لمحات میں وہ آپ کو یاد نہیں آتیں ۔ ہر شخص مختلف ہے ۔ ذاتی مشاہدہ ہے کہ جو مرد کھل کر تعریف نہیں کرتے ، وہ اپنی بیگمات سے پرفیکشنزم کی توقع بھی نہیں کرتے۔ وہ انہیں ہر حال میں پیاری ہوتی ہیں ۔ اور جو حضرات کھل کر سراہتے ہیں پھر وہ بیگمات سے پرفیکٹ رہنے کے مطالبے بھی کرتے ہیں اور یہ بھی رسکی ہوسکتا ہے۔ دیکھیے ، کبھی ان کو غصہ آجاتا ہے۔ ۔۔ مگر آپ بھی تو خفگی کے اظہار میں کنجوسی سے کام نہیں لیتیں۔ کبھی آپ کچھ معاملات پر پریشان ہوکر جھنجھلاتی بھی ہیں مگر ذرا دیکھیے، اس گھر کا اقتدار تو آپ ہی نے سنبھال رکھا ہے۔ کچھ عرصے میں بچے سارے آپ کے گرد اور آپ میاں کے ساتھ بچوں کو خوش ہوتا دیکھ کر یوں نازاں ہوتی ہیں جیسے آپ خود ملکہ ہوں ۔
حقیقی زندگی کھٹے ، میٹھے ، پھیکے ، ترش ہر طرح کے ذائقوں سے مزین ہوتی ہے ۔ اور ہر انسان شوہر یا بیوی ہونے سے پہلے انسان ہونے کے ناتے اپنی خامیاں اور خوبیاں رکھتا ہے ۔ تعلقات کو خراب کرنے میں سب سے بری چیز دوسروں سے تقابل ہے۔ اپنے تعلق کا کسی سے تقابل نہ کیجیے بلکہ تنہائی میں بیٹھ کر خود مثبت اور منفی نکات لکھیے۔ اور خود سوچیے۔ آپ کا تعلق ، اپنے منفرد حیثیت میں خوبصورت ہے۔ میں آپ دونوں کو سدا ایک دوسرے کا سب سے بڑا سہارا اور قدردان بنارہنے کی دعا دیتی ہوں ۔ آپ بھی دعا کرتی رہا کریں ۔
“اللهم ألف بين قلوبنا، وأصلح ذات بيننا واهدنا سبل السلام ، ونجنا من الظلمات إلى النور
(اے اللہ ہمارے درمیان الفت ڈال دے ، ہمارے درمیان معاملے کی اصلاح کردے ، ہمیں سلامتی کے راستے کی ہدایت دے اور ہمیں تاریکیوں سے روشنی کی طرف نجات دے۔)

اپنا تبصرہ بھیجیں