حیاء کی خوشبو – لبنیٰ اسد




یوں تو ماریہ کو مخلوط محفلوں میں جانا ہمیشہ سے ہی برا محسوس ہوتا تھا مگر چاہے رشتہ دار ہوں،عزیزواقارب یا محلے والے سب اسی طرح اپنی تقریبات کرنے والے چار رونا چار جانا ہی پڑتا۔ مگر اللہ تعالیٰ دلوں کے حال اور نیتوں سے بخوبی واقف ہوتا ہےاور جس کی نیت اپنے رب کے احکامات ماننے کے لیے خالص ہوتی ہے .
اللہ اسکی ہر طرح سے مدد ضرور کرتا ہے ۔ ماریہ نے جب سے قرآن کی تفسیر مکمل کی تھی ، اس کو بار بار یہی خیال آتا کہ قرآن میں تو پردے کا حکم ہے اور میں تو اسطرح سے پردہ نہیں کرتی ……… جیسا اللہ نے قرآن میں حکم دیا ہے . اب جب بھی کہیں جانا ہوتا خاص کر شادی بیاہ کی تقریبات میں ماریہ کا دل بہت کڑھتا کیونکہ زمانہ جدید کے فیشن کے مطابق مخلوط محفلوں کے ساتھ گانا بجانا اور سونے پہ سہاگہ ……. ڈانس پارٹیز بھی رواج پارہی ہیں . اب تو اس کو یہ سب بہت برا لگتا . جب سے سورہ نور میں رب کریم کے احکامات پڑھے تھے ۔ اس کے دل ودماغ میں ایک ہی بات گردش کر رہی تھی کہ اب شرعی پردہ کرنا ہے کیونکہ اس کو مخلوط محفلوں میں تیار ہو کر جانا بالکل اچھا نہیں لگتا تھا . مگر یہ خیال بھی آتا کہ لوگ کیا کہیں انھیں کیا ہو اچانک ؟ مگر پھر کافی دنوں کے بعد ماریہ کی بھتیجی عالمہ بن گئی اور اب دونوں پھوپھی بھتیجی نے پردہ شروع کیا کہ مگر اب ماریہ اپنے رب سے عہد کر چکی تھی کہ اب مجھے شرعی پردہ لازمی کرنا ہے .
دنیا والے کچھ بھی کہیں اپنے رب سے بہت دعائیں کیں اور اسی سے مدد مانگی اور اب ماریہ جہاں بھی جاتی ہے . شرعی پردہ کرکے جاتی ہے اور اپنی ذات کو بہت بحفاظت محسوس کرتی ہے کیونکہ حجاب میں مسلم عورت کا تحفظ ہے اور یہی دین کا تقاضا بھی ہے ۔جو سکون اور خوشی اس کو پردہ کرنے کے بعد ملی پہلے کبھی نہیں ملی ۔
حیا کی خوشبو گلاب میں ہے
سکون کتنا حجاب میں ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں