وہ جو مان ہوا کرتے تھے – سمیراامام




سب سےمشکل مرحلہ وہی تو ہے جب ” صادق ” ماننے والے کہیں کہ اگر کہو کہ اس پہاڑ کے پیچھے سے ایک لشکر حملہ آور ہونے والا ہے تو یقین کر لیں گے ۔ لیکن یہ جو دعوت تم دے رہے ہو ہمارے آباء و اجداد کے نظریے کے خلاف ہے اسے نہیں مانیں گے۔ اگر اس واقعے کو پڑھا جائے تو سرسری طور پہ پڑھ کے ہم آگے بڑھ جاتے ہیں ۔ لیکن جب یہ واقعہ اپنی زندگی میں در آتا ہے تو تکلیف کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے ۔
یہ میرا بھائی ہے جو کہتا ہے دنیا میں تم سے اچھا بھائی کوئی ہے ہی نہیں ۔ لیکن جو بات تم نے کی چاہے حق پہ مبنی ہے لیکن ہمارے آباءواجداد کے نظریے کے خلاف ہے ۔ ہم برادری میں ناک نہیں کٹوا سکتے ۔ بہن کو جائیداد میں اسکا حصہ دو ۔ بھئی سب بہن کا ہی ہے ۔ لیکن شادی چاچے کے بیٹے سے کرے گی تو صرف اس صورت میں ۔ حسین احمد ! ہمارے چچا کا صرف ایک بیٹا ہے جو ہم سب کے والد کی عمر کا ہے جس کے بچے ہماری عمروں کے ہیں ۔ پہلے سے ہی تین بیویوں کا شوہر ہے ۔ ایسا کیسے ممکن ہے کہ ہم بہن کی شادی اس سے کروا دیں ؟؟ خاندانی جائیداد خاندان سے باہرجائے یہ بھی ممکن نہیں ۔ چچا کے بیٹے سے بہن کا بیاہ رچاؤ بدلے میں چچا کی بیٹی میرے عقد میں آجائے گی ۔ جتنا یہاں سے جائے گا اس سے بڑھ کر واپس لوٹ آئے گا ۔ کیا اس لین دین کے چکر میں بہن کے جذبات کا کوئی احساس نہیں ؟؟
جذبات اور احساسات کی کہانی جب عورتیں الاپنا شروع کر دیں تو پھر وہ گھر میں رکھنے کے قابل نہیں رہتیں ۔ نہ پھر وہ بہن رہتی ہے اور نہ ماں ۔ میں نے بہن کا رشتہ طے کر دیا ہے ۔ شریف لوگ ہیں ۔ اور میں وہیں اسکی شادی کرونگا ۔ کر دو بھائی کر دو ۔ لیکن آج سے ہمارے لیے مر گئی ۔ ہمارے سامنے آئی تو گولیوں سے بھون ڈالیں گے ۔ گھر سے رخصت ہوتے وقت انگوٹھا لگا کے جائے گی ۔ آئندہ کے لیے ہمارا اس سے کوئی واسطہ نہیں ۔ اور بہن نے دیکھا کہ وہ کیسا لمحہ ہوتا ہے جب خاموش بائیکاٹ ہو جاتے ہیں ۔ فقط مفادات کی خاطر
کبھی آباء و اجداد کے نام پہ تو کبھی زمین جائیداد کے نام پہ یہ بھائی کیسا پیارا لگتا تھا جب وہ اسے گود میں اٹھاتی اسکی خوب صورت آنکھوں میں دیکھ کے اسے پیار کرتی ۔ اسکی سلامتی کی دعائیں مانگا کرتی ۔ اسکی لمبی زندگی کے لیے منتیں مانتی ۔ وہی بھائی جس کے لیے بہن نے لمبی زندگی کی چاہ کی تھی وہ کہتا ہے گولی مار دیں گے ۔ یعنی بہن کی زندگی کی قیمت فقط زمین کا ٹکڑا ۔۔۔۔۔
تم پیار سے مانگتے سب کچھ نچھاور کر دیتی ہیں بہنیں ۔ ایک بار کہہ دیتے مجھے ضرورت آن پڑی ہے ۔ بہن بغیر سوال کیے سب حوالے کر دیتی ۔ لیکن پھر بہن کیسے جان پاتی کہ وہ لمحہ بھلا کیسا ہوتا ہے جب جان سے پیارے ایک ہی پل میں جان کے دشمن ہوجاتے ہیں ۔ وہ کیسی مشکل ہوتی ہوگی جب سب اپنوں کے بیچ اچانک یہ انکشاف ہو جائے کہ ان میں سے کوئی ایک بھی کبھی آپکا تھا ہی نہیں ۔ یہ سب اپنے مفاد کے تھے ۔ لیکن تسلی رکھیے کوئی نہ کوئی ابو طالب ڈھال بن ہی جاتا ہے ۔ بس اس لمحے کو کل سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی ۔ اس لمحے کو یاد رکھنا ہے کہ جب جب مشکلات اپنوں کی طرف سے آتی ہیں تو اس ایک ہستی کے نقش قدم کی پیروی کیسے کرنی ہے ۔ وہی ہستی جس کے لیے دنیا تخلیق کی گئی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں