آہِ نیم شبی – سمیرا امام




رات نصف بیت چکی ہے ۔۔۔۔مایوسی جو شکنجے میں دبوچنے کو تیار کھڑی تھی کمزور لمحے کے انتظار میں تھی ۔ مایوسی اس اندھیارے کا نام ہے جوایک معمولی دھبے کی صورت دل پہ چھاتی ہے اور آہستہ آہستہ ایسے پھیلتی ہے جیسے کسی معمولی کاغذ پہ سیاہی گر جائے اور گرتے ہی پورے صفحے کو اپنی لپیٹ میں لے لے ۔ مایوسی کا دھبہ بھی ایسے ہی گر کر پورے دل کو لپیٹ میں لے لیتا ہے ۔
جب انسان اپنے خوابوں سے ہزار ہا میل کے فاصلے پہ ہو اور باوجود محنت اور کوشش کے بھی ان تک پہنچ نہ پاتا ہو ۔ پھر وہ اپنے ارد گرد نگاہ دوڑاتا ہے اس سے کم محنت اور کوشش والے اس سے بلند مقام پہ دکھائی دیتے ہیں تب انتظار میں کھڑی یہ بلا اسے دبوچنے کو آگے بڑھتی ہے ۔ زندگی نام ہے مسلسل جیے جانے کا ۔۔۔۔ یہ جینا فقط سانس لینا نہیں ، یہ جینا فقط خوشیوں کا حصول ہی نہیں ۔ یہ جینا آپکی کہانی ہے اس کہانی کے کاتبین آپکے دائیں بائیں کاندھے پہ ہمہ وقت موجود رہتے ہیں ۔ بندہ بشر تکلیف میں ہے یہ اسکے اجر لکھتے ہیں بندہ آزمائشوں تلے دبا ہے یہ اس کے رتبے کا تعین کرتے رہتے ہیں ۔ کاتب کی سرگرمی سے بے خبر بندہ شکوہ کناں روتا بسورتا زندگی جینے کا ہنر کرتا ہے ۔ اور ہنر بھول جائے تو مایوسی کو گلے لگا کے سب رنگوں سے بیر پال لیتا ہے اور فقط سیاہ رنگ کو پورے کینوس پہ پینٹ کر ڈالتا ہے ۔
سیاہ ۔۔۔۔۔ یہ رنگ بڑی خصوصیات کا حامل ہے ۔ اس کے اندر سات رنگ چھپے ہیں ۔ اگر کوئی کھوج لگا لے تو سب رنگ پا لیتا ہے لیکن جو ہمت ہار جاتے ہیں وہ فقط ایک رنگ پاتے ہیں ۔۔سیاہ ۔ ابلیس نے گناہ کر ڈالا ۔۔۔ آدم نے بھی کیا تھا ۔ گناہ اہم نہیں گناہ کے بعد والے حالات اصل میں گناہ کا تعین کرتے ہیں ۔ گناہ کے بعد دل کے زیغ کا حال کھلتا ہے ۔ جو گناہ کر کے بھی پچھتاتے نہیں ، جن کے دل گناہ کے بعد کانپ نہیں اٹھتے جو گناہ پہ ندامت کے آنسو نہیں بہاتے وہ ہدایت کے حق دار ٹہرانے کے لائق نہیں ۔ اور وہ دل جو فرض کر لیتے ہیں اب گناہ ہو چکا اب راستے بند ہیں واپسی کا کوئی در نہیں زندگی اسی گناہ کی فٹ پاتھ پہ گزارنی ہے ۔۔۔۔ گھر کے دروازے بند ہو گئے اور بھولے سے بھی ہاتھ اٹھا کے دستک نہیں دیتا کیا خبر کوئی منتظر ہو اس کے لوٹ آنے کا ۔ یہ ایسی خود اذیتی میں مبتلا رہتے ہیں جن کا درد ہی ان کی لذت بن جاتا ہے ۔ یہ گناہوں کے ساتھ سمجھوتہ کر بیٹھتے ہیں ۔ اور باقی کی زندگی انھیں گلے لگائے تمام کر دیتے ہیں ۔ ہدایت بڑی ناک والی ہے خود سے چل کے نہیں آتی ۔ اسے ہاتھ سے تھام کے لانا پڑتا ہے ایک بار آجائے تو اپنی جگہ بناڈالتی ہے ۔ لیکن ترلے منتیں کرنے ہوںگے تب آنے کو راضی ہوگی ۔ کچھ دل سخت چٹانوں جیسے ہوتے ہیں بظاہر سخت لیکن بھربھری چٹانیں ۔ جن پہ پانی پڑتا ہے تو ریزہ ریزہ ہوجاتی ہیں یہی خیر اور بھلائی لیے ہوئے ہیں ۔ کچھ دل آوارہ بھی ہوتے ہیں ۔ کبھی ہدایت کبھی گمراہی ۔
جب مایوسی کی سیاہی گہری ہو جاتی ہے تو یہ مایوس زندگی کی ہر خوشی خود پہ حرام کر بیٹھتے ہیں ۔ میں نے اس سال ٹاپ کیوں نہیں کیا ۔ اب میں دنیا سے بیزار ناکام نامراد منہ بسورتی زندگی گزار دوں گی ۔۔۔ کیا اب میں کبھی مسکرا بھی سکتی ہوں ؟ نہیں نہیں میری مسکراہٹیں روٹھ چکی ہیں ۔ زندگی تو نام ہی ٹاپ کرنے کا تھا اب کیا بچا ۔ میری محبوبہ مجھ سے روٹھ چکی ہے اب میں زندگی کا خاتمہ چاہتا ہوں میں اس کے بغیر جی نہیں سکتا ۔ نئے کپڑے بدل کے جاؤں کہاں قسم کے حالات میں گھرا یہ عاشق نامراد زندگی کی باقی تمام نعمتوں کو خود پہ حرام تصور کرتا ہے ، خوشی تو فقط ایک ہی چیز کا نام ہے جہاں وہ مطلوبہ ایک چیز نہ ملے وہاں قسم کھا لیں باقی سب بھی نہیں چاہیئے ۔۔۔۔ جس دن باقی سب نہ ہوا لگ پتہ جانا ہے ۔۔ یہ مایوسی کے دھبے ہیں اور ان کی دھلائی کار گراں است ۔۔۔۔۔۔۔بعض ناہنجار تو ان ہی دھبوں میں عمر تمام کرنے کی ٹھانے رہتے ہیں ۔ لیکن بعضے دوسرے صفائی کو مقدم جانتے ہیں ۔۔۔ اب یہ دھلیں تو دھلیں کیسے ۔۔۔ یہ تمہید اس لئیے ہر گز نہیں باندھی گئی کہ میری پھپو کے بیٹے کی محبوبہ اسے چھوڑ کے چلی گئی ہے نہ ہی اس تمہید کا مقصد خود کو فلسفی و صوفی ظاہر کرنے کا ہے ۔ اس رام کتھا کا سبب کچھ اور ہے ۔
ساتھیو ! یہ کہانی ہے اس دور کی جب ہم مومن یا مومنہ ( اپنی سہولت کی خاطر جو آپ کو مناسب لگے سمجھ لیں ) ہوا کرتے تھے ۔ عبادتوں میں لذت تھی اور سیکھنے کا عمل پروان چڑھ رہا تھا ۔ جب تک انسان زندگی میں سیکھنے کے عمل سے گزرتا رہتا ہے وہ عجیب سر خوشی میں مبتلا رہتا ہے ۔ سیکھنا ہی اسے عمل کی تحریک دیتا ہے ۔ اور تاریخ گواہ ہے جب تحریک نہ رہے تو عمل بے عمل ہوجاتا ہے ۔ روز قرآن و حدیث کا علم ہوتا حالات حاضرہ پہ تبادلے ہوتے ان ہی حالات کو قرآن حدیث کے تناظر میں دیکھا جاتا ۔ لمبے لمبے دقیق علمی مباحثے جوش و خروش کو ہوا دیتے اور ہمیں لگتا دنیا ہمارے ہی کاندھوں پہ کھڑی ہے یہاں ہم نے جھٹکا دیا وہاں دنیا گری کہ گری ۔ فلسفہ’ منطق’ علم الکلام جانے کیا کیا موضوعات تھے جن پہ ہم قادر الکلام تھے ۔ آج بھی سوتے میں سے جگا کے تقریر کروا لیجیے مجمع گرفت میں کر کے دم لیں ۔ جہاں کلام میں ربط نہ رہے الطاف حسین کی طرح آواز کے زیر و بم کو کام لے آئیں گے ۔
گفتار کے غازی تھے ضرور کردار کی ایکٹنگ کر لیتے تھے خود کو بھی دھوکہ دیے رکھتے لوگوں کی واہ واہ کے بھی حق دار ۔ زندگی کی سبک خرام ندیا بہتی رہتی …….. اچانک سیکھنے کا عمل رکا جہاں سیکھنا رکا وہاں عمل کو جیسے تیسے نبھانے کا ڈرامہ کیئے رہے ۔ لیکن اچانک مایوسی کا ننھا ڈراپ گر گیا ۔ چھوٹا سا قطرہ سمجھ کے نظر انداز کیئیے رہے لیکن پھیلتے پھیلتے سب رنگوں کو ڈھانپ گیا ۔ آنکھوں کے آگے بھی سیاہ رنگ کا اندھیرا چھا گیا ۔ اندھے کو دکھائی بھی دے تو کیا ؟ اندھا تو بھائیو اندھیرا ہی دیکھے گا نا ؟ ( بھائیو سے اس لئیے پوچھا کہ جانتے تھے بہنیں مخالفت کریں گی ) اور جب اندھیرا دیکھتے دیکھتے اوب گئے تو کچھ ساتھیوں سے پوچھ تاچھ کی دیکھیے جناب آپ ذرا دیکھ کے بتا دیجیے باہر کی دنیا میں اندھیر کیوں مچا پڑا ہے ۔ ہاہوکار مچ گئی ۔۔۔۔ بھانت بھانت کی بولیاں ۔ کہاں اندھیر ہے ؟ ارے ہاں ہاں درست فرماتی ہیں اندھیر ہی تو ہے ۔ جتنے منہ اتنی باتیں ۔۔۔اندھی ہاتھ ٹٹولتی رہ گئی ۔
کسی اللہ مارے کو خیال نہ آیا بڑھیا کی آنکھوں پہ غور فرما لے اندھی تو نہیں ۔ زندگی ایسے ہی گزر جانے والی تھی لیکن آہ نیم شبی نے تھام لیا ۔ جیسے اندھیرے کا ایک دھبہ پورے وجود کو سیاہی میں رنگ ڈالتا ہے ایسے ہی روشنی کی کرن ذرہ ذرہ ماحول پہ پھیل کے سب روشن چمکیلا بنا ڈالتی ہے ۔ آنکھ کا اندھا دل کے اندھے سے بہتر ہے ۔ دل کا اندھا نیم شبی کی آہ پا لے تو دیدہ بینا ہوجاتی ہے ۔ روشنی کی کرن درزوں سے بھی اندر جھانک کے دروازے کھولنے پہ مجبور کر ڈالتی ہے لیکن شرط اتنی ہے کہ اندر ہدایت کا بیج موجود ہو ۔۔۔ یہ بات اہم نہیں کہ تناور درخت کیوں نہیں ۔۔۔۔ ہم اسی غم کو روتے رہے ارے بیج بڑھتا کیوں نہیں ۔ فلاں نیکیوں میں سبقت لے گیا فلاں کے درخت سے مزید پیڑ پودے لگ گئے ہمارا بیج ہے کہ کونپل پھوٹتی نہیں ۔ بیج تو لگ گیا تھا پانی روشنی خوراک کا مناسب بندو بست نہ کر پائے اور مایوس ہو کے بیٹھ رہے ۔
فلاں دنیا بھی لے گیا جنت بھی ۔۔۔۔۔ جاؤ ہم نہیں بولتے ۔ فلاں محنتی تھا ، ہم نکمے ٹہرے ۔ ہم سے اتنی مشقت ہوتی نہیں ۔ اب جان لیا جتنی کر سکتے ہیں اتنا تو کریں ۔ ایک جست میں اڑنا اچھی بات نہیں ۔ مایوسی دھونے کا ومل شروع کر ڈالیے آنکھوں نے بھی لوٹ آنا ہے ۔ ہم نے تو فقط یہی سیکھا آپ کی آپ جانیں ۔ رب رکھا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں