حجاب میری حیات کاحصہ بنامگرکیسے؟ – حمادیہ صفدر




نمرہ تفریح کےوقت اپنی دوستوں کے ساتھ کیٹین پراشیا خرید رہی تھی ۔ وہاں لڑکیوں کا شدید رش تھا ۔ اورایسےمحسوس ہورہا تھا کہ نمرہ کے ہر ہر عضو سے پسینے کے قطرات جاری ہیں کیونکہ اس نے ہاتھوں میں دستانے اورپاؤں میں جرابیں پہننے کے بعد جوگر بھی پہن رکھےتھے۔
حالانکہ گرمی میں کوئی طالبہ بھی اس حالت میں نہ ہوتی تھی۔اس کی دوستیں اس پربہت حیران تھیں کہ نمرہ کس طرح سدھرگئی ۔ لیکن چھ ماہ کےعرصےمیں چاہنےکےباوجودکسی نےپوچھنےکی جسارت نہ کی کہ اسےبرانہ لگ جاۓ۔ آج توانھوں نےارادہ کیاکہ ہرصورت پوچھ کرہی رہناہے۔ سب دوستوں نے آپس میں پروگرام بنایا کہ آج ہم نمرہ سے ضرور پوچھ لیں گے ۔ جب نمرہ آئی توطیبہ نے پوچھا …… نمرہ تم برا مت منانا تم سےایک بات پوچھنا چاہتی ہوں ۔ جی میری بہن کیا پوچھنا ہے پوچھ لیں ۔ طیبہ بولی ، نمرہ تم کس طرح حجاب کرنے لگ گئیں ؟ حالانکہ تم وہی ہو ناں کہ ہم کہا کرتے تھے کہ سب دوستیں گاؤن پہنتی ہیں حجاب کرتی ہیں تو تم بھی کیا کرو تو تم نے کہا تھا ۔
“میں فرینڈز گروپ توچھوڑسکتی ہوں لیکن حجاب نہیں کرسکتی ۔ آپ جانتےہوناں کہ میں ماڈرن خاندان کی ماڈرن لڑکی ہوں توحجاب مجھ پرمگرکیسے” ؟؟؟؟؟؟؟؟ نمرہ سن کرمسکرادی اوربولی ۔۔۔۔ طیبہ میرے دل کی چاہت ہے کہ ہرفرد مجھ سے یہ سوال کرے اور یہ میں بہت اچھا محسوس کرتی ہوں ہوسکتا …… میری یہ داستان سن کر بھی کوئی راہِ راست پرآجائے۔ اچھا اب میں آپ سب کو بتاتی ہوں کہ
“حجاب میری حیات کاحصہ کیسےبنا”؟
یہ ان دنوں کی بات ہےجب میں سپیشلائزیشن کیلیےامریکہ گئ ۔وہاں میرےچاچوکی رہائش ہےتومیں نےان کےپاس رہ کرپڑھناتھا۔یونیورسٹی کے لیے میں بس کے ذریعے سفرکرتی تھی ۔ ایک دن ایک لڑکی سوار ہوئی اور اس کا حلیہ تم لوگ یقین کرو ، وہ امریکن لڑکی تھی جو کہ گاؤن پہن کرحجاب کیے ہوۓ تھی ۔ اور وہ ہاتھ میں کتاب نما چیز ہاتھ میں مؤدبانہ تھامے ہوۓ تھی اوراسے اپنے حجابی سٹالر میں چھپایا ہوا تھا ۔ ڈرائیور پاکستانی تھا وہ بھی اسے دیکھ کر بہت حیران ہوا ۔ میں تو پوچھتے ہوۓ جھجھکی لیکن ڈرائیورنے اس سے پوچھ ہی لیا کہ تم کہاں کی رہائشی ہو۔ میں امیریکن ہی ہوں اس نےجوابًا کہا۔ یہ تم نے کیا چیز پکڑی ہوئی ؟ ڈرائیورنےسوال کیا ۔ اس نے دکھایا وہ ترجمے والا قرآن تھا ۔ اس نے بتایا کہ میں ترجمہ جانتی تونہیں مگرترجمے والےقرآن سے ہی پڑھ کرعمل کی کوشش ضرورکرتی ہوں۔
اور بتایا کہ آج تک مجھےجو ملا ہے اس قرآن کی بدولت ملا ہے ۔ اسی قرآن نے مجھے حیا اور غیرت کا سبق سکھایا ۔ مجھے گاؤن / رداۓ حیا میں چھپایا تو اس قرآن نے ۔ دنیا کی ہر چیز کو حقیقت کی نگاہ سے دیکھنے کا شرف مجھے قرآن سے ملا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اور آج بھی کوئی بھلائی چاہتا ہے تو قرآن کو سینے سے لگا لے ۔ میں اسکی یہ گفتگوسن کرحیران اورپشیمان ہوئی کہ میں ایک آزادملک میں رہ کراپنےبدن پرقرآن کےاحکام نافذ نہ کر سکی اوروہ انگریزوں کےملک میں رہ اسی قرآن کو پڑھ کر فلاح کی راہوں پر ہے ۔۔۔۔۔۔ نمرہ نے اپنی راۓ ظاہر کی ۔ آپ لوگ جانتے توہوناں کہ مجھے وہاں کی آب و ہوا راس نہیں آئی اورکچھ دنوں بعد پاکستان واپس آنا پڑا اگرچہ سپیشلائزیشن نہ کرسکی لیکن
میں اُس رب کی بہت مشکورہوں کہ اس نے مجھےکس طرح ہدایت دی ۔ اورکبھی کبھی میرےزہن میں یہ بات آتی ہےکہ شاید وہ سفر میرے لیے باعثِ ہدایت ہی تھا ۔ اوراب میں بھی قرآن مع ترجمہ پڑھتی ہوں اور جس قدرالله توفیق دےعمل کی کوشش بھی کرتی ہوں ۔ اور اسی کی وجہ سےمیں پردہ بھی کرنےلگ گئی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الحمدللہ ۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں