دل ہے جوگی میرا – قانتہ رابعہ




تین سال کی مدت کم نہیں ہوتی …….. شروع میں علینہ نے خوشی سے قربانی دی . پھر سال پورا سمجھوتہ کیا اور تیسرا سال تو برداشت ، کراہت اور اذیت کا تھا ۔ ایک ایک پل گزارنا مشکل تھا ۔ دونوں کی عادتوں میں زمین آسمان کا فرق تھا ۔ علینہ نرم خو اور متحمل مزاج تھی مگر اب اس کی نرم مزاجی اور بردباری لگتا ہے کسی گندے نالے میں بہہ چکی تھی ۔

دن رات ایک ہی طریقہ سے زندگی بسر کر کر کے اس کے اعصاب شل ہو چکے تھے ۔ اسے لگتا تھا کہ مشترکہ خاندانی نظام نرا سیاپا ہے اپنے چاروں طرف اس نے مشترکہ خاندانی نظام کی بے برکتیں ہی دیکھی تھیں اپنی چچا زاد ، ماموں زاد ، خالہ زاد بہنوں کو مشترکہ خاندانی نظام کے ہاتھوں تباہی ہوتے دیکھا تھا ۔ جہاں ان کے لقمے تک گنے جاتے ۔ سی سی وی کیمرہ نہ ہوتے ہوئے بھی ان کی ہر حرکت سارے گھر میں مانیٹر ہوتی میکے تک جانے کے لیے اجازت کی محتاج تھی۔۔ علینہ نے بھی رو رو کے دعائیں مانگی تھیں ، یااللہ مجھے مشترکہ خاندانی نظام سے بچانا ۔ میرے اندر تو ہمت ہی نہیں کہ چوبیس گھنٹے اپنے آپ کو چوراہے پر کھڑا دیکھوں،، اس کی دعا اور من کی مراد پوری ہو گئی ۔ سسرال میں صرف اور صرف سسر اور اس کا میاں …… بس دو ۔ تیسری وہ خود ہوگی ۔ رشتہ طے ہوا تو اس نے میک اپ سیکھنے کے لئے تین ماہ کا کورس کیا ، اس نے دیسی ، چائینیز اور اللہ جانے کون کون سے کھانے سیکھنے کا بھی کورس کیا ۔ بس جس طرح بھی ہو اسے شوہر کے دل تک پہنچنا ہے خواہ آنکھیں ہوں یا معدہ ۔ پچیس اکتوبر کی شام میں اس کی بارات آئی ۔

تگڑا حق مہر ، اس کی بہنوں کے لیے سونے کے جھمکے اس کی امی کے لیے بریسلیٹ۔ یعنی جو لڑکی والوں کو کرنا چاہئیے تھا وہ لڑکے اور اس کے باپ نے کیا اس کی بہنیں اس کی رخصتی پر مغموم نہیں تھیں ۔ مسکراتے ہوے ان کی باچھیں کھلی جا رہی تھیں انہیں بڑے بہنوی نے ڈھیلا نہیں دیا تھا انہوں نے بیٹھے بٹھائے مالا مال کردیا ۔۔اور سمجھداری دیکھو ۔ رونمائی کرنسی میں نہیں دی جس کا ریٹ گرتا ہی رہے ۔۔بلکہ سونا ۔۔اوپر ۔۔ اور اوپر جانے والی جنس ۔۔۔بہنوی بھی ہنس مکھ اور خوبصورت۔۔۔رخصتی تک علینہ کے لیے مرد کا دل بنے سنورے وجود اور خوب اشتہاری انگیز کھانے کی پلیٹ پر جیتا جا سکتا ہے کا نظریہ تھا مگر چند ہی دنوں میں اسے بہت اچھی طرح پتہ چل گیا …….مرد کو کچھ اور بھی چاہئیے ہوتا ہے۔ اسےبیوی کی شکل میں داستان گو ، محبوبہ اور ماہر نفسیات بھی درکار ہوتی ہے شروع میں تو اس نے اتنا خیال نہ کیا مگر جوں جوں دن گزرتے گئے۔ اسے اپنے شوہر جواد کو گھر میں داخل ہوتے دیکھ کے ہول پڑنے لگا جاتے ۔۔ وہ اپنے آپ کو حتی الامکان مصروف دکھائی دینے کی کوشش کرتی ۔ کبھی طبیعت کی ناسازی مگر اس کی دال نہ گلتی .

سسر تو بس اللہ لوک تھے ناشتہ کرکے دکان پر جاتے اور رات گئیے واپسی ہوتی اکیلے گھر میں وہ بولائی پھرتی کہاں ایسا سوراخ ہو کہ وہ مکھی بن۔کر گھس جائے صبح،دوپہر ،شام رات ،آدھی رات جب جواد کا دل چاہتا اسے بلا لیتا جب دل چاہتا اور جب تک چاہتا بس وہ کسی اور قابل نہ رہتی ۔ آہستہ آہستہ علینہ جو مشترکہ خاندان کی برکات سمجھ میں آنا شروع ہوگئیں ۔ کبھی نہ کبھی تو بندہ ماں بہنوں کی شرم کر لیتا ہے ۔ کبھی تو جان بخشی کی کوئی دوسرا بھی صورت پیدا کرسکتا ہے ۔
بازو پکڑ کر بیڈ روم میں لے جانے تک کسی کی کوئی بات بھی زنجیر بن سکتی ہے۔ کسی کی بیماری کسی کو ہسپتال لے کے جانا یہاں تو کچھ بھی نہیں ۔ کوئی اچھا یا برا کہنے والا بھی نہیں ۔ ایک ایک کرکے اسے وہ سہیلیاں یاد آنے لگیں جو فخریہ انداز میں بتایا کرتی تھیں کہ ان کی ساس اپنے بیٹے کے مقابلے میں بہو کی حمائت کرتی ہیں ۔ دوسرا سال اے کاش اے کاش کر کے ہی نکلا ۔ تیسرے سال میں اس پر بیزاری ناگواری مسلط ہو گئی ۔ میں ہی کیوں؟؟ وہ چڑ جاتی ۔۔۔ پھر اسے اللہ نے امومیت کے لیے چنا مگر بچہ ماں کے پیٹ میں ہی قبر بنا بیٹھا ۔

دوسروں کے بچے پیدا ہو کے مرتے ہیں اس کا بے بی پہلے ہی مرگیا ۔ سینے سے لگا کے سانس کی گرمی بھی محسوس نہ کی ۔ بچے کی آنکھوں کی رنگت بھی نہیں دیکھ پائی سبز تھیں یا کالی ۔ اس نے رو رو کے اپنے آپ کو ختم کرلیا ماں سمجھاتی ۔ پیار کرتی ماتھے کے بال پیچھے کرکے بوسہ دیتی ، دیکھو علینہ میرے بھی تو تین بچے مرے ہیں میں تو صبر بھی کرتی ہوں اور موجود بچوں پر شکر بھی بچے کی موت کو مہینہ بمشکل گزرا ہوگا . نماز کی ادائیگی بھی اس نے چھپ کر ہی شروع کی مگر دھر لی گئی ۔ تم نے بتایا کیوں نہیں کہ تم اب ٹھیک ہو …….. جواد غرایا مجھے نفرت ہوگئی ہے . دنیا کے ہر کام سے وہ بھی حلق کے بل چلائی ۔ پھر ماں کی موجودگی کا خیال کیا نہ سسر کی بیماری کا دونوں میں خوب جنگ ہوئی .غلاظت بھرے جملے ۔ طنزیہ لہجہ ۔۔۔۔علینہ دھاڑیں مار مار کے روئی ۔ آدھی رات میں وہ بیگ گھسیٹتے ہوئے کمرے سے باہر آئی . امی مجھے نہیں رہنا یہاں مجھے ڈپریشن ہوجائے گا ۔ مر جاؤں گی میں ۔ وہ ماں کی گود میں سر رکھ کے رونے لگی۔ جواد بھی پیچھے ہی آیا ۔ سفاک لہجہ اور سپاٹ چہرہ لے جائیے اپنی راج دلاری کو ۔ کسی شو کیس میں رکھ کے سجا لیں اسے …….. ماں کا چہرہ ایکدم ہی جھریوں سے بھر گیا . نہیں جواد بیٹا یہ تو ہمیشہ تمہاری بہت تعریف کرتی ہے ۔ بس بچے کے دکھ میں باولی ہورہی ہے ۔۔ ،،انہوں نے داماد کو پاس بٹھایا ۔۔دونوں سے بہت دیر باتیں کیں ۔۔۔

ٹھیک ہے سمجھا لیجئیے ۔۔سمجھ جاے تو ٹھیک وگرنہ جانا چاہے تو میں نہیں روکوں گا اسے ،،جواد جماہیاں لیتا اپنے کمرے میں چلا گیا ۔
ممتا نے گرم دودھ کا گلاس ہاتھوں میں دیا۔ ۔ بیٹے مجھے لگتا ہے کہ تم دونوں کے درمیان کچھ اور مسئلہ ہے،،جھجھکتے ہوے انہوں نے پوچھا علینہ خالی نظروں سے ماں کو دیکھا ۔ علینہ میری بیٹی اپنی امی کو نہیں بتاؤ گی ۔۔کیا خرچہ نہیں دیتا یا غصہ کرتا ہے بتاؤ تو ۔۔،،امی نے اسے پچکارا وہ خالی خولی ادھر ادھر دیکھتی رہی ۔۔پھر ٹھنڈا سانس لیا گرم گرم ابلتے آنسو انگاروں کی طرح اس کے چہرے پر گرے ،،امی ہر چیز کا خیال رکھتے ہیں بس مجھ سے وہ کچھ نہیں ہوتا جو کسی بھی وقت ان کے سر پر سوار ہوجاتا ہے۔۔۔میں تھک گئی ہوں ۔ مجھے لگتا ہے میری زندگی کا کوی اور مقصد ہی نہیں . امی کے ہونٹوں کے کناروں پر اطمینان بھری مسکراہٹ آی ،بس اتنی سی بات ۔۔تمہیں شائد پتہ نہیں آدم ، جنت میں اکیلے تھے تو دوسراہٹ حوا سے ملی تھی جو آدم علیہ السلام کی پاؤں یا سر سے پیدا نہیں کی گئی بلکہ پسلی سے ۔۔جانتی ہو کیوں … اس لیے میری بیٹی کہ پسلیوں میں دل ہوتا ہے سر سے پیدا ہوتی تو چار دن میں تاج اتار کے پھنک دیا جاتا ۔۔

پاوں کی جوتی ہوتی تو کسی کام۔کی نہ رہتی وہ دل کے قریب سے پیدا کی گئی ہے کہ دل۔کے پاس رکھو ۔۔ دل ۔یں عورت وہی بستی ہے جو مرد کی دلجوئی کرتی ہے ۔۔۔دلجوئی تو بازاری عورت بھی کرتی ہے ۔۔مرد کی ضرورت بھی پوری کرتی ہے مگر وہ اس کام کے پیسے وصول کرتی ہے اور بیوی اس کام کے بدلے میں عزت وصول کرتی ہے کیا بازاری عورت اور طوائف کا ایک جیسا مقام مرتبہ ہوتا ہے ؟؟ انہوں نے علینہ سے سوال کیا ..اور اچھی عورت وہی ہے جو اپنی سوکھی سڑی انا کو وقتی طور پر مار لے مرد ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا بہت جلد برائی کے گڑھے میں گرنے کو بھی تیار اور اچھائی کے اونچے درجے کو بھی ہاتھ لگا لیتا ہے
اصل میں تو تم دونوں کے درمیان انڈر سٹینڈنگ نہیں ہوی ۔۔۔تم نے یہ کیوں سوچا کہ یہ کسی بھی وقت کیوں ۔۔ارے اللہ نے نہیں کہا ۔۔مرد قوام ہے اسکو قوام بنانے کے لیے گھر سے سکون چاہئیے۔۔ یہ واحد چیز ہے جو اسے گھر سے ملے تو وہ مضبوط ہوجاتا ہے اور یہ ہی وہ چیز ہے جو اسے بازاری عورت نہیں دے سکتی ۔۔۔جس سے مرد خوش عورت بھی وقتی طور پر ساتھ میں ہنس بول کے تو کیا حرج ہے یاد رکھو مرد کو سڑک دکھاؤ گی تو پچھتاؤ گی ۔۔اپنی کام والی شہناز کو دیکھو ۔۔سکول کا منہ نہیں دیکھا۔۔

۔کسی ادارے سے ازدواجی زندگی گزارنے کا ڈپلومہ نہیں لیا لیکن جب بھی اس کا میاں اسے لینے آتا ہے اس کا چہرہ مسکرانے لگتا ہے ۔۔۔وہ ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر جاتے ہیں ۔۔۔جب جہاں اس کا میاں چھوڑنے آتا ہے تو پندرہ بیس منٹ دونوں دروازے کے باہر ہنستے بولتے رہتے ہیں ،مجھے ان پر رشک آتا ہے انہوں نے ایک دوسرے کو سمجھ لیا ہے .فطرت تو ہر میاں بیوی کی کبھی بھی ایک جیسی نہیں ہوتی ۔۔اگر تمہارا میاں گٹر کا گندہ پانی پینے کی بجاے صاف شفاف پانی پینا چاہتا ہے تو اسے گندے پانی کی طرف مت بھیجو ۔۔گناہگار ہوجاو گی ۔۔اور یاد رکھو ابلیس کا بھی ہوا زور ازدواجی زندگی کو منتشر کرنے میں لگتا ہے ۔۔کثرت سے ذکر اذکار کرو ۔۔تم تو شکر ادا کرو کہ تمہارے پاس وہ آنا چاہتا ہے کیا تمہیں گھر بار کی مکہ بنانے کے بعد اختیار سونپنے کے بعد تمہاری دل پسند کی ہر چیز لینے کے بعد وہ اتنا حق بھی نہیں رکھتا ۔ ،،بہت ناسمجھ ہو تم۔۔امی نا سمجھ نہیں۔۔ ،،علینہ نے بات شروع کی اور امی نے کاٹ دی ۔۔نا سمجھ ہو مرد کو جس چیز کی ضرورت ہے۔۔اپنی عورت سے پوری نہیں ہوسکتی تو دوسری کے پاس جاے گا خواہ نکاح کر کے جاے یا ویسے ہی منہ ماری کرے ۔۔تو کیا تم سوکن برداشت کر لو گی ؟! امی نے سوال کیا بلکہ گولا داغ دیا علینہ اندر سے ہل گئی۔۔نہیں امی ۔۔بے اختیار اس کے منہ سے نکلا ۔۔۔

تو پھر بیٹا سمجھ جاؤ عورت اور مرد بنے ہی ایک دوسرے کے لیئے ہیں ۔ اور نبیوں ولیوں نے بھی یہی سبق سکھایا ہے ۔ اونچ نیچ ہو بھی تو صبر کرو مرد باہر کی دنیا کی ہر جنگ لڑی سکتا ہے مگر گھر میں نہیں عورت ہر تکلیف برداشت کر سکتی ہے جہاں تک کہ پہاڑوں کے سینے شق کرنے والی دردزہ بھی ۔ تو کیا مودت اور محبت کے لیے ضروری نہیں کہ ایک دوسرے کو سمجھو جانو اور پھر جو کرنا ہے کرو ایکدم ہی علینہ کے چہرے پر شرمیلہ سی مسکراہٹ آئی ۔ اچھا امی آپ میرے لیے دعا کرتی رہئیے ۔ وہ ماں کے ہاتھ کی پشت پر بوسہ دے کے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہوگئی ۔ چند لمحوں کے بعد جب وہ اپنے اوپر جواد کی پسند کی پرفیوم سپرے کرکے اور لپ ۔ اسٹک لگا کے کمرے میں داخل ہو رہی تھی تو ماں کی نظروں نے جھک کر اسی وقت شکر ادا کر لیا تھا ÷

اپنا تبصرہ بھیجیں