دلوں کا اطمینان – سیدہ ابیحہ مریم




اس نے سر اٹھا کر نیلے اور صاف شفاف آسمان پر اڑتے پرندوں کو دیکھا ۔ پھرسورج کو جو زمین والوں کو خیرباد کہنے کی تیاری کررہا تھا ………. اور پھر اس چھوٹے سے لان اور اس کے پھولوں کو ، جس میں موجود ایک کرسی پر وہ خود براجمان تھی ۔ پھر ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے گردن موڑی اور راہداری کے ادھ کھلے دروازے سے نظر آنے والی اپنی بہن کو دیکھا جو اسٹڈی ٹیبل پر کتابیں پھیلائے بیٹھی یقیناً اپنے ٹیسٹ کی تیاری کررہی تھی ۔

اگلی نگاہ چھوٹے بہن بھائیوں پر پڑی جو پکڑم پکڑائی کھیل کر تھک جانے کے باعث اس سے تھوڑے فاصلے پر گھاس پر بیٹھے تھے ۔ اسی اثنا میں ٹی وی لاؤنج سے باہر آتے ہوئے بابا سے نگاہ ملی تو بے اختیار مسکراہٹ اس کے چہرے پر امڈ آئی ۔ اور اس کی امی ……. ہاں اس کی امی اس وقت کچن میں کھڑی اسکی فرمائش پر سموسے تل رہی تھیں ۔ وہ مسکرائی ، پھر اس نے سر کو کرسی کی پشت پر ٹکا لیا اور آنکھیں موند لیں ۔ یوں جیسے نیند کی وادیوں میں کھو گئی ہو لیکن نیند تو اس وقت آتی ہے جب دل و دماغ مطمئن ہوتا ہے اور مِرحہ مبین مطمئن کہاں تھی۔۔۔ وہ اطمینان کی متلاشی تھی۔ کس چیز کی کمی تھی مرحہ کو۔۔؟ سر پر چھت تھی۔۔۔ مسکراہٹ کی وجہ بننے والے بہن بھائی تھے۔۔۔ اپنا تن من دھن اس پر قربان کرنے والے والدین تھے۔۔۔ اور بہترین تعلیمی ادارے میں زیرِتعلیم تھی۔۔۔ دولت، عزت، محبت سب تھا۔۔۔ اگر نہیں تھا تو بس سکون و اطمینان نہیں تھا۔

ہر کام بے حد جلد بازی میں ہوتا تھا ۔ کبھی کسی رشتہ دار سے خفگی تو کبھی کسی دوست سے ناراضگی ۔ کبھی ٹیسٹ کی تیاری تو کبھی انسٹیٹیوٹ کے کسی فنکشن کی ذمہ داریوں کی ادئیگی ……… اور بغیر کسی پریشانی کے بھی اسے لگتا تھا جیسے کچھ کم تھا ، کچھ غلط تھا اس کی زندگی میں ۔ اس نے ماضی میں جھانکا تو احساس ہوا کہ گزشتہ کئی مہینے سے زندگی ایک ہی ڈگر پر چلی جا رہی تھی ۔ عجیب بے چینی سی بے چینی تھی ۔ اس نے اس سے پہلے کبھی اس بارے میں نہیں سوچا تھا لیکن آج آنکھیں موندے اسے احساس ہورہا تھا کہ اللہ تعالی کی کتنی نعمتیں ہیں اس کے پاس ۔ پھر یہ جلدبازی کیوں تھی زندگی میں ۔ اس وقت یہ احساس اسے چاروں طرف سے گھیرے ہوئے تھا کہ کہیں کچھ غلط ہے۔۔۔ وہ کچھ غلطی کر رہی ہے شاید ۔۔۔ خیالات کے اس تسلسسل میں رکاوٹ بنی تھی وہ خوش الحان آواز جو پڑوسیوں کے گھرسے گونج رہی تھی۔ وہ بے حد خوبصورت آواز تھی ۔۔۔

دل موہ لینے والی آواز اور اس آواز سے زیادہ اطمینان بخش کلامِ پاک کی وہ آیات تھیں ، جن کی تلاوت قاری صاحب اس وقت طرز کے ساتھ کررہے تھا ۔ وہ تلاوت یقیناً انہوں نے اسپیکر پر لگائی ہوئی تھی ۔۔۔ وہ ریکارڈڈ تھی ۔ کون سی سورت تھی اور کون سے قاری ۔۔۔ ؟ اس بات سے بےخبر وہ گم صم بیٹھی آنکھیں بند کیئے وہ تلاوت سن رہی تھی ۔ شاید خبر ہوتی اگر وہ باقاعدگی سے قرآن پاک پڑھنے والوں میں سے ہوتی۔ بہرحال اس میں اطمینان تھا ۔ سکون تھا ۔ وہی سکون جس کی وہ تلاش میں تھی۔ قاری صاحب چند آیات پڑھنے کے بعد ان کا ترجمہ پڑھ رہے تھے اور وہ بغور سن رہی تھی ۔ ایسے جیسے وہ آیات اس ہی کے لئیے لگائی گئی تھیں۔ اس کے دل کو سکون مل رہا تھا اور وہ تو یہی چاہتی تھی ۔۔۔

’’یہ لوگ جنہوں نے (رسالتِ محمدی کو ماننے سے) انکار کر دیا ہے؛ کہتے ہیں کہ’’اس شخص پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتری‘‘ کہو اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اسی کو دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے۔ ایسے ہی لوگ ہیں وہ جنہوں نے (اس نبی کی دعوت کو) مان لیا اور ان کے دلوں کو اللہ کی یاد سے اطمینان نصیب ہوتا ہے۔‘‘ قاری صاحب سانس لینے کے لئیے رکے اور مرحہ کو لگا کہ اس کی سانس آنا بند ہوگئی ہو۔

’خبردار رہو! اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے۔‘‘ قاری صاحب بالآخر ترجمہ پڑھنے کے بعد اب اگلی آیت کی عربی شروع کرچکے تھے لیکن اسے لگ رہا تھا جیسے آخری آیت کا ترجمہ کسی نے ری پلے کر دیا ہو۔
’’خبردار رہو! اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے۔‘‘ جب چوتھی بار اس آیت کا ترجمہ اس کے کانوں میں گونجا تو اس نے بےساختہ اپنے ہاتھ کان پر رکھ لیئے جیسے سمجھنا چاہ رہی ہو اس آیت کا مفہوم ۔۔۔ اس کا مقصد ۔۔۔ اور پھر بالآخر اسے سمجھ آگیا۔
مرحہ مبین کے اتنے بڑے مسئلے کا حل اس چھوٹی سی آیت میں تھا۔ وہ مسکرائی۔۔۔ تلاوت ختم ہو چکی تھی اور اللہ کا ذکر، اس کا کلام سننے کے بعد مرحہ مبین کو یقین ہو گیا تھا کہ:

اَلَا بِذِکْرِ الّلہ تَطْمَئِنَّ الْقلوْبْ ………….. ’’خبردار رہو! اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے۔”
ایک مدھم مگر مطمن مسکراہٹ کے ساتھ وہ گھاس پر بیٹھ گئی جہاں اس کے ابو اور بھائی بہن سموسے کھانے کی تیاری کر رہے تھے ، امی چائے نکال رہی تھیں اور وہ اپنے نظام الاوقات میں اللہ کے ذکر کے لئیے وقت نکالنے کا ارادہ کرہی تھی کیونکہ اسے دل کے اطمینان کی دل سے طلب تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں