شکر.. توکل.. اور صبر – شفا ہما




وہ پیچھے رہ گئی تھی ……. اسکا اونٹ لاغر و کمزور پڑ گیا تھا.. اس کے بچے گھر میں بھوکے تھے ……. اس کی ہم سفر سہیلیاں سفر میں اس سے آگے نکل گئی تھیں ……. وہ تھک گئی تھی ……. وہ بھوکی تھی ……..وہ امید اور نا امیدی کے درمیان ڈول رہی تھی …….. لیکن وہ جانتی تھی کہ اگر وہ رک گئی تو اس کے بچوں کی بھوک کا کیا ہوگا ……. وہ جب وہاں پہنچی تب تک اس کی سہیلیوں کو کام مل گیا تھا.

وہ سب اس سے پہلے پہنچ کر اپنے اپنے نصیب کا لے جاچکی تھیں . اس کے لیے اب وہاں کچھ باقی نہیں بچا تھا . بس ایک گھرانہ تھا جہاں ایک یتیم بچہ اپنی ماں کے ساتھ دایہ کا منتظر تھا . اس کی مجبوری تھی کہ وہ اس گھر میں ہی چلی جائے.. باقی گھروں کے بچے تو اس کی سہیلیوں نے لے لیے تھے . اس کے نصیب میں یہ غریب گھرانہ لکھا تھا . شکستہ دلی کے ساتھ اس نے اسی یتیم بچے کو گود لے لیا تھا جو اپنی ماں کے جینے کی واحد امید تھا. لیکن.. پیچھے رہ جانے نے اس پر برکتوں کے دروازے کھول گئے تھے.. اس بچے کو گود میں لیتے ہی وہ دنیا کی امیر ترین خاتون بن گئی تھی.. زمین اور آسمانوں اس کی قسمت پر نازاں و فرحاں ہوگئے تھے..

پیچھے رہ جانے نے اسے کرۂ ارض کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا..اپنی ہم جولیوں اور دوستوں میں پیچھے رہ جانا اس کے لیے سب سے آگے جانے کا سبب بن گیا تھا.. کیونکہ کامیابیاں اور برکتیں اللہ رب العالمین کے فضل اور رحمت سے ملا کرتی ہیں.. کسی کے آگے نکل جانے سے نہیں.. کسی کو پیچھے چھوڑ دینے سے نہیں..کامیابیاں شکر اور توکل والوں کے حصے میں آتی ہیں.. کسی کو دکھ دینے سے نہیں.. کسی کا دل توڑنے سے نہیں.. وہ حلیمہ سعدیہ تھیں. وہ اللہ رب العالمین کو بہت پیاری تھیں.. وہ پیچھے رہ کر بھی سب سے آگے نکل گئیں تھیں.. تم بھی اللہ تعالیٰ کو بہت پیاری ہو.. اگر تم آگے نہیں بڑھ پارہی.. اگر تم پیچھے رہ گئی ہو.. اگر تمھاری دوستیں تم سے آگے بڑھ گئی ہیں.. تو اپنا دل مت خراب کرو..

تمھارا اللہ تم پر بھی برکتوں کے دروازے کھول دے گا.. شکر.. توکل.. اور صبر. تم سے صرف کوشش مطلوب ہے اللہ کو. ہمیشہ کوشش کرنا کہ کسی کا دل توڑ کر آگے مت بڑھو. کامیابیاں دینا اللہ رب العالمین کے اختیار میں ہے. اور بے شک وہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کیا کرتا..

اپنا تبصرہ بھیجیں