انتظام – عشرت زاہد




کیا مصیبت ہے یار ……! جتنی جلدی پہنچنے کی کوشش کرو ، اتنی ہی دیر ہو جاتی ہے ۔ پتہ نہیں یہ بائک کو کیا ہوگیا ہے! بار بار رک رہی ہے ہے۔ اس روڈ پر ایک طرف کھڑے ہوکر پلگ نکال کر اس پر پھونک ماری ۔ پیٹرول کا پائپ نکال کر اس کو دھو کر دوبارہ فٹ کیا اور بسم اللہ کہہ کر دوبارہ سٹارٹ کی تو بائک چل پڑی تھی۔

اس نے اللہ کا شکر ادا کیا اور چلتے ہوئے اپنی پنک اور گرے کلر کی جیکٹ کی زپ اوپر کی۔ اس کو ہر صورت مغرب کی اذان سے پہلے ڈیلیوری دینی تھی۔ کلائنٹ نے کئی مرتبہ تاکید کی تھی۔ کچھ روزے کی بات کر رہے تھے انکل۔ اللہ کرے بہادر آباد چورنگی پر ٹریفک جام نہ ہو اور سگنل بھی کھلا ہوا مل جائے۔ ورنہ اگر وہاں پھنس گیا تو مسئلہ ہو جائے گا۔ مغرب تک نہیں پہنچ پاؤں گا۔ وہ دعا کر رہا تھا۔ مگر پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا ۔ چورنگی پر ٹریفک جام تو نہیں تھا مگر سگنل کی سرخ بتی اس کا منہ چڑا رہی تھی۔ اس نے پیر زمین پر رکھے۔ اس نے دونوں ہاتھ بغل میں دبائے تا کہ کچھ گرم ہو جائیں۔ آج بارش کی وجہ سے کچھ ٹھنڈ ہو گئ تھی۔ وہ ایک مشہور فوڈ چین کا رائٹر تھا۔ اس کی ذمہ داری تھی ، کہ آرڈر ملتے ہی مطلوبہ جگہ سے کھانا لے کر جلد از جلد کلائنٹ تک پہنچانا۔ اس کام میں سستی بالکل برداشت نہیں کی جاتی۔ کوئی بھی عذر یا بہانہ نہیں چلتا تھا۔

وہ اپنا کام بہت ذمہ داری سے اور جانفشانی سے کرتا تھا۔ کوتاہی کر ہی نہیں سکتا تھا ،کیونکہ فی الحال اس کو اس جاب کی اشد ضرورت تھی۔ وہ کسی بھی صورت اس کو گنوانے کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا ۔ 6 ماہ پہلے اس کے والد کا صرف 5 دن کے بخار میں اچانک انتقال ہو گیا تھا ۔ بعد میں ڈاکٹر نے ڈینگی کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ لیکن یہ انتقال کے بعد کی تشخیص تھی۔ جس کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ اس بے وقت کے حادثے سے ان کا خاندان بکھر کر رہ گیا تھا۔ تب سے ایک بہن، دو بھائی اور اس کی والدہ پر مشتمل یہ کنبہ اب تک بمشکل اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھے ہوئے تھا۔ بڑا بھائی انجینئرنگ کے آخری سال میں تھا۔ اور وہ خود کیمیکل انجینئر کا صرف ابھی پہلا سیمسٹر ہی مکمل کر سکا تھا۔ اس کے والد بھی انجینئر تھے اور وہ اپنے دونوں بیٹوں کو بھی اپنے ہی فیلڈ میں دیکھنا چاہتے تھے۔ بیٹے بھی ہونہار نکلے تھے۔ میرٹ پر دونوں کا این ای ڈی میں داخلہ ہو گیا تھا ۔

ابھی بڑا بیٹا اپنی تعلیم مکمل کرنے ہی والا تھا تھا کہ یہ ناگہانی حادثہ ہو گیا تھا۔ اس کی بہن ابھی نویں کلاس میں تھی۔ بچوں کے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کی خاطر اس کی امی بھی ایک پرائیویٹ اسکول میں جاب کر رہی تھیں۔ وہ مائکرو بائلوجی میں ماسٹرز کی ہوئ تھیں مگر اس لحاظ سے تنخواہ بہت کم تھی ۔ لیکن وہ بھی غنیمت تھا کہ نہ ہونے سے کچھ بہتر تھا۔ شام 5 بجے سے گھر میں میں ٹیوشن پڑھنے بچے آیا کرتے تھے ۔ امی اور بہن مل کر ٹیوشن پڑھایا کرتی تھیں ۔ دونوں بھائی بھی بچوں کو ان کے گھر جاکر پڑھایا کرتے تھے۔ تاکہ فیس کچھ بہتر مل جائے۔ اس سے زیادہ وہ نہیں کر سکتے تھے۔ کیونکہ ان کی اپنی بھی پڑھائی متاثر ہوسکتی تھی۔ ابو کے اچانک چلے جانے سے جو دھچکہ لگا تھا اس میں مالی مسائل سرفہرست تھے ۔

ابو کی تنخواہ تو رک ہی گئی تھی ۔ اور پرائیویٹ کمپنی میں ہونے کی وجہ سے واجبات بھی بس واجبی ہی تھے۔ وہ بھی کافی مراحل طے کرنے کے بعد ایک قلیل رقم کی صورت میں ملے تھے۔ جو ان کی سمسٹر کی فیس اور تین ماہ کے چڑھے ہوئے مکان کے کرائے کی نذر ہو گئے تھے۔ اب گھر کے اخراجات اور تعلیمی اخراجات کو پورا کرنا بہت مشکل ہو گیا تھا۔اسی لیے اس نے اس کمپنی میں پارٹ ٹائم جاب کر لی تھی۔ جو شام پانچ بجے سے شروع ہوتی تھی مگر ختم ہونے کا کوئی وقت مقرر نہیں تھا کبھی 12 بجے، کبھی ایک بجے، کبھی کبھار تو دو بھی بچ جاتے۔ گھر پر امی پریشان ہوتی رہتیں۔ امی کی جاب بھی چھوٹ چکی تھی۔ کیونکہ چھوٹی سی پرائویٹ اسکول والے، ان کی عدت مکمل ہونے تک یعنی چار ماہ دس دن تک انتظار نہیں کر سکتے تھے اور نہ ہی وہ اتنی لمبی چھٹی دے سکتے تھے۔۔ اس لئے انھوں نے معذرت کر لی تھی۔عدت مکمل ہونے کے بعد انہوں نے کئ جگہ درخواست دی تھی لیکن اب تک کہیں سے کال نہیں آئی تھی۔

وہ دن بھر مصروف رہنے کے بعد تھکا ھارا گھر پہنچتا۔ اس کے بے آرامی دیکھ کر ماں کے چہرے پر کرب کے جو آثار نظر آتے، ان کو وہ اکثر نظر انداز کر دیتا۔ کیونکہ ابھی کچھ سال تک یہ جدوجہد جاری رہنے والی تھی۔ کہیں یہ ہمدردی اس کے حوصلے کم نہ کر دے۔ یہ سوچ کر وہ امی سے بالکل غیر متعلق سوال کر دیتا جیسے،” امی بہت بھوک لگ رہی ہے۔ کیا بنا تھا آج؟” تھکن بھوک پر غالب آ رہی ہوتی تھی۔۔ اس وقت اس کو صرف بستر یاد آرہا ہوتا۔ مگر ایسے ہی سو جاتا تو ماں کی تکلیف میں اضافہ ہوجاتا۔ اس لئے وہ زبردستی تھوڑا بہت کھا لیتا۔ اسی طرح دن گزر رہے تھے۔ اب انتظار تھا بھائی کی تعلیم مکمل ہونے کا پھر اس کی جاب کا۔ تاکہ حالات کچھ بہتر ہو جائیں۔ اس کے ایک دوست نے جب اس جاب کے بارے میں بتایا تھا تو پہلے تو وہ ایک دم بھڑک اٹھا۔ “کیسی بات کرتے ہو تم؟ میں اور یہ رائڈر کی نوکری کروں گا؟؟”

“میرے بھائی ناراض کیوں ہوتے ہو؟”دوست نے کہا “اس وقت فوری طور پر تمہیں نوکری کی ضرورت ہے اور یہ جاب حاضر ہے۔ یہاں تمہارا تجربہ یا تعلیم نہیں دیکھی جاتی۔ صرف ایک عدد بائیک اور اسمارٹ فون کی ضرورت ہے۔ جو تمہارے پاس ہے۔ ورنہ ایک انٹر پاس کو کہاں جاب ملے گی؟ اس وقت یہ کام تم ٹیوشن کے ساتھ بھی کر سکتے ہو۔ اور اس کام میں ٹپ بھی بہت اچھی مل جاتی ہے۔ محنت تو ہے مگر تنخواہ کے ساتھ پٹرول کے پیسے بھی مل جاتے ہیں۔ میرا ایک کزن کر رہا ہے۔” پھر جب دو تین جگہ ہاتھ پیر مارنے کے باوجود کہیں جاب نہیں ملی تو مجبوراً یہ جاب قبول کرنی پڑی۔ چاہے یخبستہ راتیں ہوں یا حبس والے گرمی کے دن کام کرنا ہی تھا۔ جو اکثر اس کو کھل جایا کرتا تھا۔ مگر مجبوری تھی۔ اب ساتھ ساتھ وہ دوسری جاب کی تلاش بھی کر رہا تھا۔ جب یہ جاب جوائن کرنے کا وقت آیا تو اس کی چھوٹی بہن ،باقاعدہ رو رہی تھی

“بھائی آپ رہنے دے رہنے دیں۔ یہ کام نہ کریں۔ ہم لوگ زیادہ ٹیوشن پڑھا لیں گے۔ اگر میرے دوستوں نے دیکھا تو مذاق اڑائیں گی۔” اس بات پر امی نے بہن کو بہت ڈانٹا،”کوئی بھی کام خراب نہیں ہوتا بیٹا۔ مذاق اڑانے کی کیا بات ہے؟ بھائ حلال روزی کما رہا ہے۔ لوگوں کی ضرورت پوری کر رہا ہے۔ اس کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے۔ اور عمیر میرے بچے یہ کام شروع کر رہے ہو۔۔۔ مگر کچھ باتیں پہلے سے ہی ذہن میں رکھ لو۔ پہلی بات پوری ایمانداری سے کرنا ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوگا کہ کسی جاننے والے کے گھر بھی ڈلیوری کرنا ہوگی اس وقت پورے اعتماد سے بات کرنا۔ یاد رکھو تم کوئی غلط کام نہیں کر رہے ہو بلکہ ان کی ضرورت پوری کر رہے ہو۔ اس میں شرمانے والی کوئی بات نہیں ہے۔ٹھیک ہے نا ؟ اور دوسری بات جب بھی تمہیں یہ کام بوجھ لگنے لگے تو اسے فورا” چھوڑ دینا۔ کیونکہ جب کام میں دل نہ لگے تو وہ بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لیے اس کو نہ کرنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ٹھیک ہے۔ چلو پھر اللہ کا نام لے کر کام شروع کرو”

اور اس نے کام شروع کر دیا تھا۔ اب تو اسے دو ماہ ہو رہے تھے اگر کوئی اسے بل سے زیادہ پیسے ٹپ کی طور پر دیتا تو اسے بہت گراں گزرتا تھا اور وہ سختی سے منع کر دیا کرتا۔ اس کا بڑا بھائی بھی پارٹ ٹائم جاب کر رہا تھا۔ کسی تعمیراتی کمپنی میں۔ مگر بہت ہی کم پیسے مل رہے تھے۔ پھر بھی اس کی فیس نکل رہی تھی اس لیے وہ راضی تھا۔ پیچھے سے زوردار ہارن کی آواز آئی تو وہ چونکا اور بائک اسٹارٹ کر کے اپنی منزل کی طرف روانہ ہوا۔ جب وہ مطلوبہ بلڈنگ کے سامنے پہنچا تو مغرب کی اذان شروع ہونے میں صرف دو منٹ باقی تھے۔ اس نے گارڈ سے ایف بلاک کے بارے میں پوچھا۔ جب وہ لفٹ میں داخل ہوا تو اذان شروع ہو چکی تھی۔ اس نے 9 نمبر کا بٹن دبایا۔ نویں منزل پر پہنچا اور مطلوبہ فلیٹ کے سامنے جا کر بیل بجائی۔ جب اس کی نظر نام کی تختی پر پڑی تو اسے ایسا لگا جیسے اس کا خون منجمد ہو جائے گا۔شفقت حسین شیخ۔۔۔۔ یہ تو شایستہ باجی کے شوہر کا نام ہے۔ شائستہ باجی اس کی چچا زاد بہن تھی۔ اور اتفاق سے کچھ عرصہ پہلے انھوں نے اپنے نئے فلیٹ میں شفٹ ہونے کا بتایا تھا۔ مگر عمیر کو یہ پتہ ہی نہیں تھا کہ ان کا گھر یہاں ہے۔

“افففف اب کیا ہوگا۔۔ “اس نے اپنا دایاں ہاتھ بغل میں دبایا اور آسانی کی دعا کرنے لگا تھا۔ اس کی امی نے یہی کہا تھا کہ جب بھی کوئی مشکل کھڑی ہو تو اپنا دایاں ہاتھ بغل میں دبا کر دعا پڑھ لیا کرو۔ اس سے انسان کا حوصلہ اور اعتماد بحال ہوتا ہے۔ یہ موسی علیہ السلام کی دعا ہے اور واقعی اس کو سکون ملا ۔ اس نے سوچا اگر انہوں نے پہچان بھی لیا تو اعتماد سے بات کرونگا اور اگر نہیں پہچانا تو خاموش رہوں گا۔ اتنے میں گیٹ کھلا اور شفقت بھائی کی بارعب شخصیت نمودار ہو گئی۔ انہوں نے سلام کا جواب دیتے ہوئے پوچھا ، “اور ینگ مین ٹھیک ہونا۔۔تم بالکل ٹھیک وقت پر پہنچے اور تم نے بہت بڑا مسئلہ حل کر دیا۔ دراصل میری بیگم کا نفلی روزہ ہے اور گیس نہیں آرہی ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ تم آ گئے ہو بہت شکریہ بیٹا۔ ایک منٹ میں ابھی آیا” . انہوں نے سامان پکڑا اور اندر چلے گئے۔ واپس آ کر بل بھی ادا کیا ساتھ میں ایک لفافہ اس کو پکڑا دیا۔

“بیٹا انکار نہ کرنا یہ تمہارے لئے ہے۔ دراصل میں نے پہلے سے ہی سوچ رکھا تھا، کہ اگر ڈلیوری ٹھیک وقت پر ہوئ تو میں لانے والے کو انعام دونگا۔۔ تم نے بر وقت آ کر ایک بہت بڑا مسئلہ حل کر دیا ہے۔ اب یہ انعام تمہارا ہوا۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا ، “پتا ہے نا تمیہں۔۔ بیگم کا روزہ تھا۔ دیر ہوتی تو کتنا بڑا ہنگامہ کھڑا ہو جاتا کیونکہ گیس کی لوڈشیڈنگ ہے” . وہ واقعی بہت خوش نظر آ رہے تھے. “نہیں۔۔ نہیں” اس نے دونوں ہاتھوں اوپر کرتے ہوئے کہا” نہیں سر میں نہیں لے سکتا۔ ” ………. “دیکھو بیٹا پلیز انکار مت کرنا ۔ میں خود دے رہا ہوں نا۔۔” انہوں نے زبردستی اس کے جیب میں لفافہ ڈالتے ہوئے کہا۔ اوہ۔۔۔۔اوکے شکریہ۔۔” شکر ہے کہ میں نے ماسک پہنا تھا۔ اس نے پہلی مرتبہ اس کورونا کی بیماری کا شکر ادا کیا۔ اور یہ بھی اچھا ہوا کہ شائستہ باجی بھی باہر نہیں آئی تھیں۔ اور کوئی بچہ بھی دیکھ لیتا تو شاید پہچان لیتا۔ اس کی نظروں کے سامنے فیس جمع کرنے کی آخری تاریخ بھی لہرا گئی جو صرف تین دن بعد تھی اور ابھی کچھ پیسے کم تھے۔

یہ اللہ کی مدد سمجھتے ہوئے بادل نا خواستہ اس نے قبول کر لیا اور جلدی سے جانے کے لیے پلٹ گیا تاکہ آنکھ میں آنے والے آنسو شفقت بھائی نہ دیکھ لیں۔ وہ چپ چاپ لفٹ کی طرف مڑ گیا۔ ادھر شفقت حسین شیخ مغرب کی نماز کے بعد دو رکعت نفل نماز پڑھ رہے تھے ، کہ اللہ نے ان کی نیکی قبول کرلی تھی۔ اور اللہ کے نام کے پیسے ٹھیک جگہ پہنچے تھے۔ جیسے ہی تنخواہ آتی وہ اس کا دسواں حصہ ایک لفافہ میں ڈال کر، اللہ کے نام سے الگ نکال کر رکھتے اور پھر باقی پیسے استعمال کرتے۔ جیسے ہی ان کے پاس عمیر کا نمبر آیا ، کہ یہ رائیڈر آ رہا ہے۔ تو یہ نمبر تو پہلے ہی ان کی لسٹ میں موجود تھا۔ وہ فورا بات کی تہہ تک پہنچ گئے۔ کیونکہ شائستہ نے بچوں کی جدوجہد کا ذکر کیا تھا تھا ان کے حالات کا ان کو بخوبی اندازہ تب ہی ہو گیا تھا جب وہ وہ عمیر کے والد کی تدفین میں گئے تھے۔ اس لئے انہوں نے وہ لفافہ بل کے ساتھ عمیر کو پکڑا دیا تھا۔ اگر آج عمیر کو نا دیتے تو کہیں مسجد میں یا کسی بھی ضرورت مند کو دے دیتے۔ ہر ماہ اسی طرح کرتے۔

لیکن آج وہ زیادہ خوش تھے ، کیونکہ قریبی رشتہ داروں کو صدقہ دینا اللہ کے نزدیک پسندیدہ عمل ہے۔ اور ادھر عمیر مسجد میں مغرب کی نماز کے بعد نفل ادا کر رہا تھا کہ اللہ کا شکر ہے وہاں کسی نے پہچانا بھی نہیں۔ میرا بھرم رہ گیا اور اللہ نے فیس یکمشت ادا کرنے کا انتظام بھی کر دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں